میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آئیں ۔۔۔انقلاب لائیں !!

آئیں ۔۔۔انقلاب لائیں !!

جرات ڈیسک
پیر, ۱۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام

ستار چوہدری

……………..

دنیا کی تاریخ میں بہت سے انقلاب تلواروں نے برپا کیے ، بہت سے قوانین نے جنم دیے اور بہت سی جنگوں نے سرحدیں بدل دیں،
مگر کچھ انقلاب ایسے بھی آئے جنہوں نے انسان کے دل بدل دیے ۔

وہ انقلاب نہ کسی فوج کے مرہون منت تھے ، نہ کسی خزانے کے ، بلکہ ایک اچھے عمل، ایک سچے کردار اور ایک مثبت مثال کے نتیجے میں وجود میں آئے ۔ انسان ہمیشہ مثال سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ، نصیحت سے کم۔ جب وہ کسی کو اچھائی کرتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر بھی ایک خاموش خواہش جنم لیتی ہے کہ شاید اسے بھی ایسا ہی ہونا چاہیے ۔

آج  کا دور رفتار کا دور ہے ۔ ایک خبر چند لمحوں میں براعظموں کا سفر طے کر لیتی ہے ۔ ایک ویڈیو لاکھوں نہیں، کروڑوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک تصویر، ایک جملہ، ایک واقعہ چند گھنٹوں میں پوری دنیا کی گفتگو بن جاتا ہے ۔ اسے ہم "وائرل”ہونے کا نام دیتے ہیں۔ مگر کبھی سوچا ہے کہ آخر زیادہ تر کیا چیز وائرل ہوتی ہے ؟ جھگڑے ، تضحیک، الزام، نفرت، حادثات، سنسنی اور دوسروں کی کمزوریاں۔ گویا ہماری توجہ اکثر ان چیزوں پر مرکوز ہو جاتی ہے جو انسان کو بہتر بنانے کے بجائے اس کے اندر بے حسی، غصہ یا محض وقتی تجسس پیدا کرتی ہیں۔ذرا تصور کیجیے کہ اگر منظر بدل جائے ۔ اگر ہر صبح ہمارے موبائل کی اسکرین پر کسی لڑائی کی ویڈیو کے بجائے ایک نوجوان کی تصویر ہو جو خاموشی سے کسی بوڑھے مسافر کا بوجھ اٹھا رہا ہو۔ اگر لاکھوں لوگ اس شخص کی تعریف کریں جس نے راستے سے پتھر ہٹایا، کسی یتیم کی فیس ادا کی، کسی بیمار کے لیے خون کا عطیہ دیا یا کسی بھوکے کے دروازے پر خاموشی سے راشن رکھ آیا۔ اگر شہرت کا معیار دولت، شور اور تنازع کے بجائے خدمت، دیانت اور ایثار بن جائے تو شاید ہمارے معاشرے کی سمت بھی بدلنے لگے ۔حقیقت یہ ہے کہ انسان فطری طور پر تقلید کرتا ہے ۔

بچے اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، نوجوان اپنے پسندیدہ کرداروں سے اثر لیتے ہیں اور معاشرے اپنی نمایاں شخصیات کے رویوں کی نقل کرتے ہیں۔ اسی لیے جس چیز کو عزت، توجہ اور پزیرائی ملتی ہے ، وہی آہستہ آہستہ معاشرتی روایت بن جاتی ہے ۔ اگر برائی کو غیر معمولی توجہ ملے گی تو وہ پھیلتی محسوس ہوگی، اور اگر نیکی کو عزت ملے گی تو اس کے چرچے بھی دلوں میں اترنے لگیں گے ۔ہمارا المیہ یہ نہیں کہ معاشرے میں اچھے لوگ نہیں رہے ۔

المیہ یہ ہے کہ اچھائی خاموش ہے جبکہ برائی شور مچا رہی ہے ۔ ہزاروں لوگ روزانہ ایسے کام کرتے ہیں جن پر انسانیت کو فخر ہو سکتا ہے ، مگر وہ خبر نہیں بنتے ۔ دوسری طرف ایک منفی واقعہ گھنٹوں تک موضوعِ گفتگو رہتا ہے ۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی نگاہ کا زاویہ بدلیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں اچھائی کو نمایاں کیا جاتا ہے ، وہاں اچھے انسان پیدا ہونے لگتے ہیں، اور جہاں صرف برائی کا چرچا ہو، وہاں مایوسی آہستہ آہستہ اجتماعی مزاج بن جاتی ہے ۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے انقلاب ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں، بلکہ چھوٹے مگر مخلص عمل سے شروع ہوئے ۔ ایک شخص کا کردار کبھی کبھی پوری نسل کی سوچ بدل دیتا ہے ۔ انسان کے اعمال کی تاثیر اس کے حجم میں نہیں، اس کی نیت اور اس کے تسلسل میں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر عظیم تہذیب میں اچھے کردار کو محض ایک ذاتی خوبی نہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر کی بنیاد سمجھا گیا۔اسلام نے بھی نیکی کو صرف عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے زندگی کے ہر شعبے میں پھیلا دیا۔ ایک مسکراہٹ کو صدقہ قرار دیا گیا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا نیکی کہا گیا، پیاسے جانور کو پانی پلانے والے شخص کی مغفرت کی بشارت دی گئی اور ایک بھوکے انسان کو کھانا کھلانے کو عظیم اجر کا ذریعہ بتایا گیا۔

غور کیجیے ، یہ سب ایسے اعمال ہیں جن کے لیے نہ دولت کی ضرورت ہے ، نہ منصب کی اور نہ ہی شہرت کی۔ ان میں صرف ایک زندہ دل اور بیدار ضمیر درکار ہے ۔آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا کہ لوگوں کے دلوں میں اچھائی کی خواہش اب بھی موجود ہے ، مگر اکثر انہیں ایک مثال، ایک تحریک اور ایک آغاز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جب کوئی نوجوان اپنی جیب خرچ سے کسی مستحق طالب علم کی کتابیں خرید کر دیتا ہے ، جب کوئی دکاندار کسی سفید پوش کی عزتِ نفس بچاتے ہوئے خاموشی سے اس کی مدد کرتا ہے ، جب کوئی ڈاکٹر کسی غریب مریض سے فیس لینے سے انکار کر دیتا ہے ، یا جب کوئی استاد اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر کسی بچے کا مستقبل سنوارنے کی کوشش کرتا ہے ، تو یہ سب ایسے چراغ ہیں جن کی روشنی اگر دوسروں تک پہنچے تو بے شمار نئے چراغ روشن ہو سکتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر شہرت کا معیار الٹا ہو گیا ہے ۔ جو جتنا زیادہ شور مچائے ، وہ اتنا زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ جو جتنا بڑا تنازع کھڑا کرے ، وہ اتنا ہی زیادہ زیرِ بحث آتا ہے ۔ لیکن اگر میڈیا، سوشل میڈیا، تعلیمی ادارے اور ہم سب مل کر یہ فیصلہ کر لیں کہ آج سے اچھے انسان بھی خبر ہوں گے ، خدمت بھی سرخی بنے گی، دیانت بھی قابل تعریف ہوگی اور ایثار بھی قابلِ تقلید، تو آنے والی نسلوں کی ترجیحات بدل سکتی ہیں۔

شاید ہمیں ایک نئے مقابلے کی ضرورت ہے ۔ ایسا مقابلہ جس میں لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بھلائی کرنے کے لیے آگے آئیں۔ اگر کسی شہر میں یہ خبر وائرل ہو جائے کہ ایک نوجوان نے اپنے محلے کے تمام یتیم بچوں کی تعلیم کا ذمہ اٹھا لیا ہے ، تو ممکن ہے دوسرے شہر میں کوئی اور شخص بھی یہی ذمہ داری قبول کر لے ۔ اگر ایک تاجر اپنی آمدنی کا کچھ حصہ مستقل غریبوں کے لیے وقف کر دے اور اس کی کہانی لوگوں تک پہنچے ، تو شاید درجنوں تاجر اس کی پیروی کریں۔ اگر کسی طالب علم کی دیانت داری لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لے ، تو ممکن ہے ہزاروں دوسرے طلبہ بھی نقل کے بجائے محنت کو اپنا راستہ بنا لیں۔ نیکی کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے  کہ یہ دل سے دل تک سفر کرتی ہے ، اور ایک روشن دل کئی اور دلوں کو روشن کر سکتا ہے ۔آج ہم میں سے ہر شخص کے ہاتھ میں ایک ایسا ذریعہ ہے جو چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے ۔ اگر ہم روزانہ صرف ایک اچھی خبر، ایک اچھا عمل، ایک اچھا کردار اور ایک اچھی مثال دوسروں تک پہنچانے کا عزم کر لیں تو شاید آہستہ آہستہ ہماری گفتگو کا لہجہ بھی بدل جائے ، ہمارے بچوں کے ہیرو بھی بدل جائیں اور ہماری قوم کی اجتماعی سوچ بھی۔ضروری نہیں کہ ہر انسان کروڑوں روپے خرچ کرے یا کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام دے ۔ کبھی ایک سچا لفظ، ایک مسکراہٹ، ایک معافی، ایک درخت، ایک کتاب، ایک گلاس پانی، ایک ضرورت مند کی خاموش مدد اور ایک ایماندار فیصلہ بھی معاشرے میں ایسی لہر پیدا کر سکتا ہے جس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔۔۔

کاش! وہ دن بھی آئے جب لوگ بے چینی سے اپنے موبائل فون اس لیے کھولیں کہ آج کون سی نئی نیکی وائرل ہوئی ہے ، کس نے کسی اجنبی کے لیے آسانی پیدا کی ہے ، کس نے کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑا ہے ، اور کس نے انسانیت کا سر فخر سے بلند کیا ہے ۔ جس دن ہماری اسکرینوں پر نفرت سے زیادہ محبت، الزام سے زیادہ خدمت اور برائی سے زیادہ نیکی دکھائی دینے لگے گی، شاید اسی دن ہم یہ بھی محسوس کریں گے کہ معاشرے بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے انقلاب ضروری نہیں ہوتے ، بعض اوقات صرف ایک نیکی کا وائرل ہو جانا ہی کافی ہوتا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں