قربانی اور ہمارے معاشرے کی حقیقت
شیئر کریں
محمد آصف
عید الاضحیٰ کا مبارک موقع امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایثار، اطاعت، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا عظیم پیغام
لے کر آتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت و
فرمانبرداری کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قربانی دراصل جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات، مفادات اور برائیوں کو اللہ تعالیٰ
کے حکم کے سامنے قربان کرنے کا درس دیتی ہے ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قربانی کی حقیقی روح اور مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ آج بہت سے لوگوں
کے نزدیک قربانی صرف ایک رسم، روایت یا معاشرتی نمائش بن کر رہ گئی ہے ، حالانکہ اسلام میں قربانی کا اصل مقصد تقویٰ، اخلاص اور اللہ
تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے ۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
”اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ”۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل معیار جانور کی قیمت، جسامت یا تعداد نہیں بلکہ قربانی کرنے والے کا اخلاص، تقویٰ اور نیت
ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے بلا چون و چرا اللہ
کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اپنے والد کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی جان اللہ کی راہ میں پیش
کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔ یہ واقعہ انسان کو سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی سب سے محبوب چیز بھی قربان کر دینی
چاہیے ۔
نبی کریم ۖ نے بھی قربانی کو زندہ رکھا اور اپنی امت کو اس عظیم عبادت کی تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی سنت ِابراہیمی بھی ہے اور
سنتِ مصطفوی ۖ بھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم واقعی اس سنت کی روح کو سمجھ رہے ہیں؟ آج لاکھوں جانور ذبح کیے جاتے ہیں، مگر
کیا ہماری زندگیوں میں قربانی کی روح نظر آتی ہے ؟ اگر کوئی شخص سارا سال لوگوں کے حقوق غصب کرتا رہے ، رشوت لیتا رہے ، جھوٹ
بولتا رہے ، ملاوٹ کرتا رہے ، چوری اور دھوکے سے مال کماتا رہے اور پھر عید کے دن ایک یا دو مہنگے جانور ذبح کر دے تو کیا وہ قربانی
کے اصل مقصد کو حاصل کر لے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ قربانی سے پہلے اپنے کردار، اخلاق اور کمائی کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ
حلال رزق، دیانت داری، انصاف اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی دین کا اہم حصہ ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بعض لوگ رشوت، کرپشن،
فراڈ اور ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرتے ہیں۔ کوئی سرکاری خزانے کو لوٹتا ہے ، کوئی کمیشن اور رشوت کے ذریعے مال بناتا ہے ، کوئی چوری
اور ڈاکے کے ذریعے دولت حاصل کرتا ہے ، اور پھر اسی مال سے قربانی کر کے خود کو نیک ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اسلام میں ایسی
کمائی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے ۔نبی کریم ۖ نے فرمایا: ”اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول کرتا ہے ”۔
جب مال ہی ناپاک اور ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو تو پھر ایسی عبادت کی قبولیت کے بارے میں انسان کو ضرور فکر مند ہونا چاہیے ۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ملاوٹ ہے ۔ دودھ فروش دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرتا ہے ۔ دکاندار ناقص چیز کو اعلیٰ معیار کی چیز بنا کر
پیش کرتا ہے ۔ بعض تاجر کم تولتے ہیں اور گاہکوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کوئی اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کرتا ہے تو کوئی جعلی مصنوعات بیچ
کر لوگوں کی صحت اور مال دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔نبی کریم ۖ نے ایک مرتبہ اناج کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو اندر سے گیلا اناج نکلا۔
آپ ۖ نے فرمایا:”جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں”۔
سوچنے کی بات ہے کہ جو شخص سارا سال دھوکہ دہی اور ملاوٹ کرتا رہے ، کیا صرف جانور ذبح کر دینے سے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک
کامیاب ہو جائے گا؟ بعض لوگ بجلی چوری کو معمولی جرم سمجھتے ہیں۔ وہ پورا سال غیر قانونی کنڈے لگا کر یا مختلف طریقوں سے بجلی استعمال
کرتے ہیں اور پھر عید کے موقع پر قربانی کے بڑے بڑے جانور خرید کر اپنی دینداری کا اظہار کرتے ہیں۔ حالانکہ بجلی چوری دراصل قومی
خزانے اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اسلام میں دوسروں کے حقوق کی پامالی سخت گناہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق معاف
ہو سکتے ہیں لیکن بندوں کے حقوق کی معافی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حق دار معاف نہ کر دے ۔
قربانی کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے اسے نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ مہنگے جانور خریدنا، سوشل میڈیا پر ان کی
تشہیر کرنا، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنا اور دوسروں پر اپنی حیثیت جتانا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے ۔ کئی لوگ ایک نہیں بلکہ دو دو یا تین تین
جانور صرف اس لیے خریدتے ہیں کہ لوگ ان کی تعریف کریں اور انہیں مالدار سمجھیں۔ حالانکہ اسلام میں ریاکاری اور دکھاوے کی سخت
مذمت کی گئی ہے ۔
نبی کریم ۖ نے فرمایا:
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ”۔
اگر قربانی کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف حاصل کرنا ہو تو ایسی عبادت اپنی اصل روح سے محروم ہو جاتی ہے ۔ قربانی
صرف جانور کے گلے پر چھری پھیرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے اندر موجود برائیوں کو ختم کرنے کا نام بھی ہے ۔ اگر ہم واقعی قربانی کی روح کو
زندہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں: رشوت کو قربان کرنا ہوگا۔ کرپشن کو قربان کرنا ہوگا۔ جھوٹ اور دھوکہ دہی کو قربان کرنا ہوگا۔ ملاوٹ اور کم تولنے
کو قربان کرنا ہوگا۔ چوری اور فراڈ کو قربان کرنا ہوگا۔ تکبر، حسد اور ریاکاری کو قربان کرنا ہوگا۔ دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی عادت کو
قربان کرنا ہوگا۔ جب تک ہماری زندگیوں میں یہ قربانیاں شامل نہیں ہوتیں، تب تک صرف جانور ذبح کرنا قربانی کے مکمل مقصد کو پورا نہیں
کر سکتا۔
عید الاضحی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اہمیت ظاہری نمود و نمائش کی نہیں بلکہ دل کے تقویٰ، اخلاص اور پاکیزہ
کردار کی ہے ۔ اگر ہم سارا سال حرام کمائی، رشوت، ملاوٹ، فراڈ، چوری، کم تولنے اور حقوق العباد کی پامالی میں مبتلا رہیں اور پھر قربانی کے
جانور ذبح کر کے خود کو کامیاب سمجھیں تو یہ قربانی کی روح کے منافی ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قربانی کو محض ایک رسم یا معاشرتی مقابلہ نہ بنائیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت، حضرت
اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری اور نبی کریم ۖ کی سنت کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کریں۔ جب ہماری کمائی حلال، معاملات
صاف، کردار دیانت دار اور نیت خالص ہوگی تو تب ہماری قربانی بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوگی اور یہی قربانی کا حقیقی پیغام ہے ۔
٭٭٭


