میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ماہِ ذی الحجہ (یا عشرہ )کے فضائل و مسائل

ماہِ ذی الحجہ (یا عشرہ )کے فضائل و مسائل

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۲ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

ماہِ ذی الحجہ اسلامی تقویم کے اعتبار سے بارہواں اور آخری مہینہ کہلاتا ہے ، جس میں اسلام کا ایک انتہائی اہم اور عظیم رکن ‘‘حج’’ ادا کیا جاتا ہے ، اور تمام روئے زمین کے چپہ چپہ سے مختلف علاقوں ، مختلف خاندانوں اور مختلف زبانوں کے مسلمان محبت الٰہیہ میں رخت سفر باندھ کر ‘‘ لبیک اللہم لبیک’’ کی دیوانہ وار صداء لگاتے ہوئے ایک مخصوص جگہ جمع ہوتے ہیں اور حج جیسا اہم اور عظیم فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ماہِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ سال بھر کے تمام دنوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے ۔

اور قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا رکھی ہے چنانچہ ارشاد ہے: ‘‘ ترجمہ: قسم ہے فجر کے وقت کی اور دس (۱۰) راتوں کی اور جفت کی اور طاق کی ۔’’ (ترجمہ مفتی محمد تقی عثمانی) (سورۃ الفجر : 30)
امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے در منثور میں متعدد سندوں سے یہ روایت درج کی ہے کہ حضورِاقدس صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ: ‘‘اِس آیت میں ‘‘دس (۱۰) راتوں ’’ سے ذی الحجہ کا پہلا عشرہ مراد ہے اور وتر ( طاق) سے عرفہ کا دن اور ‘‘شفع’’ ( جفت) سے قربانی کا دن (یعنی عید الاضحی ) کا دن مراد ہے ۔ (الدر المنثور فی التفسیر بالماثور:ج 08ص 500)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا: ‘‘کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں اِن(ذی الحجہ کے)دس دنوں کے نیک عمل سے زیادہ محبوب ہو اور پسندیدہ ہو،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ!کیا یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے؟آپ صلی اللہ علیہ سلمنے ارشاد فرمایا:‘‘اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر ہے، مگر وہ شخص جو جان اور مال لے کراللہ کے راستے میں نکلے،پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آئے۔’’(سب اللہ کے راستے میں قربان کردے،اور شہید ہو جائے یہ ان دنوں کے نیک عمل سے بھی بڑھ کر ہے)(صحیح بخاری:969)
حضرت ابو ہریرۃرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ‘‘ کسی دن کی عبادت اللہ تعالیٰ کو اتنی محبوب نہیں جتنی کہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کی محبوب ہے ۔ عشرہ ذی الحجہ میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر اور اِس میں ایک رات کی نماز سال بھر کی نمازوں کے برابر ہے۔’’ (غنیۃ الطالبین:ص241)

حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ : ‘‘ عشرہ ذی الحجہ کی راتوں میں چراغ بجھایا نہ کرو! آپ کو اس عشرہ میں عبادت بہت پسند تھی حتیٰ کہ اپنے خادموں کو بھی اِن راتوں میں عبادت کے لئے بیدار رہنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ (غنیۃ الطالبین:ص241)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ : ‘‘ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں سے زیادہ اور کوئی افضل دن نہیں ہے۔’’ (مستخرج ابن عوانہ: 3023 )

اسی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ: ‘‘ جس شخص نے سال کے افضل دنوں میں روزہ رکھنے کی منت مانی ہو، اُسے عرفہ (نو (۹) ذی الحجہ) کے دن روزہ رکھ کے اپنی منت پوری کرنی چاہیے ، اور جس نے ہفتہ کے کسی دن روزہ رکھنے کی منت مانی ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ جمعہ کے دن روزہ رکھ کے اپنی منت پوری کرے۔

عشرہ ذی الحجہ کے دنوں کی فضیلت اس لئے ہے کہ اس میں ‘‘عرفہ’’ کا دن واقع ہے اور ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں اس لئے افضل ہیں کہ اُن میں ‘‘شب قدر’’ واقع ہے ۔ اور چوں کہ ماہِ ذی الحجہ میں عرفہ کا دن آتا ہے اس لئے اس دن کو تمام دنوں پر فضیلت حاصل ہے ۔
بقر عید کے شروع کے نو (۹) دنوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت اور ان کے مستحب ہونے کے بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں۔ چنانچہ بعض ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقرہ عید کے نو (۹) دن ، دسویں محرم اور ہر ماہ میں اکثر و بیشتر تین روزے رکھا کرتے تھے ۔ اور ہر ماہ کے تین دنوں میں سے پہلے پیر اور پہلی جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ (سنن نسائی:2372)

ایک روایت میں ہے کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے عشرہ اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔ (ماثبت بالسنۃ فی احکام السنۃ:ص 201)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ: ‘‘جس شخص نے عشرہ ذی الحجہ کی کسی تاریخ میں رات بھر عبادت کی تو گویا اُس نے سال بھر حج کرنے اور عمرہ کرنے والے کی سی عبادت کی ، اور جس نے عشرہ ذی الحجہ کا کو ئی روزہ رکھا تو گویا اُس نے پورا سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔’’ (غنیۃ الطالبین:ص 199)

ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہماعرفہ کی فجر سے یوم نحر کی عصر تک (ہرنماز کے بعد بآوازِ بلند ) تکبیرات تشریق : ‘‘ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ، اللہ اکبر ، وللہ الحمد’’ پڑھا کرتے تھے۔اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ عرفہ کی فجر سے ایام تشریق کے اخیر دن (یعنی تیرھویں ) کی عصر تک (ہر نماز کے بعدمذکورہ بالا) تکبیرات تشریق پڑھا کرتے تھے۔(السنن الکبریٰ للبیہقی : 6274،کتاب الآثار لابی یوسف: 297، الآثار لمغمد بن حسن: 208،)

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ : ‘‘چوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت بھی صحیح سند سے ثابت ہے ، اس واسطے حنفیہ کا عمل اسی پر ہے اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہمانے زائد کی نفی نہیں کی ، لہٰذا اُن کے خلاف بھی نہیں ہوا۔’’ (خطبات الاحکام لجمعات العام:ص289)

ماہِ ذی الحجہ کی دوسری اہم ترین عبادت قربانی ہے اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔ چنانچہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ‘‘بنی آدم کا کوئی عمل بقرعید کے دن اللہ تعالیٰ کو قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ۔ اور بے شک (قربانی کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوجاتا ہے ۔ لہٰذا قربانی کے اِس عمل کے ساتھ اپنا دل خوش کرو!(سنن ابن ماجہ:3126)

(ایک مرتبہ )صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ‘‘ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانیاں کیا ہیں؟’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ‘‘یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ‘‘ہمارے لئے اس میں کیا (ثواب) ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!؟’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ : ‘‘ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے ۔ عرض کیا کہ: ‘‘(بھیڑ وغیرہ کی ) اُون میں کیا (ثواب) ملتا ہے (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)!؟’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :‘‘(بھیڑ وغیرہ کی) اُون میں بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔’’ (سنن ابن ماجہ: 3127)
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں