میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 ادویات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام

 ادویات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام

جرات ڈیسک
اتوار, ۷ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز اپنے اجلاس میں دوا سازی کے شعبے کو ضابطہ کار میں لانے اور معیاری ادویات کی تیاری کو یقینی بنانے
کیلئے ملک گیر ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی منظوری دی ہے ،دواسازی کے شعبے کوضابطہ کار میں لانے کیلئے ملک گیر ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی
منظوری بلاشبہ پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے ملک جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کی موجودگی کے مسئلے سے دوچار ہے، جس سے ملک میں تیار کی جانے والی دواؤں پرنہ صرف عوامی اعتماد مجروح ہورہاتھا بلکہ انسانی  جانوں کے لیے بھی سنگین خطرہ تصور کیاجارہاتھا۔

ڈیجیٹل ٹریکنگ نظام کے نفاذ سے ادویات کی تیاری اور فراہمی کے سلسلے میں موجود ایک  دیرینہ کمزوری کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔نئے فریم ورک کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو ادویات کی پیکنگ پر معیاری  ٹو-ڈی بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس سے ریگولیٹری ادارے ادویات کی پیداوار سے لے کر صارف تک رسائی کے ہر  مرحلے کی نگرانی کر سکیں گے، جبکہ صارفین بھی دوا کی اصلیت، میعادِ استعمال اور قیمت کی تصدیق کر سکیں گے۔ اس قسم کی شفافیت ایسے ملک  میں نہایت ضروری ہے جہاں ریگولیٹری نگرانی اور کارروائیوں کے باوجود وتسلسل کے ساتھ جعلی ادویات بازار میں سامنے آتی رہتی ہیں۔

ماضی میں حکام عموماً جعلی ادویات کی نشاندہی یا شکایات موصول ہونے کے بعد کارروائی کرتے تھے، لیکن ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے  مشکوک مصنوعات کی بہت پہلے شناخت ممکن ہوسکے گی، جس سے نقصان دہ ادویات کے مریضوں تک پہنچنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

یہ نظام مصنوعات کی واپسی (ریکال) کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر بنائے گا اور سپلائی چین میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی میں ریگولیٹرز کی مدد
کرے گا۔ بڑھتے ہوئے علاج معالجے کے اخراجات سے پہلے ہی دباؤ کا شکار کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے غیر مؤثر یا خطرناک  ادویات کی خریداری صحت یابی اور المیے کے درمیان فرق ثابت ہو سکتی ہے۔

اب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) کو یقینی بنانا ہوگا کہ مینوفیکچررز، ڈسٹری بیوٹرز اور فارمیسیاں مکمل طور پر اس نظام میں شامل ہوں۔ چھوٹی دوا ساز کمپنیوں کو یقینا یہ نظام اپنانے کیلئے ممکنہ طور پر تکنیکی معاونت درکار ہوگی تاکہ وہ غیر ضروری مالی بوجھ کے بغیر قواعد کی پابندی کر سکیں ڈریپ کو ان کمپنیوں کی معاونت کیلئے قابل عمل لائحہ  عمل طے کرنا چاہئے تاکہ چھوٹی کمپنیاں اس ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے اضافی اخراجات کے بوجھ تلے دب کر دم نہ توڑ جائیں ۔

اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ جعلی ادویات کے خاتمے اور صحت کے شعبے میں جوابدہی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔  سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ نظام اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ جب لوگ دوا خریدیں تو انہیں زیادہ اعتماد ہو کہ ان کے ہاتھ میں موجود دوا محفوظ اور اصلی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں