میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں!

وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں!

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۴ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید جنگیں نہیں، سلطنتوں کا زوال نہیں، یا قحط اور وبائیں بھی نہیںبلکہ وہ کہانیاں ہیں جو ہمارے اندر
مر جاتی ہیں، بغیر کسی آواز کے، بغیر کسی گواہ کے۔ ہر انسان اپنے اندر ایک خاموش داستان لیے پھرتا ہے؛ ایک ایسی داستان جو لفظوں تک
پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔تاریخ کے اوراق کھولیں تو ہمیں صرف وہی قصے ملتے ہیں جو کہے گئے، لکھے گئے، یا طاقت نے جنہیں
محفوظ کر لیا۔ مگر اصل تاریخ وہ ہے جو کہیں درج نہیںوہ آنکھوں میں چھپی رہتی ہے، وہ سینوں میں دفن ہو جاتی ہے۔ کتنے ہی غلام، کتنی ہی
عورتیں، کتنے ہی شکست خوردہ انسان ان سب کی زندگیاں ایک مکمل ناول تھیں، مگر ان کے حصے میں خاموشی آئی۔ ان کے دکھ، ان کے
خواب، ان کے ٹوٹنے کی آوازکسی مؤرخ کے قلم تک نہ پہنچ سکی۔
انسان عجیب مخلوق ہے؛ وہ بول سکتا ہے، مگر اکثر خاموش رہتا ہے۔ وہ سچ جانتا ہے، مگر اسے چھپاتا ہے۔ اس خاموشی کی جڑیں خوف میں
بھی ہیں اور سماج کے جبر میں بھی۔ کبھی ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنی کہانی سنا دیں تو ہمیں رد کر دیا جائے گا، اور کبھی یہ خوف کہ ہماری کہانی
کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ یوں ہم اپنی ہی ذات کے گواہ ہوتے ہیں، مگر کبھی عدالت قائم نہیں کرتے۔اگر ہم انسانی تہذیب کو غور سے دیکھیں
تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بڑا سانحہ، ہر بڑی تباہی، دراصل ان کہی کہانیوں کا نتیجہ تھی۔ جب لوگ بولنا چھوڑ دیتے ہیں تو سچ مر جاتا ہے، اور جب سچ مر جاتا ہے تو ظلم جنم لیتا ہے۔ سلطنتیں اسی خاموشی کی کوکھ سے پیدا ہوتی ہیں، اور انہی خاموشیوں پر قائم رہتی ہیں۔یہ صرف تاریخ کی بات نہیں؛ آج کا انسان بھی اسی خاموشی کا قیدی ہے۔ ہمارے اردگرد بے شمار لوگ ہیں جو ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، اپنی معمول کی زندگی گزارتے ہیںمگر ان کے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے جس کا کوئی نام نہیں، کوئی زبان نہیں۔ وہ اپنے دکھ کو لفظ نہیں دے پاتے، اور یوں وہ دکھ ایک زہر بن کر ان کی روح میں پھیلتا رہتا ہے۔فلسفیانہ طور پر دیکھا جائے تو انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وہ دکھ سہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے دکھ کو بیان نہیں کر پاتا۔ اظہار نہ ہونا، دراصل وجود کا ادھورا رہ جانا ہے۔ ایک ایسی زندگی جو کہی نہ جائے، وہ مکمل زندگی نہیں ہوتی وہ محض ایک امکان رہ جاتی ہے، ایک ادھوری تحریر، جسے کبھی لکھا ہی نہیں گیا۔یہ سوال پھر ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے: ہم اپنی کہانیاں کیوں نہیں سناتے؟ شاید اس لیے کہ ہمیں سننے والے کم ملتے ہیں، یا شاید اس لیے کہ ہم خود بھی اپنی سچائی سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ سچ بولنا آسان نہیں؛ وہ ہمیں ننگا کر دیتا ہے، ہمیں ہمارے اپنے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔مگر تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ خاموشی کبھی حل نہیں ہوتی۔ جو کہانیاں ہم نہیں سناتے، وہ ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں، اور ایک دن ہم خود اپنی ہی ناگفتہ داستان بن جاتے ہیںایک ایسا وجود جسے کوئی پڑھ نہیں پاتا، جسے کوئی سمجھ نہیں پاتا۔
انسانی عظمت شاید اسی میں ہے کہ وہ اپنی کہانی کہنے کی ہمت کرے، چاہے وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ کیونکہ کہانی سنانا صرف اظہار نہیں،
بلکہ مزاحمت بھی ہے خاموشی کے خلاف، بھول جانے کے خلاف، اور اس نظام کے خلاف جو ہمیں بے آواز رکھنا چاہتا ہے۔آخرکار، دنیا ان
کہانیوں سے نہیں بدلتی جو لکھی جاتی ہیں، بلکہ ان سے بدلتی ہے جو کہی جانے کی ہمت کرتی ہیں۔ اور شاید سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ ہر
انسان کے اندر ایک کتاب ہے مگر المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر کتابیں کبھی کھلتی ہی نہیں۔وہ کہانیاں جو پاکستان میں کبھی کہی نہیں جاتیں”انسان
آزاد پیدا ہوتا ہے، مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔روسو کا یہ جملہ محض یورپ کی سیاسی تاریخ کا نوحہ نہیں، بلکہ ہر اس معاشرے کا آئینہ
ہے جہاں انسان بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر سچ کہنے کی آزادی نہیں رکھتا۔ پاکستان بھی انہی معاشروں میں سے ایک ہیایک ایسا ملک
جس کی تاریخ صرف لکھی نہیں گئی، بلکہ چھپائی بھی گئی ہے، اور اس کے لوگوں کی اصل کہانیاں ہمیشہ پسِ پردہ رہیں۔اگر ہم پاکستان کی تاریخ
کو دیکھیں تو ہمیں سرکاری بیانیے، نصابی کتابیں، اور سیاسی تقریریں تو بہت ملیں گی، مگر وہ سچ کم ہی ملے گا جو عام انسان کے سینے میں دفن
ہے۔ Partition of India ایک ایسا سانحہ تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا، لاکھوں کو مارا، اور کروڑوں کو ہمیشہ کے لیے
اندر سے توڑ دیا۔ مگر ہم نے اس المیے کو صرف اعداد و شمار میں قید کر دیاہم نے ان مائوں کی چیخیں نہیں سنیں جن کے بچے ان سے چھین لیے
گئے، ہم نے ان عورتوں کی خاموشی کو نہیں پڑھا جن کی عزتیں روندی گئیں، ہم نے ان مردوں کے ٹوٹنے کی آواز نہیں سنی جو اپنی ہی آنکھوں
کے سامنے سب کچھ کھو بیٹھے۔یہی وہ”ان کہی کہانیاں”ہیں جو ایک قوم کے اجتماعی لاشعور میں دفن ہو جاتی ہیں، اور پھر نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیںبغیر کسی زبان کے، بغیر کسی اعتراف کے۔Saadat Hasan Manto نے شاید اسی خاموشی کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔
اس کی کہانیاں، جیسے ٹوبہ ٹیک سنگھ، صرف ادب نہیں بلکہ ایک چیخ ہیںایک ایسی چیخ جو سماج کے کانوں تک نہیں پہنچی، یا پہنچی بھی تو اسے سننے
سے انکار کر دیا گیا۔ منٹو نے وہ لکھا جو سب دیکھ رہے تھے مگر کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اسی لیے اسے پاگل کہا گیا، فحش کہا گیا۔۔کیونکہ سچ ہمیشہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔Friedrich Nietzscheنے کہا تھا:”جو شخص عفریتوں سے لڑتا ہے، اسے خبردار رہنا چاہیے کہ وہ خود عفریت نہ بن جائے”۔
پاکستانی سماج کا المیہ بھی یہی ہے ہم نے ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھا کر خود کو اسی ظلم کا حصہ بنا لیا ہے۔ ہم نے خاموشی کو عادت بنا لیا ہے، اور یہ عادت اب ہماری شناخت بن چکی ہے۔پاکستانی تاریخ صرف جنگوں، مارشل لا، اور سیاسی بحرانوں کی تاریخ نہیں ہے؛ یہ ان گنت خاموش انسانوں کی تاریخ ہے۔ ایک کسان جو اپنی زمین سے محروم ہو گیا مگر کبھی عدالت نہ جا سکا۔ ایک مزدور جو اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہ لے سکا مگر احتجاج نہ کر سکا۔ ایک عورت جو ظلم سہتی رہی مگر بول نہ سکی۔ ایک نوجوان جس کے خواب نظام نے کچل دیے مگر وہ صرف ہنس کر رہ گیا۔Karl Marxنے کہا تھا کہ ”تاریخ دراصل طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے”۔مگر پاکستان میں یہ جدوجہد صرف معاشی نہیں، بلکہ وجودی بھی ہے۔ یہاں انسان صرف روٹی کے لیے نہیں لڑتا، بلکہ اپنی شناخت، اپنی عزت، اور اپنی آواز کے لیے بھی لڑتا ہے اور اکثر ہار جاتا ہے، بغیر کسی تاریخ میں درج ہوئے۔یہاں ایک اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے: ہم نے نہ صرف اپنی کہانیاں چھپائیں، بلکہ دوسروں کی کہانیاں سننے کی صلاحیت بھی کھو دی۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں بدل چکے ہیں جہاں ہر شخص بول رہا ہے، مگر کوئی سن نہیں رہا۔ ہر طرف شور ہے، مگر اس شور میں سچ کی آواز دب چکی ہے۔Albert Camus کے مطابق،”سب سے بڑی بغاوت یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں معنی تلاش کرے جو بظاہر بے معنی ہے”۔
پاکستانی انسان بھی اسی بغاوت میں مصروف ہے وہ ایک ایسے نظام میں جینے کی کوشش کر رہا ہے جو اسے کوئی واضح معنی نہیں دیتا۔ وہ جیتا ہے، محنت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے مگر آخرکار اسے ایک ایسی خاموشی ملتی ہے جس میں اس کی کہانی کہیں گم ہو جاتی ہے۔یہ خاموشی صرف فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری قوم کا بحران ہے۔ جب ایک قوم اپنی کہانیاں سنانا چھوڑ دیتی ہے، تو وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے بیانیے میں جینے لگتی ہے، دوسروں کے خواب دیکھنے لگتی ہے، اور آخرکار دوسروں کی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے اپنی نہیں۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ یہاں ہر شخص کے پاس ایک کہانی ہے، مگر کوئی سنانے والا نہیں، اور کوئی سننے والا بھی نہیں۔ ہم نے سچ کو اتنا دبا دیا ہے کہ اب وہ ہمیں ڈرانے لگا ہے۔ ہم اپنی ہی حقیقت سے خوفزدہ ہو چکے ہیں۔مگر سوال اب بھی وہی ہے: کیا ہم کبھی اپنی کہانیاں سنائیں گے؟ شاید ہاںمگر اس کے لیے ہمیں پہلے اپنی خاموشی کو توڑنا ہوگا۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہمارے اندر درد ہے، شکست ہے، اور سچ ہے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنی کہانیاں نہیں سنائیں گے، ہم تاریخ کا حصہ تو رہیں گے، مگر تاریخ کے مصنف کبھی نہیں بن سکیں گے۔اور شاید سب سے تلخ سچ یہی ہے:پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جہاں کہانیاں زندہ ہیں، مگر کہانی سنانے والے مر چکے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں