میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مودی کیلئے نیا خطرہ، کاکروچ پارٹی

مودی کیلئے نیا خطرہ، کاکروچ پارٹی

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۴ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

بھارت میں نوجوانوں کی ایک ابھرتی ہوئی تحریک”کاکروچ جنتا پارٹی” مودی حکومت کے لیے ایک نئے سیاسی چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جبکہ عالمی میڈیا بھی اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثرات پر توجہ دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک آن لائن میم کے طور پر شروع ہونے والی یہ جین زی تحریک اب عملی احتجاجی سرگرمیوں کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ تحریک بھارت کی سیاست پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ پلیٹ فارم لاکھوں ایسے بھارتی نوجوانوں کی نمائندگی کر رہا ہے جو معاشی مشکلات، بے روزگاری اور مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔دہلی میں ایک احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ بھارتی نوجوان اپنے حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے ایک طبقے کو امید ہے کہ نیپال اور سری لنکا کی طرح بھارت میں بھی ایک وسیع عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے جو نوجوان نسل کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرے گی۔ یہ تحریک بے روزگاری، مایوسی اور سماجی و معاشی چیلنجز کے خلاف نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے ردعمل کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی نسل روایتی سیاسی بیانیوں کے بجائے اپنے روزمرہ مسائل کے حل کو ترجیح دے رہی ہے۔
پچھلے 12 سالوں میں بھارت کی سیاست کو ہندو مسلم ایجنڈے تک محدود ہیکاکروچ جنتا پارٹی نے مودی کو ہندو مسلم کارڈ مزید استعمال نہ کرنیکی وارننگ دے دی۔بھارت میں نوجوان احتجاجی تحریک مودی کی12سال کی حکمرانی کیخلاف سب سے بڑی آواز بن گئی، کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی کو ہندو مسلم کارڈ مزید استعمال نہ کرنے کی وارننگ دے دی،کاکروچ جنتا پارٹی نے پچھلے 12سالوں میں بھارت کی سیاست کو ہندو مسلم ایجنڈے تک محدود قرار دیدیا۔مودی حکومت کا ہندومسلم ایجنڈا بھارتی نوجوانوں کے بیروزگاری جیسے اہم مسائل کوحل نہیں کرسکتا۔ ہندو مسلم بیانیہ کو ختم کراکے مودی حکومت کی ترجیحات بدلنے کا وقت آگیا ہے۔ سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی نوجوانوں کی تحریک دہلی میں عملی احتجاج کے ذریعے مودی حکومت کوسخت دباؤ میں لے آئی ہے۔برطانوی جریدہ دی گارڈین نے جین زی تحریک کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی وہ تحریک ہے جو بھارت کی سیاست کو ہلادینے کی صلاحیت رکھتی ہے، آن لائن میم سے شروع ہونے والی جین زی تحریک مودی سرکار کیلئے غیر متوقع چیلنج بنتی جارہی ہے۔ یہ تحریک لاکھوں ایسے بھارتی نوجوانوں کی آواز بن چکی ہے، جوعدم اطمینان اور مایوسی کا شکار ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دہلی میں احتجاج سے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت کے نوجوان اب خوفزدہ نہیں ہوں گے، وہ اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے، بھارتی نوجوانوں کو امید ہے کہ نیپال اورسری لنکا کی طرح اب بھارت میں بھی نوجوانوں کی ایک بڑی عوامی تحریک جنم لے رہی ہے۔ یہ تحریک ثابت کرتی ہے کہ بھارتی نوجوان روایتی سیاست، مذہبی کارڈ اور انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کرچکا ہے، بھارتی جین زی منفرد تحریک بے روزگاری، مایوسی اور ریاستی جبر کیخلاف نوجوانوں کے شدید غم و غصے کا عملی اظہار ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ آن لائن تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی۔ اس کے بانی ابھیجیت دیپکے امریکہ میں زیر تعلیم ہیں۔ انھوں نے کاکروچ جنتا پارٹی بھارتی چیف جسٹس کے اس بیان کے بعد بنائی تھی جس میں انھوں نے مبینہ طور پر حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کو کاکروچ کہا تھا۔ابھیجیت نے دعویٰ کیا کہ ‘محض ایک دو دن میں لاکھوں طلبہ ہمارے ساتھ ہوں گے۔ یہ کاکروچ جنتا پارٹی ہر اس طالب علم کی آواز ہے جو حکومت سے ناراض ہے۔’ ابھیجیت دیپکے نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ‘دس، بارہ برس سے انھوں نے ہمیں ہندو مسلم سیاست میں الجھا رکھا ہے۔ اس سے کس کو فائدہ ہوا؟ ہندو مسلم کرنے سے ملک میں کسی ایک کو بھی نوکری ملی؟’ ایک سینئر حکومتی اہلکار نے بتایا کہ وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آئی بی کی طرف سے کاکروچ جنتا پارٹی کے ایکس اکاونٹ کو بلاک کرنے کی درخواست موصول ہوئی، جس میں کہا گیا کہ یہ مہم انڈیا کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ انٹیلیجنس بیورو کا موقف ہے کہ اس اکاؤنٹ کے ذریعے اشتعال انگیز مواد شائع کیا جا رہا ہے، جو ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا تھا اور خاص طور پر یہ تشویش اس بات سے پیدا ہوئی کہ اس اکاؤنٹ کا مواد نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کر رہا تھا۔سیاسی حلقوں میں حکومت کے اس فیصلے پر سخت تنقید ہوئی۔ انڈیا میں اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کانگریس کے ایک رہنما ششی تھرور نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا تھا کہ پارٹی کے ایکس اکاؤنٹ کو معطل کیا جانا انتہائی نقصان دہ اور سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ایک اور سیاسی جماعت، سی پی آئی ایم ایل لبریشن نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی۔ پارٹی نے ایکس پر لکھا کہ کیا مودی حکومت کو لگتا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کو بلاک کر کے وہ جین زی کو روک سکتی ہے؟ادھر سیاسی تجزیہ کار یوگندر یادو نے کہا ہے کہ ‘کاکروچ جنتا پارٹی جو سوشل میڈیا پر ایک میم کی طرح شروع ہوئی، یہ صرف ہنسی مذاق یا غصہ نہیں۔ ملک میں بے چینی ہے۔ مذاق یا لطیفہ ہمیشہ کسی نہ کسی گہرے درد سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے ہم اس کا تجزیہ مذاق کے طور پر نہیں کر سکتے۔ حکومت کے ذریعے اسے بند کرنا ایک سنجیدہ تبدیلی کی شروعات ہو سکتی ہے۔’
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں