بلال مسجد کے سامنے رہائشی پلاٹ پر کمرشل تعمیرات تیز
شیئر کریں
اورنگزیب رضی اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے تعلقات پر شہری حلقوں میں چہ مگوئیاں
این او سی، نقشے ،قانونی ریکارڈ منظرعام پر لانے ، ڈی جی سے فوری نوٹس کا مطالبہ
…………………….
لطیف آباد یونٹ نمبر 11 میں بلال مسجد کے سامنے واقع ایک رہائشی پلاٹ پر جاری مبینہ کمرشل طرز کی تعمیرات نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹ پر جاری اس تعمیراتی منصوبے کی قانونی حیثیت فوری طور پر واضح کی جائے، کیونکہ بظاہر یہ منصوبہ رہائشی قوانین سے ہٹ کر تجارتی انداز میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔
شہریوں کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے وابستہ تعمیراتی ٹھیکیدار وہی شخص ہے جو مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے لطیف آباد نمبر 4، اجالا گارڈن میں واقع بنگلے کی تعمیر بھی کر رہا ہے۔
اس دعوے کے بعد شہری حلقوں میں مختلف سوالات گردش کر رہے ہیں اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اگر مذکورہ پلاٹ رہائشی حیثیت رکھتا ہے تو اس پر مبینہ کمرشل تعمیرات کی اجازت کس قانون، کس ضابطے اور کس اتھارٹی کے تحت دی گئی؟ کیا متعلقہ نقشہ، این او سی اور دیگر قانونی تقاضے مکمل کیے گئے تھے یا قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام کارروائی قانون کے مطابق ہوئی ہے تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو چاہیے کہ متعلقہ نقشہ، این او سی، منظوری اور دیگر تمام ریکارڈ فوری طور پر منظرِ عام پر لائے تاکہ عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔
علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ لطیف آباد یونٹ نمبر 11، بلال مسجد کے سامنے جاری تعمیراتی منصوبے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام قانونی ریکارڈ کی جانچ کی جائے، اور اگر کسی بھی مرحلے پر بے ضابطگی یا قانون شکنی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


