حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!
شیئر کریں
محمد آصف
انسانی معاشرے کی اصل خوبصورتی اس کی مادی ترقی، سائنسی ایجادات یا معاشی خوش حالی میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور حیا میں
پوشیدہ ہوتی ہے ۔ جب کسی قوم کے افراد حیا، عفت، شرم و حیا، پاکیزگی اور اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں تو وہ قوم عزت، وقار
اور استحکام حاصل کرتی ہے ، لیکن جب حیا معاشرے سے رخصت ہونے لگتی ہے تو اخلاقی زوال، خاندانی انتشار، بے راہ روی، جرائم، بے
سکونی اور روحانی پستی اس کا مقدر بن جاتے ہیں۔
اسلام نے حیا کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا ہے ۔ حیا انسان کے اندر وہ اخلاقی قوت پیدا کرتی ہے جو اسے ہر برائی، بے حیائی، ظلم،
خیانت اور گناہ سے روکتی ہے ۔ حضور اکرم ۖ نے فرمایا”الحَیَائُ شُعْبَة مِنَ الِیمَانِ”یعنی”حیا ایمان کی ایک شاخ ہے” ۔ اس حدیث سے
واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور حیا کا تعلق ایک دوسرے سے اس قدر مضبوط ہے کہ اگر حیا ختم ہو جائے تو ایمان کی روشنی بھی مدھم ہونے لگتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مرد و عورت دونوں کو نگاہوں کی حفاظت، لباس کی پاکیزگی، گفتار کی شائستگی، کردار کی بلندی اور تعلقات کی حدود
قائم رکھنے کا حکم دیا تاکہ معاشرہ پاکیزگی کا گہوارہ بن سکے ۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ”قُل لِّلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ” (النور:30) یعنی”ایمان والے مردوں
سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں”۔اسی طرح اگلی آیت میں ایمان والی خواتین کو بھی یہی حکم دیا
گیا ہے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حیا صرف لباس کا نام نہیں بلکہ نگاہ، زبان، دل، خیالات، گفتگو، طرزِ عمل اور پوری شخصیت کی
پاکیزگی کا نام ہے ۔ اگر انسان کی نگاہ پاک ہو جائے تو اس کے خیالات پاک ہو جاتے ہیں، خیالات پاک ہوں تو اعمال بھی پاکیزہ ہو
جاتے ہیں اور یہی پاکیزگی ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتی ہے ۔
آج کا دور سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، فیشن، فلموں، ڈراموں اور مغربی تہذیب کے بے پناہ اثرات کا دور ہے ۔نوجوان ہر لمحہ ایسے
ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بے حیائی کو آزادی، فیشن کو تہذیب، اور اخلاقی حدود سے تجاوز کو ترقی کا نام دیا جاتا ہے ۔
اشتہارات، ویب سیریز، مختصر ویڈیوز اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر ایسے مناظر عام ہیں جو انسان کی حیا کو مجروح کرتے ہیں۔ اگر
نوجوان کے دل میں اللہ کا خوف اور حیا کی دولت موجود نہ ہو تو وہ ان فتنوں کا آسان شکار بن سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج والدین،
اساتذہ، علماء اور معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کرے تاکہ وہ زمانے کے
فتنوں کا مقابلہ کر سکیں۔
اسلام نوجوانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتا ہے ۔ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان کے اندر قوت، صلاحیت، جذبہ، عزم اور ہمت اپنے
عروج پر ہوتی ہے ۔ اگر یہی جوانی عبادت، علم، خدمت، محنت، کردار سازی اور انسانیت کی بھلائی میں صرف ہو تو دنیا و آخرت دونوں سنور
جاتی ہیں۔ لیکن اگر یہی جوانی خواہشات، گناہوں، بے حیائی، منشیات، فضول مشاغل اور اخلاقی گراوٹ میں ضائع ہو جائے تو پوری زندگی
پشیمانی میں گزر سکتی ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی جوانی کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا
کہ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
اسلامی تاریخ ایسے نوجوانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی پاکیزہ جوانی سے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ حضرت علی کم عمری میں ایمان
لے آئے ، حضرت اسامہ بن زید نوجوانی میں ایک عظیم لشکر کے سپہ سالار بنے ، حضرت مصعب بن عمیر نے اپنی آسائشیں چھوڑ کر اسلام کی
دعوت کے لیے اپنی جوانی قربان کر دی، جبکہ حضرت یوسف نے شدید آزمائش کے باوجود حیا، پاکدامنی اور تقویٰ کو اختیار کیا۔ جب عزیزِ
مصر کی بیوی نے گناہ کی دعوت دی تو حضرت یوسف نے فرمایا”مَعَاذَ اللّٰہِ” یعنی ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں”۔یہی حیا اور تقویٰ بعد میں ان کی
عزت، اقتدار اور کامیابی کا سبب بنا۔
حیا صرف خواتین کا زیور نہیں بلکہ مردوں کی بھی شان ہے ۔ اسلام مرد کو بھی نظریں نیچی رکھنے ، لباس میں وقار اختیار کرنے ، گفتگو میں
شائستگی اپنانے اور کردار کی پاکیزگی برقرار رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔ اگر معاشرے کے مرد باحیا ہوں تو خواتین خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں،
خاندان مضبوط ہوتے ہیں، بچوں کی تربیت بہتر ہوتی ہے اور معاشرے میں اعتماد اور سکون پیدا ہوتا ہے ۔
جدید دور میں نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج موبائل فون اور سوشل میڈیا کا غیر محتاط استعمال ہے ۔ اگریہی ذرائع علم، تحقیق،
دعوت، تعلیم اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہوں تو یہ اللہ کی نعمت ہیں، لیکن اگر ان کے ذریعے فحاشی، وقت کا ضیاع، جھوٹ، غیبت، غیر
اخلاقی تعلقات اور بے حیائی کو فروغ دیا جائے تو یہی وسائل اخلاقی تباہی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان اپنی آن
لائن زندگی میں بھی وہی حیا اختیار کریں جو حقیقی زندگی میں مطلوب ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کو دیکھتا ہے ۔
حیا کی حفاظت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے ۔ والدین اگر خود باحیا زندگی گزاریں، اولاد کی دینی تربیت کریں، قرآن سے تعلق پیدا کریں،
نماز کی پابندی سکھائیں، اچھے دوستوں کا انتخاب کروائیں اور ان کی اخلاقی نگرانی کریں تو نوجوانوں کے اندر مضبوط کردار پیدا کیا جا سکتا
ہے ۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے کردار سازی، اخلاقی تربیت، قومی خدمت اور دینی شعور کو بھی اپنی ترجیحات
میں شامل کرنا چاہیے ، کیونکہ علم اگر کردار سے خالی ہو تو وہ معاشرے کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔
حیا انسان کو صرف گناہوں سے نہیں بچاتی بلکہ اس کی شخصیت کو باوقار بھی بناتی ہے ۔ باحیا انسان کی گفتگو میں شائستگی، نگاہ میں پاکیزگی،
لباس میں وقار، معاملات میں دیانت اور تعلقات میں احترام ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ معاشرے میں اعتماد، محبت اور عزت حاصل کرتے ہیں۔
اس کے برعکس بے حیائی انسان سے اس کا وقار، سکون، عزت اور روحانی نور چھین لیتی ہے ۔
آج جب دنیا مختلف اخلاقی بحرانوں سے گزر رہی ہے تو نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ اپنے ایمان، حیا اور
کردار کی حفاظت کریں۔ یہی حقیقی آزادی ہے ، یہی اصل کامیابی ہے اور یہی دنیا و آخرت کی سعادت کا راستہ ہے ۔ شاعر کی دعا دراصل ہر
والدین، استاد، عالم اور خیر خواہ کے دل کی آواز ہے کہ اگرچہ زمانہ بے حیائی کی طرف بڑھ رہا ہے ، لیکن ہماری نوجوان نسل اپنے کردار،
ایمان اور حیا کی حفاظت کرے ۔ یہی پاکیزہ جوانی مستقبل کے صالح معاشرے ، مضبوط خاندان، محفوظ تہذیب اور کامیاب امت کی ضمانت
ہے ۔ جب نوجوان اپنی نگاہوں، خیالات، زبان، کردار اور اعمال کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھال لیتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو
بے داغ بناتے ہیں بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس لیے ہر نوجوان کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ اپنی جوانی
کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھے گا، حیا کو اپنی زینت بنائے گا، تقویٰ کو اپنا شعار بنائے گا اور ایسے کردار کا مالک بنے گا جس پر دنیا بھی فخر کرے اور
آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہو۔ یہی اس کا حقیقی مفہوم، اس کا ابدی پیغام اور ایک باوقار اسلامی زندگی کا روشن راستہ ہے ۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ


