تجاوزات سے ضلع وسطی کے مکینوں کی زندگی اجیرن
شیئر کریں
سڑکوں، فٹ پاتھ اور سروس روڈ پر خلاف قانون کاروباری سرگرمیاں عروج پر
عدالتی احکامات ، انتظامی فیصلے ،کمشنر و ڈپٹی کمشنرز کی خصوصی مہم موثر ثابت نہ ہو سکیں
عدالتی احکامات ہوں یا انتظامی فیصلے ۔ کمشنر و ڈپٹی کمشنرز کی خصوصی مہم ہوں یا پھر ٹاؤن انتظامیہ کی پھرتیاں، ضلع وسطی کے مکینوں کو تجاوزات کے عفریت سے نجات نہ مل سکی ،پورے ضلع وسطی خاص طور پر نیوکراچی اور نارتھ کراچی میں سڑکوں، فٹ پاتھ اور سروس روڈ پر خلاف قانون کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ نارتھ کراچی میں دو منٹ چورنگی تا پاؤر ہاوس چورنگی ، ناگن چورنگی سے یو پی موڑ، یو پی سوسائٹی سے کالا اسکول،دو منٹ چورنگی سے اللہ والی شاید ہی کوئی ایسی جگہ بچی ہو، جہاں مافیا نے قبضہ کرکے پٹھارے اور کیبن لگواکر کاروباری سرگرمیاں نہ کرائی ہوں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل لاک ڈاون کے دوران سرکار کو کروڑوں روپے ٹیکس دینے والے تاجروں دکانداروں اور ہوٹل مالکان کو رات 10بجے بعد کاروبار کی اجازت نہیں تھی تاہم سڑکوں اور فٹ پاتھ پر قبضہ اور کنڈے کی بجلی کے ساتھ کاروبار کرنے والی یہ مافیا مادر پدر آزاد ہوکر رات گئے تک کاروبار میں مصروف رہتی ہے۔ واضح رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ٹاؤن کے محکمہ کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے لیے بلدیہ عظمی کراچی کا اہم ترین محکمہ انسداد تجاوزات موجود ہے جس کے ہر ضلع میں افسران اور ماتحت عملے کی کثیر تعداد تعینات ہے جو کہ ضلع وسطی خاص طور پر نارتھ کراچی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔(نمائندہ جرأت)


