میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا امکانات کم

آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا امکانات کم

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۶ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈیل کے بعد بھی ایران دعویٰ کررہا ہے کہ اس کے پانی واحد قابل عمل روٹ ہیں۔ اس کے جواب میں جہازوں نے امریکی فوج کی حفاظت میں اومان کے ساحل کے قریب راستوں کا زیادہ استعمال کیا۔اومانی راستے پرانحصار نے ایران کو مشتعل کردیا۔ہفتے کی رات کو امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران پر حملے کئے کیونکہ ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز پر حملہ کیا تھا۔اس طرح امریکی الٹی میٹم کو مسترد کردیا کہ اہم آبی شاہراہ کوٹریفک کیلئے کھول دیا جائے۔ اب آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا امکانات ایرا ن کے حملے کے بعد کم ہوگئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمہ تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔گزشتہ ہفتے کی جنگی کارروائیوں کے بعد صورتحال دھندلی ہو گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیاجہاز چلانے والے امریکہ کی مدد سے اومانی روٹ کب تک استعمال کرتے رہیں گے۔

سعودیز کے لیے امریکی حکومت ناقابل اعتبار
جب سے امریکہ اور اسرائیل نے28 فروری کو ایران پر حملہ کیا ہے،سعودی عرب نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے درمیانی راستہ اختیارکرنے کی کوشش کی۔اس نے امریکہ کی فوجی اور سفارتی مدد کی جس کے نتیجہ میں ایران نے حملہ کردیا۔ لیکن سعودی عرب نے جب امریکی اسرائیلی جارحیت کے نتیجہ میں زیاد ہ خطرات دیکھے تواہم لمحات پر ٹرمپ کی مخالفت کی ۔جب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ڈپلومیسی اختیار کی جس کا مرکزی نکتہ ایران کا ایٹمی پروگرام تھا تو سعودی عرب اپنے اقدامات کرتا رہا،امریکی ترجیحات نظر انداز کرکے دوسرے ممالک سے اپنے تعلقات مضبوط کرتا رہا۔ان ممالک میں چین اور پاکستان شامل ہیں جنہوں نے2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے میں مدد کی۔ سعودی وزیر خارجہ اس ہفتہ چین کا دورہ کریں گے۔

جنگ کے دوران ٹرمپ کیپس و ہیش کرنے کے پیش نظر سعودیز پوچھتے ہیں کہ آیا امریکی مستقبل کے تنازع میں کوئی تحفظ فراہم کرے گا یامناسب فیصلہ کرے گا۔2019 میں وہ ٹرمپ کے بارے میں شک کا اظہار کرنے لگے جب انہوں نے سعودی تیل کے کنوؤں پر حملے کرنے پرایران کے خلاف انتقام لینے سے انکار کردیا۔ سعودی حکام امریکہ ایران معاہدہ کے نتائج کے بارے میں دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے ایران کی تعمیر نو کیلئے کسی فنڈز کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ اس معاہدے میں امریکہ اور اس کے علاقائی پارٹنرز سے فنڈز کا مطالبہ کیا گیاہے۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
آرٹسٹ ،ڈیزائنر اور اداکار یوسف بشیر قریشی کا کہنا ہے کہ خوف ذاتی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ایک حالیہ انٹر ویو کے دوران انہوں نے کہا کہ لوگ ابتدائی عمر سے خوف کے ساتھ رہتے ہیں جو انہیں اپنی پوری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خوفزدہ آدمی کچھ نہیں کر سکتا۔ بچپن سے ہم اسے کہتے ہیں کہ اس چیز سے یا اْس چیز سے دور رہو۔یہ لگاتار انتباہ ہمارے گرد دیواریں کھڑی کرتے ہیں۔ ہمیں بچوں کو محبت اور اعتماد سکھانے کی ضرورت ہے،نہ کہ خوف۔ پرائمری اسکول میں ایک کلاس روم مشق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک استاد نے بورڈ پر لکھا،” Sky is the limit ” ۔ چونکہ حال ہی میں میں نے طیارے کے ذریعہ سفر کیا تھا، میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور اس کی بجائے لکھا،” Sky is the beginning ” ۔

حماقت کو روکا نہیں جا سکتا
یہ سال 2026 ہے۔ ذرا غور کریں،امریکہ میں کیا ہورہا ہے۔ ٹیرف نے قیمتوں میں اضافہ کردیاہے اور اقتصادی ترقی روک دی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے کرپشن اور لوٹ کے نظام کو قبول کرلیا ہے۔دائیں بازو کے نوجوانوں کی ایک پریشان کن تعداد کوفاشزم سے لگاؤ ہو گیا ہے۔34 فی صد نوجوان کمیونزم کو اچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ نوجوان اپنے والدین اور داداؤں کے مقابلے میں سیاسی تشدد کو درست سمجھتے ہیں۔ یہود کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اب دیکھیں دنیا بھر میں کیا ہورہا ہے۔ جرمنی روسی خطرہ کا مقابلہ کرنے کیلئے دوبارہ مسلح ہو رہا ہے۔جاپان چین کو روکنے کیلئے دوبارہ مسلح ہو رہا ہے۔جنگ یورپ اور مشرق وسطیٰ میں جاری ہے۔دنیا کو علاقائی توسیع پسندی کے خطرات کا سامنا ہے۔ روس یوکرین کو ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے۔چین تائیوان پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ٹرمپ انتظامیہ گرین لینڈ پر توسیع پسندانہ نظریں گاڑے ہوئے ہے۔
نیویارک ٹائمز کے کالم نویس ڈیوڈ فرینچ کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ جابرانہ نظام لوگوں میں ایک بار بھر مقبول ہو رہا ہے۔

ترکی کے طیاروں میں نماز کے اوقات کا اعلان
عالمی بینک کے سابق نائب صدر شاہد جاوید برکی کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ پاکستان کا سفر کرتے ہیں تو ٹرکش ائیر لائنز کااستعمال کرتے ہیں۔ جب سے طیب ا ردگان اقتدار میں ہیں،اس امر کی علامات ہیں کہ وہ ترکی کو اس کے ماضی اسلام کی طرف واپس لے جانا چاہتے ہیں۔طیاروں میں ویڈیو سسٹم اڑان کے دوران نماز کے اوقات کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی ہے جب سے کمال اتاترک جمہوریہ کو جنوبی یورپ میں ایک اہم ملک کے طور پر اس کی صورتحال کے مطابق واپس لائے تھے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں