بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل
شیئر کریں
دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا
افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا لے رہا ہے،معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل، جی ایچ کیو میں پُر وقار تقریب سے خطاب
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطر ناک، دُور رس اور تکلیف دہ ہونگے،الحمد اللہ! پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے، پاکستان سے روایتی جنگ کو ناممکن تصور کرتے ہوئے بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا لے رہا ہے،افغانستان سے ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کامکمل خاتمہ کرے بھارتی جارحیت کے جواب میں کیے گئے آپریشن بنیان المرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہاکہ یہ دن ہم سب کے لیے باعث افتخار ہے،ایک سال قبل ہمیں بے مثال کامیابی ملی،دشمن نے ہمارے قومی عزم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کا ہماری فورسز نے منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانے والی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں حق فتح یاب اور باطل ہزیمت سے دو چار ہوا، 6 اور7 مئی کی درمیانی شب سے 10مئی تک دشمن نے ہمارے قومی وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ کوئی اچانک پیش آنے والا معرکہ نہ تھا،ماضی میں بھی دشمن نے پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگانے کی کوشش کی لیکن معرکہ حق میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا،پاکستان کے دشمن کو ہر بار شکست سے دوچار کیا گیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا کہ ہندوستان کا خواب ہے وہ پاکستان کو عسکری جارحیت اورسفارتی تنہائی کانشانہ بنائے،ہندوستان کا خواب ہے وہ پاکستان کو تنہائی کا نشانہ بناکر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، دشمن کا یہ خواب اس کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے، ہندوستان کا یہ خواب پاکستان کبھی پورا نہیں ہونے دے گا، دشمن بھول چکا تھا افواج پاکستان نہ پہلے طاقت کے غلبے سے مرغوب ہوئے نہ کبھی ہوں گے۔ فیلڈ مارشل نے معرک? حق میں شہید ہونے والی نہتی عورتوں، اور معصوم بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شہدا کی قربانی کو امانت، اپنی طاقت کو ذمہ داری سمجھتے ہیں،اپنی کامیابی کو خدائے بزرگ برتر کا احسان سمجھتے ہیں،عوام اور قومی قیادت کا پیغام ہے ملکی خودمختاری،سرحدی سالمیت،قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،یہ معرکہ صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ ملکی قومی سطح پر تمام شعبہ جات میں جیتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دفاع وطن میں سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی، جب بھارتی میزائل گرے تو عوام کا جم غفیر ملک کے دفاع کے لیے امڈ آیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتح میزائلوں اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زیادہ عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، آج پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کیخلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے، دشمن جان لے کہ پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطر ناک، دُور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ ہمارے شیر دل شاہینوں نے دورحاضر کی سب سے طویل نتیجہ خیزجنگ کی مثال قائم کی،شاہینوں نے دشمن کے جدید جنگی جہاز زمین بوس کیے،تنصیبات کو تباہ کیا،شاہینوں نے دشمن کے طیاروں کو زمین تک محدود کر دیا،ہندوستان کو اس جنگ کے نتیجے میں شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا،اس نقصان کی قیمت دشمن آنے والے وقتوں تک چکاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فتح میزائلوں اور شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زیادہ عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا،الحمد اللہ! پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے، دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کیاثرات محدود نہیں ہونگے، آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطرناک،دُور رس اور تکلیف دہ ہونگے۔ سید عاصم منیرنے کہا کہ عصرِحاضر اور مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی،جنگوں میں دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں، ڈرونز، سائبر اور آرٹیفشل انٹیلیجنس کا استعمال ہوگا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا کہ امریکا اور ایران کی قیادت بالخصوص امریکی صدر کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس مشکل کام کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا ہے،ہم اپنی مخلصانہ کاوشوں سے اس اعتماد پر پورا ہونے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، آج پاکستان موثر، ذمہ دارانہ، غیرجانبدار سفارتکاری سے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے روایتی جنگ کو ناممکن تصور کرتے ہوئے بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا لے رہا ہے،افغانستان سے ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کامکمل خاتمہ کرے، پاکستانی عوام، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والیاداروں کے باہمت اہلکاروں کوسلام پیش کرتا ہوں، بالخصوص کے پی اور بلوچستان کو سلام پیش کرتا ہوں جو گزشتہ 2 دہائیوں سے ڈٹ کر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے غیور عوام ، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام باہمت اور غیور اہلکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں،ہم ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ آرمی چیف نے دوٹوک کہا کہ ہم ہر محاذ پر کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے، ہماری منزل وہ مقام ہے جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا، پاکستان کا سبز ہلالی پرچم امید کا استعارہ ہے اور اس کی مسلح افواج منظم اور ہر لمحہ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ہماری طاقت ہے اور ہم قوم کی قوت ہیں، پاکستان کا مستقل انشاء اللہ بہت روشن اور تابناک ہے، جب حق اور باطل مقابل ہوں تو فتح ہمیشہ حق کا مقدر بنتی ہے، پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور انشائاللہ آنے والے وقتوں تک ناقابلِ تسخیر رہے گا۔ قبل ازیں مسلح افواج کے سربراہان نے باری باری جی ایچ کیو میں یادگار شہداء پر حاضری دی،پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ یادگار شہدا پر حاضری کے بعد مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو سلامی پیش کی۔


