علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح
شیئر کریں
محمد آصف
برصغیر کی فکری و تہذیبی تاریخ میں جب بھی زوال، غلامی اور فکری انتشار کی بات آتی ہے تو علامہ محمد اقبال کا نام ایک ایسی آواز کے طور پر
ابھرتا ہے جو محض شاعر نہیں بلکہ ایک فکری معمار اور روحانی مصلح تھے ۔ ان کے اشعار میں جہاں امتِ مسلمہ کے عروج کی تمنا ہے وہیں زوال
کے اسباب کی نشاندہی بھی بڑی بے باکی سے کی گئی ہے ۔ زیرِ نظر اشعار دراصل اسی فکری بیداری کا اعلان ہیں، جن میں اقبال نے یہ بتایا
ہے کہ اگر کسی قوم کو کمزور کرنا ہو تو اس کی روح، اس کی روایت، اس کی غیرت اور اس کی فکری بنیادوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زناریوں کو دیرِ کہن سے نکال دو
اس شعر میں اقبال ایک علامتی انداز اختیار کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب مذہبی طبقہ اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر اقتدار کی کشمکش میں
الجھ جائے تو نہ سیاست پاک رہتی ہے اور نہ مذہب کی حرمت باقی رہتی ہے ۔ برہمن یہاں محض ایک مخصوص مذہبی طبقے کا استعارہ نہیں بلکہ ہر
اس مذہبی پیشوا کی علامت ہے جو دین کو سیاست کا آلہ بنا دے ۔ اسی طرح زناریوں کو دیرِ کہن سے نکال دو میں اقبال اس بات کی طرف
اشارہ کرتے ہیں کہ جب مذہب کی اصل روح کو اس کے مرکز سے جدا کر دیا جائے تو وہ محض رسم و رواج کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے ۔ گویا
قوموں کو کمزور کرنے کا پہلا ہتھیار یہ ہے کہ ان کے مذہبی مراکز کو سیاست کی آلودگی میں مبتلا کر دیا جائے ۔
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدۖ اس کے بدن سے نکال دو
یہاں اقبال ایک ایسے درویش، مجاہد اور مومن کی تصویر کھینچتے ہیں جو غربت و فاقہ کے باوجود باطل قوتوںسے نہیں ڈرتا، کیونکہ اس کے
اندر عشقِ رسولۖ اور روحِ محمدیۖ کی حرارت موجود ہے ۔ اقبال کا پیغام واضح ہے کہ اگر کسی مسلمان سے اس کی روحانی وابستگی، اس کا عشقِ
مصطفیٰۖ اور اس کی ایمانی حرارت چھین لی جائے تو وہ محض ایک کمزور اور بے سمت انسان بن جاتا ہے ۔ استعمار کی سب سے بڑی کوشش یہی
رہی کہ مسلمانوں کے دلوں سے سیرتِ نبویۖ کی تاثیر اور روحانی تعلق کو کمزور کر دیا جائے ، تاکہ وہ مزاحمت کی طاقت سے محروم ہو جائیں۔
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
یہاں اقبال مغربی استعمار کی فکری یلغار کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ صرف فوجی طاقت سے قومیں مغلوب نہیں ہوتیں
بلکہ فکری غلامی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔ فکرِ عرب اسلام کی اصل روح اور اس کی ابتدائی سادگی و خلوص کی علامت ہے ، جبکہ فرنگی
تخیّلات مغربی مادیت، قوم پرستی اور لادینیت کے نظریات کا استعارہ ہیں۔ اقبال خبردار کرتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنی فکری بنیادیں چھوڑ کر
مغربی افکار کو بلا تنقید قبول کر لیں تو اسلام اپنی جغرافیائی اور روحانی بنیاد سے کٹ جائے گا۔ حجاز و یمن کا ذکر دراصل اس سرچشمے کی یاد دہانی
ہے جہاں سے اسلام کی روشنی پھوٹی تھی۔ اگر اس روشنی کو اس کے منبع سے جدا کر دیا جائے تو اندھیرا ہی باقی رہ جائے گا۔
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
افغان قوم تاریخی طور پر اپنی دینی غیرت، آزادی پسندی اور مزاحمتی کردار کے لیے مشہور رہی ہے ۔ اقبال سمجھتے تھے کہ اس غیرت کی بنیاد
ان کے مذہبی شعور اور علما کے اثر میں پوشیدہ ہے ۔ اگر اس طبقے کو ان کے معاشرے سے الگ کر دیا جائے تو ان کی مزاحمتی روح کمزور پڑ
جائے گی۔ یہ شعر دراصل اس عمومی اصول کی طرف اشارہ ہے کہ جب کسی قوم کے فکری و دینی رہنما کو بے اثر کر دیا جائے تو اس کی اجتماعی
غیرت اور خودداری بھی متاثر ہوتی ہے ۔
اہلِ حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو
اہلِ حرم سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین کی اصل روایت کے امین ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر ان سے ان کی روایات، اقدار اور تہذیبی
شناخت چھین لی جائے تو وہ اپنی اصل سے محروم ہو جائیں گے ۔ آہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو ایک نہایت حسین تمثیل ہے ۔ جس طرح ہرن
کو اس کے فطری ماحول سے نکال دیا جائے تو وہ اپنی تازگی اور خوبصورتی کھو دیتا ہے ، اسی طرح اگر کسی قوم کو اس کی تہذیبی زمین سے جدا کر
دیا جائے تو وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے ۔ اقبال یہاں تہذیبی خودی کی حفاظت کا پیغام دے رہے ہیں۔
اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو!
یہ دراصل طنزیہ انداز میں کہا گیا شعر ہے ۔ اقبال جانتے تھے کہ ان کی شاعری امت کو بیدار کر رہی ہے ، اس لیے اگر کوئی قوت مسلمانوں
کو غفلت میں رکھنا چاہتی ہے تو اسے اقبال جیسی آوازوں کو خاموش کرنا ہوگا۔لالے کی آگ ان کے کلام کی حرارت اور انقلاب انگیزی کی
علامت ہے ۔ گویا اقبال اپنی شاعری کو محض ادب نہیں بلکہ ایک تحریک سمجھتے ہیں۔ ان تمام اشعار کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ قوموں کو کمزور کرنے
کے لیے سب سے پہلے ان کی روح، ان کی روایت، ان کی فکری بنیاد اور ان کی تہذیبی شناخت پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ جب مذہب سیاست کا
کھیل بن جائے ، جب عشقِ رسولۖ کمزور ہو جائے ، جب مغربی افکار بلا تنقید قبول کر لیے جائیں، جب دینی رہنما بے اثر کر دیے جائیں اور
جب تہذیبی روایات چھین لی جائیں تو قومیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ اقبال کا درد یہی تھا کہ مسلمان اپنی اصل سے دور ہو کر محض نام
کے مسلمان نہ رہ جائیں۔
آج کے دور میں بھی یہ اشعار غیر معمولی معنویت رکھتے ہیں۔ گلوبلائزیشن، میڈیا اور فکری یلغار کے اس زمانے میں مسلمان نوجوانوں
کے سامنے بے شمار نظریات اور تصورات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اگر وہ اپنی فکری بنیادوں سے مضبوط تعلق نہ رکھیں تو ان کی شناخت متزلزل
ہو سکتی ہے ۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل طاقت ظاہری وسائل میں نہیں بلکہ روحانی وابستگی، تہذیبی شعور اور فکری خودمختاری میں ہے ۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقبال کے پیغام کو محض شاعری سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ اسے ایک فکری منشور کے طور پر قبول کریں۔ ہمیں اپنی
دینی روح، اپنی تہذیبی روایت اور اپنی فکری آزادی کی حفاظت کرنی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو دوبارہ عروج کی طرف لے جا سکتا
ہے ۔ اقبال کا پیغام دراصل خودی کی بیداری، عشقِ رسولۖ کی تجدید اور فکری استقلال کا پیغام ہے ۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں تو کوئی طاقت
ہمیں ہمارے مرکز سے جدا نہیں کر سکتی۔


