میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
این آئی سی وی ڈی، پرنٹنگ اسکینڈل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

این آئی سی وی ڈی، پرنٹنگ اسکینڈل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

جرات ڈیسک
پیر, ۱۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پرنٹنگ کی سفارش، منظوری، نگرانی اور انتظامی فیصلے کرانے والے افسران کا تحفظ
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیڈ آف اسٹور کو بچا کر ہیلپر اسٹاف کو قربانی کا بکرا بنانے لگے

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز ( این آئی سی وی ڈی) میں 22لاکھ روپے کی پرنٹنگ کے معاملے پر انصاف اور شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

متاثرہ ہیلپر اسٹاف کے مطابق اس معاملے میں صرف نچلے درجے کے ملازمین کو غیرقانونی انکوائری کے ذریعے قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے ، جبکہ وہ افسران جنہوں نے مبینہ طور پر پرنٹنگ کی سفارش، منظوری، نگرانی اور دیگر انتظامی فیصلے کیے، انہیں مکمل طور پر بچایا جا رہا ہے۔

ہیلپر اسٹاف نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی نے جان بوجھ کر ایسی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو ہیڈ آف اسٹور کو تحفظ فراہم کرے اور سارا بوجھ غریب ہیلپر ملازمین پر ڈال دے ؟

اگر ایسا ہے تو یہ اختیارات کے ناجائز استعمال، امتیازی سلوک اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ہیلپر اسٹاف کا کہنا ہے کہ کیا 22لاکھ روپے کی پرنٹنگ صرف ہیلپرز نے کروائی تھی؟

کیا سفارش، منظوری، خریداری، وصولی، اسٹور میں رکھنے اور بعد ازاں پرنٹ شدہ مواد کو ضائع کرنے کے فیصلے بھی ہیلپرز نے کیے تھے ؟اگر پرنٹ شدہ مواد کو جلانے، ضائع کرنے یا تلف کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے تو یہ احکامات کس افسر نے دیے، کس اختیار کے تحت دیے ، اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

اس کا مکمل تعین کیا جانا چاہیے ۔ہیلپر اسٹاف نے الزام عائد کیا ہے کہ اس طرح بااثر افسران کو بچایا جا رہا ہے جبکہ غریب اور کمزور ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جو سراسر ناانصافی ہے۔

ہیلپر اسٹاف نے وزیرِ صحت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے 22 لاکھ روپے کی پرنٹنگ کیس کی اعلیٰ سطحی، آزاد، غیرجانبدار اور شفاف انکوائری کمیٹی تشکیل دیں تاکہ تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جا سکیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں