جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے
شیئر کریں
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے
پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرولیم لیوی ختم کر کے پیٹرول کی قیمت 225روپے فی لیٹر کر کے 3سال کے لیے منجمد کرنے کے لیے ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں کراچی بھر میں 13 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ، مظاہرے بڑی شاہراؤں ، چورنگیوں اور اہم پبلک مقامات پر کیے گئے جن سے امرائے اضلاع سمیت دیگر ذمہ داران نے بھی خطاب کیا۔جبکہ مرکزی مظاہرہ جماعت اسلامی ضلع قائدین کے تحت کالاپل پر کیا گیا ۔مرکزی مظاہرے سے قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ ،امیرضلع قائدین انجینئر عبد العزیز ،چیٔرمین یوسی 3 چنیسر ٹاؤن شاہد فرمان، صدر پبلک ایڈ کمیٹی چنیسر ٹاؤن غیاث عباسی،بلال رمضان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز و پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ حکمرانوں !عیاشیاں بند کرو، اخراجات کم کرو، پیٹرولیم لیوی ختم کرو، پیٹرول سستا کرو۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے اور اسے کم از کم تین سال کے لیے منجمد کیا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے اور معیشت میں استحکام پیدا ہو۔ جماعت اسلامی کی مسلسل جدوجہد، عوامی دباؤ سے حکومت کو پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنا پڑی، لیکن موجودہ کمی ناکافی ہے۔ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے مزید کمی ناگزیر ہے،لیوی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔اگر پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر نہ کی گئی تو جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر غور کرے گی۔ ہم حافظ نعیم الرحمن کی آئندہ کال کے منتظر ہیں اور اگر ہڑتال کی کال دی گئی تو بھرپور ہڑتال کی جائے گی اور شہر بھر میں دھرنے دیے جائیں گے۔ کراچی کے عوام پہلے ہی بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔ یہ شہر مسائلستان بن چکا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، پانی کا بحران، سیوریج کے مسائل، ٹرانسپورٹ کی بدحالی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رہی ہے۔ ایسے حالات میں پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزیدکہاکہ آج ہم امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک گیر احتجاجی تحریک کے تحت کالاپل پر جمع ہیں۔ ہم اس ظالمانہ اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر مسلط کیا ہے۔ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر مزید بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔حکومت کا رویہ ہمیشہ سے دوہرا رہا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوتا ہے تو حکمران فوری طور پر پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، لیکن جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو عوام کو اس کا ریلیف دینے میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل عوام دشمن پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہاکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے خوردونوش، روزمرہ استعمال کی چیزوں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت پاکستان کا عام آدمی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔دنیا میں کہیں بھی جنگ یا کشیدگی پیدا ہو تو اس کا سارا بوجھ پاکستانی عوام پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں جب بھی کوئی جنگ ہوتی ہے تو دو ممالک کے ساتھ تیسرا متاثر ہونے والا ملک پاکستان بن جاتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی حکومت نے فوری طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا جواز پیدا کیا، حالانکہ ایران، افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں اس نوعیت کا اضافہ نہیں کیا گیا۔جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی صورتحال پیدا ہوئی تھی تو پیٹرول تقریباً 250 روپے فی لیٹر تھااور یہ بھی عالمی مارکیٹ سے مہنگا تھا۔ آج جب وہ صورتحال ختم ہوچکی ہے تو پھر پیٹرول کو جنگ سے قبل کی قیمت پر بھی نہیں لایا جارہا؟ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جارہا ہے۔


