میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آئی ایم ایف کی نئی شرائط، پیٹرول اور گیس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ

آئی ایم ایف کی نئی شرائط، پیٹرول اور گیس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۱ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اہداف پر اتفاقِ رائے ہونے کا امکان، الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ جبکہ حکومت کی ایک فیصد لگانے کی تجویز
بجٹ مذاکرات پربات چیت جاری ، آئی ایم ایف مشن کے دورے میں مزید دو روز کی توسیع ، ایف بی آر کو 15 ہزار 264 ارب ٹیکس وصولی کا ہدف دیے جانے کا امکان،ذرائع

بجٹ مذاکرات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت جاری ہے جبکہ آئی ایم ایف مشن کے دورے میں مزید دو روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم چند اہم معاملات پر مذاکرات ابھی جاری ہیں۔آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فیصد اضافے کی سفارش کرتے ہوئے پیٹرول پر فی لیٹر لیوی بڑھانے کی تجویز دی ہے، اس وقت پیٹرول پر 108 روپے 17 پیسے فی لیٹر لیوی عائد ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے صوبوں کو اضافی 430 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف دیا ہے جبکہ وفاق کو تقریبا 2 ٹریلین روپے سرپلس فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کو 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیے جانے کا امکان ہے جبکہ دسمبر 2026 تک ششماہی ہدف 7 ہزار 22 ارب روپے مقرر کیے جانے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات آئندہ مالی سال میں 21۔2 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات بھی تجویز کیے ہیں۔آئندہ مالی سال میں معاشی شرح نمو 3۔5 فیصد اور اوسط مہنگائی 8۔4 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم 14 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنے پر عارضی اتفاق بھی ہو گیا ہے۔آئی ایم ایف نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سال میں دو مرتبہ اضافے کی شرط برقرار رکھی ہے جبکہ اسپیشل اکنامک زونز کیلئے نئی ٹیکس چھوٹ نہ دینے اور موجودہ مراعات کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں