بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی جدوجہد ایک نئی سیاسی حقیقت
شیئر کریں
عطا محمد تبسم
پاکستان میں جماعت اسلامی کیوں کامیاب نہ ہوسکی، بنگلہ دیش والوں نے ایسا کیا جادو کیا کہ وہ کامیابی میں آگے نکل گئے ؟ میں نے یہ سوال مسعود اعجازی سے پوچھا۔ مسعود اعجازی اور ان کی اہلیہ حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کرکے پاکستان لوٹے ہیں۔ وی ٹرسٹ نے ان کے تاثرات جاننے کے لیے ایک نشست کا اہتمام کیا تھا۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم وی ٹرسٹ کو پروفیسر شفیع ملک کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہے ۔
جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش نے گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سفرکیا ہے ۔ ایک وقت تھا جب 1971ء کے واقعات کی تلخ یادیں، سیاسی انتقام، نظریاتی تقسیم اور معاشی مشکلات اس ملک کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنی ہوئی تھیں، لیکن آج بنگلہ دیش نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سیاسی شعور، سماجی استحکام اور جمہوری عمل کے حوالے سے بھی ایک نئی شناخت بنا رہا ہے ۔
مسعود اعجازی اور ان کی اہلیہ کو تقریباً اڑتالیس برس بعد بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ان کے مشاہدات حیران کن تھے ۔ ان کے بقول ڈھاکہ شہر میں داخل ہوتے ہی زمین و آسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے ۔ جدید میٹرو سسٹم، ایلیویٹڈ ایکسپریس ویز، صاف ستھری سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں اور منظم شہری زندگی اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ بنگلہ دیش نے ترقی کے سفر میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائیکل رکشوں کی روایتی ثقافت آج بھی موجود ہے ، تاہم اب ان میں سے بیشتر بیٹری پاور سے چلتے ہیں جو روایت اور جدت کے حسین امتزاج کی علامت ہے ۔
تقریباً سترہ کروڑ پچاس لاکھ آبادی والے اس ملک میں دو تہائی حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ شرح خواندگی اسی فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان میں شرح خواندگی 63فیصد ہے ۔ بنگلہ دیش کے بیرونی قرضے تقریباً اسی ارب ڈالر ہیں جبکہ قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے مقابلے میں تقریباً اکتالیس فیصد ہے ۔ جبکہ پاکستان کے قرضوں کا حجم 138بلین ، اور جی ڈی پی کے مقابلے مین اس کی شرح 70فیصد ہے ۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش نے معاشی نظم و ضبط اور انسانی ترقی کے میدان میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
حالیہ برسوں میں بنگلہ دیشی سیاست میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان میں سب سے نمایاں کردار جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا ہے ۔ جماعت اسلامی نے طویل عرصے تک شدید سیاسی دباؤ، عدالتی مقدمات، پابندیوں اور قیادت کی شہادتوں کا سامناکیا ہے ۔ جماعت اسلامی کی صفِ اول کی قیادت کو پھانسیوں اور سخت ترین اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکمران حلقوں کا خیال تھا کہ شاید اس جماعت کی تنظیمی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جماعت نے نہ صرف نئی قیادت پیدا کی بلکہ تنظیمی استحکام، سیاسی حکمت اور سماجی خدمت کے ذریعے اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا۔ یہ کسی بھی سیاسی تحریک کی قوتِ حیات کا ثبوت ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود وہ اپنے نظریے ، کارکنوں اور عوامی رابطے کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ۔
جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت بالخصوص امیر جماعت ڈاکٹر شفیق الرحمن سے اکثریہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا راستہ روکا گیا، مخالف قوتیں متحد ہو گئیں یا بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا تو ان کا ردعمل کیا ہوگا، تو وہ جذباتی نعروں کے بجائے تدبر اور حکمت کی بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”ہم اپنے دماغ کو ٹھنڈا اور خون کو گرم رکھتے ہوئے باہمی مشاورت اور غور و فکر سے وہ فیصلے کریں گے جو ملک اور تحریک کے لیے بہتر ہوں گے ”۔ ماضی کے برعکس جماعت نے انتخابی سیاست میں غیر ضروری نظریاتی کشیدگی سے گریز کیا۔ انتخابی مہم میں مذہبی نعروں کے استعمال کے بجائے عوامی مسائل، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، تعلیم اور گورننس کے موضوعات کو ترجیح دی ۔ اسی طرح بھارت مخالف بیانیے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا۔ اس کے بجائے جماعت نے وسیع تر سیاسی اتحادوں کی جانب قدم بڑھایا، جن میں نوجوانوں کی جماعتیں، لبرل حلقے اور سیکولر سوچ رکھنے والے افراد بھی شامل تھے ۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں اضافے کی ایک اہم وجہ اس کی سماجی اور فلاحی سرگرمیاں بھی ہیں۔ جماعت نے صرف سیاسی جماعت کے طور پر نہیں بلکہ ایک خدمت گزار تنظیم کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے ۔ تعلیم، صحت، تربیت، روزگار اور سماجی بہبود کے متعدد منصوبے عوام میں اس کے لیے اعتماد پیدا کر رہے ہیں۔بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی ایک خدمت گزار جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ ان کے رضاکارانہ خدمت کے کاموں کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ”سروس نین ڈاٹ کام ” جیسے منصوبے نہایت دلچسپ اور عملی نوعیت کے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے پلمبر، الیکٹریشن، اے سی مکینک، کمپیوٹر ٹیکنیشن اور دیگر ہنر مند افراد رعایتی نرخوں پر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ مساجد اور عبادت گاہوں کے لیے خدمات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ یہ تمام سہولیات موبائل ایپ، انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں۔ اس منصوبے کے ساتھ تربیتی ادارے بھی قائم ہیں جو نوجوانوں کو ہنر سکھا کر باعزت روزگار فراہم کرتے ہیں۔اسی طرح خواتین کے لیے قائم کیے گئے ادارے معاشی خودمختاری اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید دور میں سیاسی جماعتوں کی کامیابی صرف جلسوں اور نعروں سے نہیں بلکہ عوام کی عملی خدمت سے مشروط ہے ۔
سوشل میڈیا کے میدان میں بھی جماعت اسلامی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے ۔ جماعت کے کارکنوں کی ڈیجیٹل تربیت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور نوجوان نسل کے ساتھ رابطے نے اسے نئی سیاسی قوت عطا کی ہے ۔ آج کی دنیا میں رائے عامہ کی تشکیل کا ایک بڑا میدان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہیں اور بنگلہ دیشی جماعت اسلامی نے اس حقیقت کو بروقت سمجھا ہے ۔ایک اور دلچسپ پہلو بچوں کے لیے قائم کیا گیا غیر سیاسی ٹیلی ویژن چینل ہے جہاں تعلیمی پروگرام، کارٹون، ٹیلنٹ ہنٹس، ڈرامے اور تخلیقی سرگرمیاں نشر کی جاتی ہیں۔ اس طرح کے منصوبے یہ ثابت کرتے ہیں کہ معاشرے کی تعمیر صرف سیاست سے نہیں بلکہ تعلیم، ثقافت اور تربیت کے ذریعے بھی ہوتی ہے ۔
بنگلہ دیش کی سیاست کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ 1971ء کے واقعات پر مبنی سیاسی بیانیے وقت کے ساتھ اپنی شدت کھو رہے ہیں۔ نوجوان روزگار، تعلیم، ٹیکنالوجی، ترقی اور بہتر حکمرانی کے سوالات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں جو مستقبل کا وژن پیش کرتی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں بنگلہ دیش کی جمہوریت قابلِ تحسین دکھائی دیتی ہے ۔ مختلف سیاسی جماعتیں شدید اختلافات کے باوجود انتخابی عمل میں شریک ہیں، اپنی اپنی پالیسیوں کے ساتھ عوام کے سامنے جا رہی ہیں اور عوامی رائے کو فیصلہ کن حیثیت دے رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال سے خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان، کے لیے بھی کئی اسباق موجود ہیں۔ معاشی ترقی، سیاسی استحکام، نوجوانوں کی شمولیت، ٹیکنالوجی کا استعمال، فلاحی سرگرمیاں اور جمہوری رویے کسی بھی قوم کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی ترقی کو مشترکہ مقصد بنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے ۔
آج بنگلہ دیش ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی جمہوری قوتیں، سیاسی جماعتیں اور باشعور عوام مل کر ایک نئے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی استقامت، تنظیمی جدوجہد اور سماجی خدمت اس سفر کا اہم حصہ ہیں، جبکہ انتخابی عمل کا تسلسل اور سیاسی قوتوں کا نسبتاً ذمہ دارانہ رویہ بنگلہ دیشی جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے ۔
٭٭٭


