میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۷ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور
27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کاری کے معاہدے مکمل ہوچکے ہیں، روز ویلٹ ہوٹل کے لیے نئے مالی مشیر کی تقرری میں تاخیر کا انکشاف

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ ایک بار پھر سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے نشانے پر، مشکوک لین دین کے معاملے پر آئی ایم ایف کی جا نب سے رئیل سٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور دیا گیا۔حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری ہے جبکہ پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کاری کے معاہدے مکمل ہوچکے ہیں، دوسری جانب روز ویلٹ ہوٹل کے لیے نئے مالی مشیر کی تقرری میں تاخیر کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے رئیل سٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نگرانی کا نظام مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشکوک لین دین کی رپورٹنگ کم ہے، جس سے جائیداد کے سودوں میں داخل ہونے والے غیر دستاویزی فنڈز کے بارے میں خدشات بڑھتے ہیں، آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ اور غیر مالیاتی کاروباری و پیشہ ورانہ شعبوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی کم تعداد پر تشویش ظاہر کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ غیر ٹیکس شدہ اور کالے دھن کا ایک بڑا حصہ اسی سیکٹر میں لگایا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں جبکہ بینفیشل اونرشپ’ (حقیقی مالکان) کی معلومات کے تبادلے میں موجود خامیوں کو فوری دور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے سیکٹر کی نگرانی کے لیے قائم کردہ ڈی این ایف بی پی نظام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا ۔ایف بی آر نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کیلئے ڈی این ایف بی پی ایک نظام قائم کیا تھا، جس کے تحت مشکوک لین دین کی رپورٹس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کوبھیجی جاتی ہیں۔ اس دوران ایف بی آر نے مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر چھاپے مار کر فروخت اور آمدنی چھپانے کے الزامات کی تحقیقات شروع کی ہیں ۔دوسری طرف ایف بی آر کے اس موجودہ نظام کے تحت مشکوک لین دین کی رپورٹس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو بھیجی جاتی ہیں، تاہم آئی ایم ایف اس کی موجودہ رفتار سے مطمئن نہیں ، آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ اسے رئیل سٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی، منی لانڈرنگ اور بینکاری شعبے کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں