میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ظلم کرنیوالوں سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں،امام مسجد نبویؐ کا خطبۂ حج

ظلم کرنیوالوں سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں،امام مسجد نبویؐ کا خطبۂ حج

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۷ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

توحیدبڑی کامیابی ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سے نعمتیں چھین لی گئیں،خطبہ حج میں تقویٰ، اتحادِ امت اور توحید کو مضبوط تھامنے کی تلقین
جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، اللہ کیساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے،مسلمانوں کیلئے ہدایت، مغفرت اور اتحاد کی خصوصی دعائیں

مسجد نبوی ؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے میدانِ عرفات میں خطبہ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، صبر، اتحاد اور توحید کی تلقین کی اور کہا کہ تقویٰ اختیار کرنا اہل ایمان کی شان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔ شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے اپنے خطبے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں جبکہ توحید پر عمل پیرا ہونا اہل ایمان کا خاصا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایمان والوں کے سامنے اللہ کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ مسلمانوں کو ہر آزمائش اور مصیبت میں صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کیلئے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے کیونکہ جن قوموں نے ناشکری اور ظلم کیا، ان سے نعمتیں چھین لی گئیں۔امام مسجد نبوی ؐ نے کہا کہ بندے اور اللہ تعالیٰ کا مضبوط تعلق ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ دورانِ حج لڑائی جھگڑے اور ہر اس عمل سے اجتناب کریں جو امت کے اتحاد کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے سچ بولنے، بدعت اور غیبت سے دور رہنے کی بھی تلقین کی۔شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ حجاج کرام عرفات سے روانگی کے بعد منیٰ جائیں گے، اس لیے وہ مناسک حج بہترین انداز میں ادا کریں اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہیں۔ انہوں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور کثرت سے دعا و استغفار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین دعا، دعائے عرفہ ہے۔خطبے میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، دنیا و آخرت کی بھلائی اور مسلمانوں کے حالات کی بہتری کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ امام حرم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام حجاج کرام کی عبادات قبول فرمائے، ان کے گناہ معاف کرے اور انہیں سلامتی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس پہنچائے۔لاکھوں فرزندانِ اسلام نے میدانِ عرفات میں خطبہ حج سناخطبہ حج میں مسلم دنیا کے مسائل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ خطبہ حج کے بعد مسجد نمرہ میں نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق طلوعِ آفتاب سے میدانِ عرفات میں سولہ لاکھ سے زائد عازمینِ حج موجود رہے، جبکہ غروبِ آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ ادا کریں گے، کنکریاں جمع کریں گے اور بعد ازاں منیٰ روانہ ہو کر رمیِ جمرات کا فریضہ انجام دیں گے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں