میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ضلع ملیر کے ریونیو ریکارڈمیں بدعنوانیاں نیب کے ریڈار پر

ضلع ملیر کے ریونیو ریکارڈمیں بدعنوانیاں نیب کے ریڈار پر

ویب ڈیسک
منگل, ۱۲ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مختیارکار تعلقہ مراد میمن سے117اندراجات کا مکمل ریکارڈ طلب ، مراسلہ جاری
اے جی مجید، محمد علی شاہ، امجد الدین چاچڑ، خالد یوسفی تفتیش کے دائرے میں آ گئے

قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے ضلع ملیر کے ریونیو ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کے الزامات پر اہم انکوائری شروع کی ہے اس سلسلے میں مختیارکار تعلقہ مراد میمن کو ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے 117اندراجات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے ۔دستاویزات کے مطابق انکوائری سابق طاقتور ڈپٹی کمشنر محمد علی شاہ، سیکشن آفیسر (ایل یو) امجدالدین چاچڑ، اے جی مجید، خالد یوسفی سمیت محکمہ ریونیو کراچی کے دیگر افسران و اہلکاروں کے خلاف کی جا رہی ہے ۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر کی جا رہی ہے ، نیب جانب سے طلب کیے گئے ریکارڈ میں مدر انٹری اور اس کے بعد ہونے والی تمام انٹریز کی تفصیلات، الاٹمنٹ لیٹرز، انورڈ رجسٹرز، لیز کی مدت، دستخط کنندگان کے نام، شناختی کارڈ نمبرز، الاٹیز اور جی پی اے ہولڈرز کی معلومات، زمینوں کی موجودہ ڈی سی اور مارکیٹ ویلیو سمیت سائٹ کی موجودہ صورتحال شامل ہے۔ خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام مطلوبہ ریکارڈ اور تصدیق شدہ دستاویزات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (CIT) کے حوالے کی جائیں، جو ایڈیشنل ڈائریکٹر انوسٹی گیشن ونگ-IIنیب کراچی کی سربراہی میں کام کر رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق انکوائری میں زمینوں کے ریکارڈ میں ردوبدل، مشکوک انٹریز اور مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے ، جبکہ مزید افسران کے بھی تحقیقات کے دائرے میں آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں