میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اورنگزیب رضی کے ممکنہ تبادلے کی بازگشت پر ہلچل

اورنگزیب رضی کے ممکنہ تبادلے کی بازگشت پر ہلچل

جرات ڈیسک
پیر, ۱۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور انسپکٹرز کے درمیان الزامات کی جنگ

محکمہ اندرونی کشیدگی کا شکار، غیر قانونی تعمیرات اور کھلی کرپشن پر شہری برہم

 

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) حیدرآباد، بالخصوص لطیف آباد زون، ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے ممکنہ تبادلے کی اطلاعات کے بعد محکمہ میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں،

جبکہ مختلف افسران کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور انسپکٹرز ایک دوسرے پر مبینہ بے ضابطگیوں، اختیارات کے غلط استعمال اور غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

ممکنہ تبادلوں کے پیش نظر بعض افسران مبینہ طور پر ایک دوسرے کے خلاف شکایات اور ریکارڈ اعلیٰ حکام تک پہنچانے میں مصروف ہیں، جس کے باعث محکمہ کا ماحول کشیدہ ہو چکا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں غیر قانونی تعمیرات، بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، تجاوزات اور ناقص نگرانی نے شہر کی منصوبہ بندی کو شدید متاثر کیا ہے ۔

ان کا مؤقف ہے کہ اگر متعلقہ افسران قانون پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کراتے تو آج شہر کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

ذرائع کے مطابق محکمہ کے اندر جاری مبینہ اختلافات نے نہ صرف انتظامی معاملات کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک غیر قانونی تعمیرات، مبینہ کرپشن اور انتظامی غفلت کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہیں ہوگی، اس وقت تک شہر میں تعمیراتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد ممکن نہیں۔

شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف حلقوں نے حکومت سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ اینٹی کرپشن سندھ، نیب اور دیگر متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لطیف آباد سمیت پورے حیدرآباد میں غیر قانونی تعمیرات، مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

اگر تحقیقات میں کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ادارے پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے ۔

(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں