پنجاب میں زیر زمین پانی کا سنگین بحران،مستقبل میں شدید آبی قلت کی وارننگ
شیئر کریں
حکومت کا 2030 تک پانی کے تحفظ کا جامع منصوبہ، لاہور میں زیرِ زمین پانی کے بحران پر تشویش
موسمیاتی تبدیلی، کم ہوتی بارشوں اور زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کے پیش نظر پنجاب حکومت نے سال 2030 تک پانی کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے جامع اہداف مقرر کیے ہیں۔
ان اہداف میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا شامل ہے تاکہ مستقبل میں پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ حکومت نے واضح اہداف مقرر کیے ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد کی رفتار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ خصوصاً لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے، جس کے باعث شہر کو مستقبل میں شدید آبی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں، ری چارج ویلز، واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز اور پانی کے ضیاع کی روک تھام کے اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق شہری منصوبہ بندی میں پانی کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے،
لہٰذا حکومتی اداروں، نجی شعبے اور شہریوں کو مشترکہ طور پر پانی کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔


