میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، کراچی کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ، مزمل ہالیپوٹو کی چشم پوشی

سندھ بلڈنگ، کراچی کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ، مزمل ہالیپوٹو کی چشم پوشی

ویب ڈیسک
جمعه, ۵ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

رام سوامی کے پلاٹ آر ایس 4/28مخدوش عمارت پر ساتویں منزل تیاری کی منصوبہ بندی
حفاظتی معیار، فنی جانچ پر سوالا ت، اسٹرکچرل کلیئرنس اور منظوریوں کے بغیر تعمیرات کے خدشات

ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو کی دانستہ چشم پوشی کے سبب کراچی کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔کراچی کے قدیمی اور گنجان آباد علاقے رام سوامی میں واقع پلاٹ نمبر آر ایس 4/28 ایک مرتبہ پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق ایک پرانی عمارت کی چھت مبینہ طور پر فروخت کیے جانے کے بعد اس پر ساتویں منزل تعمیر کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ عمارت پر اضافی بوجھ ڈالنے کے لیے ابتدائی تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت کئی دہائیوں پر محیط عمر رکھتی ہے اور اس کی موجودہ حالت پہلے ہی فنی اعتبار سے سوالات کی زد میں ہے ۔ شہری حلقوں کے مطابق کسی بھی پرانی عمارت پر نئی منزل کی تعمیر سے قبل جامع اسٹرکچرل سروے ، انجینئرنگ اسسمنٹ، منظور شدہ نقشے اور متعلقہ اداروں سے باضابطہ اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ ان تقاضوں کے بغیر تعمیراتی کام مستقبل میں سنگین خطرات کو جنم دے سکتا ہے ۔مقامی رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عمارت کی بنیادیں اور ڈھانچہ اضافی وزن برداشت کرنے کے قابل نہ ہوئے تو کسی بھی وقت حادثہ پیش آ سکتا ہے ، جس کے اثرات نہ صرف اس عمارت بلکہ اطراف کی رہائشی اور تجارتی عمارتوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ماہرین قانون اور تعمیرات کے مطابق منظور شدہ پلان سے تجاوز کرتے ہوئے اضافی فلور کی تعمیر یا اسٹرکچرل سیفٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز متعلقہ قوانین اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں ذمہ دار اداروں پر لازم ہے کہ وہ فوری معائنہ کریں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات اٹھائیں۔علاقے کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران فوری طور پر موقع کا دورہ کریں عمارت کی تکنیکی جانچ پڑتال، تمام متعلقہ دستاویزات اور تعمیراتی اجازت ناموں کی تصدیق کریں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے قبل شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔نوٹ: خبر میں شامل معلومات مقامی ذرائع اور علاقہ مکینوں کے بیانات پر مبنی ہیں۔ اداروں کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی شائع کیا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں