محکمہ لائیو اسٹاک اہم ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرنے میں ناکام
شیئر کریں
کراچی فش ہاربر کی بحالی، سانپ ڈسنے کی ویکسین کی لیبارٹری کئی سال سے کھٹائی کا شکار
فش ہاربر کی بحالی اور بہتری کی اسکیم13سال گزرنے کے باوجود بھی مکمل نہیں کی جا سکی
محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز اہم ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرنے میں ناکام ہو گیا، کراچی فش ہاربر کی بحالی، سانپ ڈسنے کی ویکسین کی لیبارٹری سمیت دیگر اسکیمیں کئی سال سے کھٹائی کا شکار ہو گئیں۔
جرأت کی رپورٹ کے مطابق کراچی فش ہاربر کی بحالی اور بہتری کے لئے اسکیم سال 2013میں شروع کی گئی، دو ارب 77 کروڑ روپے کی اسکیم کے لئے آئندہ مالی سال میں صرف 31 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،
کراچی فش ہاربر کی بحالی اور بہتری کی اسکیم پر 62فیصد کام مکمل ہوا ہے اور 28فیصد کام ابھی ہونا ہے ، 13 سال گزرنے کے باوجود اسکیم کو مکمل نہیں کیا گیا اور ابھی اسکیم کو مکمل کرنے میں وقت درکار ہے ۔
ہاکس بے ، کینجھر اور منچھر جھیل پر مچھیروں کے لئے ماڈل ولیج بنانے کی اسکیم سال 2007میں شروع کی گئی، صرف 48کروڑ روپے کی اسکیم پر 96فیصد کام مکمل ہوا ہے اور آئندہ برس کے دوران ایک لاکھ روپے مختص ہوئے ہیں جس سے اسکیم کا مکمل ہونا غیر یقینی ہے ۔
حکومت سندھ نے سال 2006میں اسٹیلبشمنٹ آف اینٹی سنیک وینم اینڈ اینٹی ریبیز سیرولوجی لیبارٹری بنانے کی اسکیم شروع کی، اسکیم دو ارب 66 کروڑ روپے کی ہے اور 19 سال کے دوران اسکیم 57فیصد مکمل ہوئی ہے ، آئندہ مالی سال کے دوران اسکیم کے لئے 9کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، اسکیم پر کام کی رفتار سے واضح ہے کہ سندھ میں سانپ ڈسنے کے بعد ویکسین بنانے کی لیبارٹری کو مکمل ہونے میں ابھی بھی کئی سال درکار ہیں۔
محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز نے ٹھٹھہ میں بھمبھور ڈیری ولیج اور گوشت کی پروسیسنگ زون قائم کرنے کی اسکیم سال 2012میں شروع کی، اسکیم دو ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونی ہے اور آئندہ برس کے دوران اسکیم کے لئے صرف ایک لاکھ روپے مختص ہوئے ہیں، اسکیم پر 14 سال کے دوران صرف 22فیصد کام ہو سکا ہے اور اسکیم کو مکمل کرنے میں ابھی کئی سال لگیں گے ۔


