قربانی کے مسائل اور اُن کا حل
شیئر کریں
مفتی محمد وقاص رفیع
قربانی کے فضائل:
قربانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم الشان عبادت اور اسلام کا ایک اہم ترین شعار ہے، جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے لے آج تک پورے دُنیا کے مسلمان ہر سال بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے سرانجام دیتے ہیں۔ اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں بھی اس کو عبادت سمجھا جاتا تھا اور لوگ اپنے بتوں کے نام پر قربانیاں کیا کرتے تھے ، بلکہ اب بھی دوسرے مذاہب کے لوگ ایک مذہبی رسم سمجھ کر قربانی کرتے ہیں ، اور مشرکین بتوں کے نام پر اور عیسائی مسیح کے نام پر قربانی کرتے ہیں ۔
سورۂ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ جس طرح نماز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی ۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ‘‘ترجمہ: آپ کہہ دیجئے! کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔’’(سورۂ انعام)
ہجرت کے بعد دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں قیام کیا اور ہر سال برابر قربانی فرماتے رہے۔ (ترمذی: ۱۸۲/۱) اس سے مواظبت ثابت ہوتی ہے ، جس کا مطلب ہے لگاتار کرنا، اور جس عمل پر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ نے مواظبت اختیار فرمائی ہو وہ وجوب کا درجہ لے لیتا ہے، اِس طرح اس سے اس کا وجوب ثابت ہوا ۔( آپ کے مسائل اور اُن کا حل: ۱۶۳/۴)
ایک حدیث میں آتا ہے ٗ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ‘‘بنی آدم کا کوئی عمل بقر عید کے دن اللہ تعالیٰ کو (قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور بے شک (قربانی کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوجاتا ہے ۔ تم تم اپنا دل اس کے ذریعہ سے خوش کیا کرو!۔ (ترمذی و ابن ماجہ)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ‘‘یا رسول اللہؐ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘یہ تمہارے ابا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ’’ …… اور فرمایا: ‘‘استطاعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کا رُخ بھی نہ کرے ! ان تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی دوسرا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ نہیں ہے۔(مسند احمد ، ابن ماجہ، الترغیب والترہیب)ایک دوسری حدیث میں اتا ہے ٗ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ‘‘جس شخص نے دل کی خوشی اور ثواب طلب کرنے کے لئے قربانی کی تو وہ قربانی اس شخص کے واسطے دوزخ کی آگ سے آڑ ہوجائے گی۔(الترغیب والترہیب)
قربانی کس پر واجب ہے؟:
چار قسم کے آدمیوں پر قربانی کرنا واجب ہے:
۱-جس شخص کے پاس رہائشی مکان، کھانے پینے کا سامان، استعمال کے کپڑوں، اور روز مرہ استعمال کی دوسری چیزوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا نقد روپیہ ، مالِ تجارت یا دیگر سامان ہو ، اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔(فتاویٰ شامی: ۳۱۲/۶)
۲-جس شخص نے قربانی کی منت مانی ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔(بدائع الصنائع: ۶۱/۵)
۳-جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ (فتاوی عالمگیری: ۲۹۲/۵)
۴-اگر کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کرنی کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جاسکے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری: ۵/ ۲۰۶)
جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اُس پر بقرۂ عید کے دنوں میں قربانی بھی واجب ہے۔(در مختار:۵؍۳۰۴)فقیر اورمسافر پر قربانی واجب نہیں۔(شرح البدایہ: ۴؍۴۴۳)
قربانی کے جانوروں کی تفصیل:
قربانی بھیڑ دنبہ، بکرا بکری، گائے بیل، بھینس بھینسا اور اونٹ اونٹی کی درُست ہے، اِن کے علاوہ کسی دوسرے جانور کی قربانی درُست نہیں۔ بھیڑ دنبہ اور بکرا بکری کی قربانی صرف ایک فرد کی جانب سے کافی ہوتی ہے، جب کہ گائے بیل، بھینس بھینسا، اونٹ اونٹنی میں ایک سے لے کر سات تک افراد شریک ہوسکتے ہیں،اِس سے زیادہ نہیں ، کیوں کہ ساتویں حصے سے کم حصہ کی قربانی جائز نہیں، مثلاً ایک حصے میں دوا فراد شریک ہوکر آدھا آدھا حصہ قربانی کرلیں تو اِس صورت میں کسی کی بھی قربانی ادا نہیں ہوگی۔(فتاویٰ عالمگیری: ۶؍۲۰۴)
اگر صاحب نصاب شخص کا قربانی کا جانور گم ہوجائے اور وہ اُس کی جگہ دوسرا خرید کر لے آئے تو اُس پر اُن دونوں میں سے صرف ایک جانور کی قربانی واجب ہوگی، لیکن جو شخص صاحب نہیں تھا اگر اُس کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تو اُس پر دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی۔(شرح البدایہ:۴؍۴۴۶)
قربانی کے لئے بکرے بکری کا پورے ایک سال کا ہونا اور گائے بیل، بھینس بھینسے کا پورے دوسال کا ہونا اور اونٹ اونٹنی کا پورے پانچ سال کا ہونا ضروری ہے، اور بھیڑ دنبا اگر کم عمر کا ہو لیکن اتنا موٹا فربہ ہوکہ اگر سال بھیڑ دنبوں میں چھوڑ دیا جائے تو کوئی فرق محسوس نہ ہو تو اُس کی بھی قربانی جائز ہے، ورنہ بکری بکرے کی طرح اُس کا بھی قربانی کے لئے پورے ایک سال کا ہونا ضروری ہے۔(درمختار:۵؍ ۳۱۴)
کن جانوروں کی قربانی جائز اور کن کی ناجائز ہے؟:
جو جانور اندھا یا کانا ہو ، ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اِس سے زیادہ چلی گئی ہو یا ایک کان تہائی یا اِس سے زیادہ کٹ گیا ہو، یا اُس کی دُم تہائی یا اِس سے زیادہ کٹ گئی ہو تو اُس جانور کی قربانی درست نہیں۔(فتاویٰ عالمگیری:۶؍۲۰۰)
جو جانور اتنا لنگڑا ہو کہ چوتھا پاؤں زمین پر رکھ نہ سکتا ہو تو اُس کی قربانی جائز نہیں، ہاں اگر زمین پر رکھ کر سہارے سے چل سکتا ہو تو اُس کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ شامی:۵؍۳۶۱)
جو جانوراتنا دُبلا ، پتلا اور مریل ہو جس کی ہڈیوں سے گودا ہی ختم ہوگیا ہو اُس کی قربانی درست نہیں، اور اگر دبلا بتلا تو ہو لیکن اُس کی ہڈیوں سے گودا ختم نہ ہوا تو اُس کی قربانی جائز ہے۔(فتاویٰ عالمگیری: ۶؍ ۲۰۰)
جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں اُس کی قربانی جائز نہیں۔ یا دانت توتھے لیکن اب گرگئے ہیں تو اگر زیادہ گرگئے ہوں اور تھوڑے باقی ہوں تو اُس کی بھی قربانی جائز نہیں۔ اور اگر تھوڑے گرے ہوں اور زیادہ باقی ہوں تو اُس کی قربانی جائز ہے۔(درمختار:۵؍۳۶۱)
جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں اُس کی قربانی جائز نہیں۔ اور اگر کان تو ہوں لیکن بالکل چھوٹے چھوٹے ہوں تو اُس کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری:۶؍۲۰۰)
جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا سینگ توتھے لیکن ٹوٹ گئے ہیں تو اگر جڑ کے اوپر سے ٹوٹے ہیں اور جڑ میں اُس کا کوئی اثر نہیں گیا تو اُس کی قربانی جائز ہے اور اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں تو اُس کی قربان جائز نہیں۔(فتاویٰ شامی:۵؍۳۱۵)
خصی جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔(درمختار:۵؍۳۱۵)جس جانور کو خارش لگ گئی ہو تو اگر خارش کی وجہ سے وہ بالکل لاغر نہ ہوگیا ہوتو اُس کی قربانی جائز ہے۔ اور اگر خارش کی وجہ سے بالکل لاغر و کم زور ہوگیا ہو تو اُس کی قربانی جائز نہیں۔(درمختار:۵؍۳۱۵)
قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اگر اُس میں کوئی ایسا عیب پیدا ہوگیا جس سے قربانی نہیں ہوتی تو اگرصاحب نصاب ہے تو اُس کے لئے تو دوسرا جانور خرید کر اُس کی قربانی کرنا ضروری ہے۔ اور اگر صاحب نصاب نہیں ہے تو اُس کے لئے اُسی جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔(درمختار:۵؍۳۱۷)
اگر کوئی جانور گابھن ہو تو اُس کی قربانی جائز ہے اور اگر اُس کے پیٹ سے بچہ زندہ نکل آئے تو اُس کو بھی ذبح کردینا چاہیے۔ (فتاویٰ شامی: ۵؍ ۳۱۵)
قربانی کی دُعاء:
جب قربانی کا جانور قبلہ رُخ لٹا لیا جائے تو یہ دُعاء پڑھی جائے:‘‘ اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ’’ پھر ‘‘ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ’’ کہہ کر ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دُعاء پڑھے: ‘‘ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَّخَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھِمَا الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ’’
قربانی کا وقت:
بقر عید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام سورج غروب ہونے سے پہلے تک قربانی کی جاسکتی ہے ، تاہم پہلا دن سب سے افضل ہے ، پھر دوسرا دن اور پھر تیسرا دن۔ (فتاویٰ عالمگیری: ۶؍۱۹۸،الفقہ الاسلامی وادلتہ: ۶۰۴/۳)
شہر میں نمازِ عید سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ، البتہ دیہات میں جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی صبح صادق کے بعد قربانی کرنا درست ہے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ: ۶۰۶/۳)
شہر میں بقرہ عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں ۔ (شرح بدایہ:۴؍۴۴۳)
قربانی کا گوشت :
قربانی کا گوشت خود کھانا، عزیز و اقارب کو دینا، فقراء و مساکین میں بانٹنا ، مدارس و تعلیم گاہوں میں تقسیم کرنا یہاں تک کہ کافروں کو بھی کھلانا جائز ہے۔( در مختار : ۵؍۳۲۰)قربانی کا گوشت حصہ داروں میں اندازے سے تقسیم کرنا ٹھیک نہیں ، اِس سے کمی بیشی کا قوی امکان ہے، بلکہ تول کر پورا پورا تقسیم کرنا ضروری ہے ورنہ سود ہوجائے گااور یہ حرام ہے۔البتہ اگر گوشت کے ساتھ سری پائے اور کھال کو بھی ملا لیا جائے تو جس کے حصے میں یہ چیزیں آئیں اُس کو حصے میں کم گوشت دینا تو جائز ہے، لیکن زیادہ گوشت اگر دیا تب بھی سود ہوگا اور گوشت حرام ہوجائے گا۔(در مختار:۵؍۳۱۰)
قربانی کے جانور کی کھال کو استعمال میں لانا تو جائز ہے مگر اُس کو بیچنا جائز نہیں، اگر بیچ دیا تو وہ پیسے غریبوں کو صدقہ کرنا واجب ہے، اسی طرح اُس کو مسجد کی مرمت یاکسی دوسرے نیک کام میں لگانا جائز نہیں ، اسے بہرحال خیرات ہی کرنا چاہیے۔( در مختار : ۵؍۳۲۱)
اگر منت و نذر کی قربانی کی ہے تو اُس کا سارا گوشت فقیروں اور مسکینوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے، امیروں یا کافروں کو دینا جائز نہیں اور نہ ہی خود کھانا جائز ہے، چاہیے غریب ہی کیوں نہ ہو۔اگر ایسا کیا تو اتنی ہی قیمت غریبوں پر صدقہ کرنا واجب ہے۔( در مختار : ۵؍۳۱۲)
قربانی کے جانور کا کوئی حصہ قصائی کو مزدوری میں دینا جائز نہیں، بلکہ اُسے علیحدہ اپنے پاس سے مزدوری دینی چاہیے۔( در مختار : ۵؍۳۲۱)
اگر خوشی سے اپنے کسی مردے کو ثواب پہنچانے کی نیت سے قربانی کی جائے تو اُس کے گوشت خود کھانا، اپنے عزیز و اقارب کو دینا، فقیروں اور مسکینوں میں تقسیم کرنا اپنی قربانی کے گوشت کی طرح سب جائز اور درست ہے۔(فتاویٰ شامی:۵؍۳۲۸)
اگر کوئی شخص قربانی کی وصیت کرکے مرگیا اور اُس کے مال میں سے اُس کی طرف سے قربانی کی گئی تو اُس قربانی کا سارا گوشت صدقہ کرنا واجب ہے۔(فتاویٰ شامی:۵؍۳۲۸)
کسی کی جازت کے بغیر اُس کی طرف سے قربانی کرلی تو قربانی ادا نہیں ہوگی، اور اگر ایسے شخص کو کسی بڑے جانور کے حصے میں شریک کرلیا تو کسی کی بھی قربانی ادا نہیں ہوگی۔(فتاویٰ عالمگیری: ۶؍۲۰۲)
٭٭٭


