میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تخت، تاج اور مقدس الفاظ طاقت کے سب سے پرانے ہتھیار

تخت، تاج اور مقدس الفاظ طاقت کے سب سے پرانے ہتھیار

جرات ڈیسک
پیر, ۶ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیجیے تو ایک عجیب منظر بار بار سامنے آتا ہے۔ بادشاہ بدلتے ہیں، سلطنتیں بدلتی ہیں، جھنڈے بدلتے ہیں، زبانیں بدلتی ہیں، مگر اقتدار کا ایک پرانا ہنر کبھی نہیں بدلتا: طاقت ہمیشہ اپنے لیے ایک آسمانی جواز تلاش کرتی ہے۔تلوار جانتی ہے کہ صرف  خوف سے حکومت زیادہ دیر نہیں چلتی۔ خوف جسموں کو جھکا سکتا ہے، دلوں کو نہیں۔ اسی لیے تاریخ کے اکثر جابر حکمرانوں نے اپنی حکومت کو  صرف طاقت کے سہارے نہیں بلکہ تقدس کے سہارے بھی قائم رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے عوام سے یہ نہیں کہا کہ ”ہم طاقتور ہیں، اس  لیے حکومت کرتے ہیں”۔ انہوں نے کہا: ”ہم حق پر ہیں، اس لیے حکومت کرتے ہیں”۔
قدیم مصر میں فرعون خود کو دیوتا قرار دیتا تھا۔ اس کے احکامات محض سیاسی فیصلے نہیں بلکہ مقدس فرمان سمجھے جاتے تھے۔ رعایا کے لیے  فرعون کی اطاعت صرف ریاستی ذمہ داری نہیں بلکہ مذہبی فریضہ بن جاتی تھی۔ یوں اقتدار زمین پر بیٹھا ہوتا تھا مگر اس کا سایہ آسمان تک پہنچا دیا جاتا تھا میسوپوٹیمیا کے بادشاہوں نے اپنے قوانین کو خدائی عطیہ قرار دیا۔ قدیم چین میں ”مینڈیٹ آف ہیون” کا نظریہ وجود میں آیا،  جس کے مطابق حکمران آسمان کی مرضی سے حکومت کرتا ہے۔ روم کے شہنشاہوں نے خود کو دیوتاؤں کا نمائندہ کہا، اور بعض اوقات خود دیوتا بن بیٹھے۔ طاقت نے ہر دور میں ایک ہی سبق سیکھا: جب اقتدار کو مقدس بنا دیا جائے تو اس پر سوال اٹھانا گناہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
قرونِ وسطیٰ میں یورپ کی بادشاہتوں نے ”خدائی حقِ حکمرانی” کا نظریہ اختیار کیا۔ بادشاہ محض بادشاہ نہیں رہا بلکہ خدا کا منتخب کردہ نمائندہ  قرار پایا۔ جو تخت کے خلاف بولا، اسے صرف باغی نہیں بلکہ مذہب دشمن سمجھا گیا۔ کلیسا اور تاج کے درمیان ایک خاموش اتحاد قائم ہوگیا۔ ایک ہاتھ میں صلیب تھی اور دوسرے میں تلوار۔ دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے رہے۔اسی دوران دنیا کے مختلف حصوں میں مذہبی شناختیں سیاسی طاقت کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ جنگوں کو مقدس نام دیے گئے، فتوحات کو الٰہی مشن قرار دیا گیا اور مخالفین کو صرف سیاسی  حریف نہیں بلکہ مقدس دشمن بنا دیا گیا۔ جب دشمن کو غیر مقدس قرار دے دیا جائے تو پھر اس کے خلاف ہر ظلم جائز محسوس ہونے لگتا ہے۔

تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اکثر حکمرانوں نے مذہب کو اخلاقیات کی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ اقتدار کے ہتھیار کے طور پر پڑھا۔ انہوں نے مذہب کے ان حصوں کو نمایاں کیا جو اطاعت سکھاتے تھے، مگر ان حصوں کو پس منظر میں دھکیل دیا جو انصاف، احتساب اور مساوات کا  درس دیتے تھے۔ وہ لوگوں کو فرمانبرداری یاد دلاتے رہے، مگر حکمران کی ذمہ داری بھلا دی گئی۔نوآبادیاتی دور میں بھی منظر زیادہ مختلف نہ تھا۔

یورپی طاقتوں نے دنیا کے بڑے حصے پر قبضہ کیا اور اپنے سیاسی و معاشی مفادات کو تہذیب، مشن اور مقدس فریضے کے ناموں سے پیش کیا۔  لوٹ مار کو ترقی کہا گیا، قبضے کو تہذیب کا پھیلاؤ قرار دیا گیا اور طاقت کو اخلاقی برتری کا لباس پہنایا گیا۔جدید دور میں اگرچہ تاج اور تخت کی  شکلیں بدل گئیں، مگر اقتدار کا پرانا ہنر زندہ رہا۔ اب بہت سی ریاستیں مذہب کے بجائے قوم پرستی، نظریات یا انقلابی نعروں کو مقدس بنا دیتی ہیں۔ مگر اصول وہی رہتا ہے: طاقت کو کسی ایسے عقیدے کی ضرورت ہوتی ہے جس پر عوام سوال نہ کریں۔ کبھی مذہب استعمال ہوتا ہے، کبھی قوم، کبھی نسل، کبھی انقلاب اور کبھی سلامتی کا بیانیہ۔ مقصد ایک ہی ہوتا ہے: اقتدار کو تنقید سے محفوظ بنانا۔فلسفیوں نے بارہا خبردار کیا کہ جب کوئی طاقت خود کو مقدس قرار دے دیتی ہے تو ظلم کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔ کیونکہ مقدس چیزوں سے سوال نہیں کیے جاتے۔ اور جہاں  سوال مر جائیں، وہاں آزادی بھی زیادہ دیر زندہ نہیں رہتی۔لیکن تاریخ کا دوسرا رخ بھی موجود ہے، اور یہی رخ انسانیت کی امید ہے۔ وہی  مذہب جسے بعض حکمرانوں نے اقتدار کے لیے استعمال کیا، اسی مذہب سے بے شمار لوگوں نے ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کی۔ انبیاء، مصلحین، صوفیاء، مفکرین اور حق گو انسان اکثر طاقت کے سامنے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے حکمرانوں کو یاد دلایا کہ مذہب تخت کا محافظ نہیں بلکہ مظلوم کا سہارا ہونا چاہیے۔اصل مسئلہ مذہب نہیں تھا، مسئلہ ہمیشہ طاقت کی بھوک تھی۔ کیونکہ طاقت ایک ایسی آگ ہے جو ہر چیز کو  اپنے ایندھن میں بدل سکتی ہے۔ وہ قانون کو استعمال کرتی ہے، نظریات کو استعمال کرتی ہے، قومیت کو استعمال کرتی ہے اور موقع ملے تو  مذہب کو بھی استعمال کرتی ہے۔ اس کے لیے مقدس الفاظ بھی محض سیاسی وسائل بن جاتے ہیں۔انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سبق شاید
یہی ہے کہ جب بھی کوئی حکمران اپنے اقتدار کو آسمانی رنگ دینے لگے، جب بھی کوئی حکومت خود کو تنقید سے بالاتر ثابت کرنے لگے، جب  بھی مقدس الفاظ سیاسی مفادات کی ڈھال بننے لگیں، تو معاشروں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ اس مقام پر مذہب کم اور طاقت زیادہ بول رہی ہوتی ہے۔تاریخ کے قبرستان گواہ ہیں کہ تخت ہمیشہ عارضی رہے ہیں، سلطنتیں ہمیشہ مٹی میں ملی ہیں، تاج ہمیشہ گر گئے ہیں۔ مگر سچائی کا  ایک اصول ہر دور میں زندہ رہا ہے: جو طاقت خود کو مقدس بنا لیتی ہے، وہ آخرکار انسان کو غیر مقدس سمجھنے لگتی ہے۔ اور جب انسان کی حرمت ختم ہوجائے تو تہذیب کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔اسی لیے آزاد معاشروں کی بقا اس میں نہیں کہ وہ مذہب کو رد کر دیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کسی بھی طاقت کو مقدس نہ بننے دیں۔ کیونکہ جہاں طاقت مقدس بن جاتی ہے، وہاں انسان غیر اہم ہوجاتا ہے۔ اور جہاں انسان غیر اہم  ہوجائے، وہاں تاریخ ایک بار پھر ظلم کی طرف لوٹنے لگتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ صرف سیاسی بحرانوں، آئینی تنازعات اور اقتدار کی کشمکش کی تاریخ نہیں ہے۔ یہ اس سوال کی تاریخ بھی ہے کہ  ریاست، مذہب اور طاقت کا تعلق کیا ہونا چاہیے تھا اور کیا بن گیا۔1947ء میں یہ ملک ایک عظیم خواب کے ساتھ وجود میں آیا تھا۔ لاکھوں  لوگوں نے قربانیاں دیں، ہجرتیں کیں، گھر چھوڑے اور خون بہایا۔ ان کے دلوں میں انصاف، وقار، تحفظ اور بہتر مستقبل کی امید تھی۔ مگر ریاست کے ابتدائی برسوں ہی میں اقتدار کے ایوانوں نے محسوس کر لیا کہ مذہب ایک ایسی قوت ہے جو عوام کے جذبات کو تیزی سے متحرک  کر سکتی ہے۔ چنانچہ رفتہ رفتہ مذہب صرف روحانی اور اخلاقی رہنمائی کا سرچشمہ نہیں رہا بلکہ سیاسی کشمکش کا ایک اہم ہتھیار بھی بنتا گیا۔

پاکستان میں ہر دور کے حکمرانوں نے مذہب کو ایک جیسی شدت سے استعمال نہیں کیا، مگر تقریباً ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں مذہبی جواز
کی تلاش دکھائی دیتی ہے۔ کبھی مخالفین کو کم تر مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، کبھی اپنے اقتدار کو نظریاتی محافظ قرار دیا گیا، کبھی قومی ناکامیوں کو مذہبی نعروں کے شور میں چھپانے کی کوشش ہوئی اور کبھی عوامی مسائل کے بجائے عقیدے کے نام پر جذباتی بحثوں کو ترجیح دی گئی۔اس سارے عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مذہب، جو انسان کے اخلاقی ارتقا، انصاف، دیانت اور احتساب کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، اکثر سیاسی طاقت کی کشمکش میں الجھ گیا۔ غربت، جہالت، بدعنوانی، ناانصافی، جاگیرداری، خاندانی سیاست اور ادارہ جاتی کمزوری جیسے مسائل پس منظر میں چلے گئے جبکہ مذہبی نعرے پیش منظر میں آتے رہے۔پاکستانی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں اقتدار کی تقریباً ہر قوت نے اپنے آپ کو قومی مفاد اور نظریاتی بقا کا آخری محافظ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ سیاست دانوں نے بھی، غیر سیاسی طاقتوں نے بھی، مذہبی گروہوں نے بھی اور اشرافیہ نے بھی۔ ہر ایک نے خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا، مگر عام آدمی کی زندگی اکثر ویسی ہی رہی: مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور ناامیدی سے بھری ہوئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کمزور ہوتا گیا۔ عوام کو بار  بار بتایا گیا کہ ملک خطرے میں ہے، نظریہ خطرے میں ہے، مذہب خطرے میں ہے، مگر یہ کم بتایا گیا کہ سب سے بڑا خطرہ ناانصافی، کرپشن،  جہالت اور قانون کی کمزوری ہے۔ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ اداروں سے مضبوط ہوتی ہیں، اور ادارے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب  احتساب سب کے لیے برابر ہو۔پاکستانی سماج میں مذہب آج بھی ایک طاقتور اخلاقی قوت بن سکتا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب اسے اقتدار کے کھیل سے الگ رکھا جائے۔ جب مذہب حکمران کے لیے ڈھال بن جاتا ہے تو اس کی اخلاقی طاقت کمزور ہونے لگتی ہے۔ اور جب مذہب مظلوم، کمزور اور محروم انسان کے حق میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ شاید ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ کسی بھی قوم کی نجات مقدس نعروں کی کثرت میں نہیں بلکہ انصاف کی فراوانی میں ہوتی ہے۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب حکمران خود کو مقدس نہیں بلکہ جواب دہ سمجھیں، جب اختلاف کو غداری نہ کہا جائے، جب تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور جب مذہب کو اقتدار کے زینے کے بجائے اخلاقیات کے آئینے کے طور پر دیکھا جائے۔آج اگر پاکستان اپنے ماضی سے کوئی سبق سیکھ  سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ طاقت اور تقدس کا ملاپ ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب اقتدار خود کو مقدس ثابت کرنے لگتا ہے تو احتساب کمزور ہو جاتا ہے، اور جب احتساب کمزور ہو جائے تو ریاستیں اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہیں۔تاریخ کے اوراق پر لکھی سب سے تلخ  سچائی یہی ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان اپنے دشمنوں نے نہیں پہنچایا، بلکہ ان لمحوں نے پہنچایا جب طاقت نے خود کو سچائی سے بڑا  سمجھ لیا، اور جب مقدس الفاظ کو عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی حفاظت کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہی وہ لمحے تھے جنہوں نے قوم کے  خوابوں کو دھندلا دیا، اداروں کو کمزور کیا اور عوام کے اعتماد کو زخمی کر دیا۔اور شاید یہی وہ لمحے ہیں جن سے سبق سیکھے بغیر کوئی بھی قوم اپنے  مستقبل کی تعمیر نہیں کر سکتی۔یہ تحریر ایک عمومی تاریخی و سماجی تجزیہ ہے۔ کسی خاص جماعت، ادارے یا فرد کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں بلکہ  پاکستانی تاریخ میں طاقت، نظریے اور مذہبی جواز کے باہمی تعلق پر ایک فکری و ادبی غور و فکر ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں