میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، کراچی میں بلند ہوتی کمزور عمارتیں، انسانی جانوں کیلئے خطرہ

سندھ بلڈنگ، کراچی میں بلند ہوتی کمزور عمارتیں، انسانی جانوں کیلئے خطرہ

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۰ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اتھارٹی افسران ، ریحان الائچی کے ذاتی مفادات انسانی جانوں پر بھاری، انتظامیہ خاموش
گلبرگ بلاک 15 کے رہائشی پلاٹس آر 979اور آر 1244پر تعمیراتی بے ضابطگیاں

کراچی میں غیر معیاری اور کمزور بنیادوں پر بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ شہریوں کیلئے ایک نئے خطرے کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تعمیراتی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے کنکریٹ کے ایسے ڈھانچے کھڑے کیے جا رہے ہیں جو کسی بھی وقت انسانی جانوں کیلئے المیہ بن سکتے ہیں۔ شہری حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں کی غفلت اور مبینہ ملی بھگت کا سلسلہ نہ رکا تو مستقبل میں بڑے سانحات جنم لے سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تعمیراتی اتھارٹیز کے بعض افسران بلخصوص ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی مبینہ طور پر ذاتی فوائد اور مالی مفادات کے حصول کیلئے بلڈرز کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں، جس کے باعث رہائشی علاقوں میں نقشوں کی خلاف ورزی، اضافی منزلیں اور غیر قانونی تعمیرات معمول بنتی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قوانین کی پاسداری صرف عام افراد تک محدود رہ گئی ہے جبکہ بااثر مافیا سرکاری سرپرستی میں من مانی کرنے میں مصروف ہے ۔جرأت سروے کے دوران لی جانے والی زیر نظر تصاویر میں زمینی حقائق کے مطابق گلبرگ بلاک 15 میں واقع رہائشی پلاٹس آر 979 اور آر 1244 پر بھی مبینہ طور پر تعمیراتی لاقانونیت کا راج قائم ہے ، جہاں منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر تعمیرات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق متعدد بار شکایات کے باوجود انتظامیہ نے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے ، جس سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔سماجی و شہری تنظیموں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے ، تاکہ انسانی جانوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں