میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ میں کئی مکانات کی ڈیمولیشن رکوانے کا انکشاف

سندھ بلڈنگ میں کئی مکانات کی ڈیمولیشن رکوانے کا انکشاف

ویب ڈیسک
پیر, ۱ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

لطیف آباد 11اور 12 میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں روک دی گئیں
اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب خانزادہ اور انسپکٹر شہاب الدین زرداری کے کردار پر سوالات

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک اور معاملہ سامنے آگیا ہے ۔ ذرائع اور مقامی شہریوں کے مطابق لطیف آباد یونٹ نمبر 11 اور 12 میں غیر قانونی تعمیرات اور متعدد مکانات کے خلاف طے شدہ انہدامی کارروائیاں مبینہ طور پر روک دی گئیں، جس کے باعث متعلقہ افسران کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 14 مئی کو کئی غیر قانونی تعمیرات اور مکانات کے خلاف کارروائی ہونا تھی، تاہم آخری وقت میں مبینہ طور پر یہ کارروائیاں منسوخ کر دی گئیں۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور اثر و رسوخ کے استعمال کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، جن کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔شہریوں اور ذرائع کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب خانزادہ اور انسپکٹر شہاب الدین زرداری کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بعض تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور بعض کمرشل پلاٹس کو رہائشی ظاہر کرنے کے معاملات میں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا، جس سے سرکاری ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا تو پھر انہدامی کارروائی کیوں نہ کی گئی، جبکہ دوسری جانب کئی شہری معمولی خلاف ورزیوں پر کارروائیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ شہریوں نے اس صورتحال کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔سماجی اور عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ الزامات کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں