ٹنڈو جام منشیات کیس،دو روزہ خاموشی کے بعدگرفتار مناراجپوت کو ظاہر کردیا
شیئر کریں
بلوچستان کے بعض علاقوں، خصوصاً پشین سمیت بین الصوبائی نیٹ ورک پر جانچ شروع
ملزم ٹنڈو جام، پنجاری، قاسم آباد میں بھی منشیات سپلائی میں ملوث، مقامی سرپرستی کا شبہ
(رپورٹ:عبدالغفور سروہی)حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو جام میں مبینہ طور پر منشیات کے بڑے نیٹ ورک سے وابستہ بدنام زمانہ ڈیلر عرفان عرف منا راجپوت کی گرفتاری نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ کارروائی مبینہ طور پر 3روز قبل عمل میں آ چکی تھی، تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق یا میڈیا بریفنگ فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئی۔ بعد ازاں حیدرآباد پولیس کی جانب سے اچانک کارروائی کو آفیشلی ظاہر کیا گیا، جس کے بعد پورے معاملے نے نئی بحث چھیڑ دی۔روزنامہ جرأت نے 3 روز قبل اپنی ابتدائی رپورٹ میں اس کارروائی اور گرفتاری کو نمایاں انداز میں رپورٹ کیا تھا، تاہم اس وقت پولیس کی جانب سے نہ تو باضابطہ ایف آئی آر منظرعام پر لائی گئی تھی اور نہ ہی گرفتاری سے متعلق کوئی واضح سرکاری مؤقف جاری کیا گیا تھا۔ اس صورتحال نے مختلف حلقوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ آخر اتنی بڑی کارروائی کو فوری طور پر پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔بعد ازاں ایک روز پیشتر حیدرآباد پولیس کی جانب سے باضابطہ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ ٹنڈو جام پولیس نے ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق خان دھاریجو اور ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ کی ہدایات پر کارروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش عرفان عرف منا راجپوت کو گرفتار کیا ہے ، جس کے قبضے سے 5070گرام چرس برآمد کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے ۔اسی معاملے پر روزنامہ جرأت نے ایس ایس پی حیدرآباد سے خصوصی طور پر رابطہ کر کے تفصیلی مؤقف حاصل کیا، جس میں شاہزیب چاچڑ نے کیس سے متعلق کئی اہم پہلوؤں پر کھل کر بات کی۔ایس ایس پی حیدرآباد نے بتایا کہ مذکورہ کارروائی دراصل جوائنٹ ٹاسک فورس کی مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے ، جبکہ گرفتار ملزم پہلے سے پولیس ریکارڈ میں موجود تھا اور اس کے خلاف ماضی میں بھی متعدد مقدمات درج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کی سرگرمیوں پر کافی عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ایس ایس پی شاہزیب چاچڑ کے مطابق ابتدائی تفتیش اور پوچھ گچھ کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں صرف مقامی نیٹ ورک ہی نہیں بلکہ دیگر علاقوں سے ممکنہ روابط کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے ۔شاہزیب چاچڑ نے انکشاف کیا کہ دورانِ تفتیش بعض ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جن میں بلوچستان کے بعض علاقوں، خصوصاً پشین کی سمت مبینہ روابط یا نقل و حرکت کے شواہد ملے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام معلومات کی تصدیق کی جا رہی ہے ۔ایس ایس پی حیدرآباد کے مطابق پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا گرفتار ملزم کا تعلق صرف مقامی سطح تک محدود تھا یا اس کے روابط بڑے بین الاضلاعی یا بین الصوبائی نیٹ ورک سے بھی جڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ٹنڈو جام، پنجاری، قاسم آباد اور دیگر علاقوں میں مبینہ طور پر منشیات سپلائی کے مختلف روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ایک اہم سوال کے جواب میں ایس ایس پی شاہزیب چاچڑ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دورانِ تفتیش بعض ایسے نکات سامنے آئے ہیں جن میں مقامی سطح پر مبینہ سہولت کاری یا پشت پناہی کے پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی پولیس اہلکار یا کسی اور فرد کے کردار سے متعلق شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد پولیس منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس پالیسی کے تحت کسی بھی سطح پر رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اہلکار کی مبینہ سہولت کاری ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ایس ایس پی حیدرآباد نے مزید بتایا کہ پولیس ملزم کا مزید ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اس سے مزید معلومات حاصل کی جا سکیں اور ممکنہ نیٹ ورک، سپلائی چین اور سہولت کاروں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک بھی ہو سکتا ہے ، اسی لیے تفتیش کو انتہائی سنجیدگی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔شاہزیب چاچڑ نے روزنامہ جرأت سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ صحافی برادری اور شہری اگر اس معاملے سے متعلق کسی قسم کی معلومات رکھتے ہوں تو وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ منشیات کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے ۔دوسری جانب شہر کے مختلف سماجی اور شہری حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر کارروائی دو روز قبل عمل میں آ چکی تھی تو اس کی سرکاری سطح پر فوری تشہیر کیوں نہیں کی گئی۔ بعض حلقے اس تاخیر کو تحقیقات کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے شفافیت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ گرفتار ملزم عرفان عرف منا راجپوت کا نام مبینہ طور پر پولیس کی اے کیٹیگری لسٹ میں بھی شامل بتایا جاتا ہے ، جبکہ اس کی تصاویر حالیہ دنوں میں منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم کے دوران جاری کیے گئے پینا فلیکس پر بھی موجود تھیں۔پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور آنے والے دنوںمیں مزید گرفتاریاں اور اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے ۔


