میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
صحیح انسان

صحیح انسان

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا۔ ہر مسکراہٹ محبت نہیں ہوتی اور ہر قریب آنے والا انسان ہمارا اپنا نہیں ہوتا۔ ہم انسانوں کو عموماً ان کے آغاز سے پہچانتے ہیں، انجام سے نہیں۔ ہمیں پہلی ملاقات یاد رہتی ہے ، آخری رویہ نہیں، ابتدائی محبت دکھائی دیتی ہے ، بعد کا کردار نہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ غلط لوگ ہماری زندگی میں اکثر بہت خوب صورت انداز سے داخل ہوتے ہیں۔ وہ پہلے ہمیں اہم محسوس کراتے ہیں، پھر ضروری، پھر محتاج۔ اور ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی اپنے فیصلوں سے نہیں بلکہ دوسرے کے ردِعمل سے گزار رہے ہیں۔

یہیں ایک سوال انسان کو اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے۔ کیا یہ انسان مجھے میری اپنی زندگی کی طرف لے جا رہا ہے یا مجھ سے میری زندگی چھین رہا ہے ؟ یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے ، مگر شاید ہر رشتے کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے ۔ دنیا ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔ لوگ بدل جاتے ہیں، رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، بیماری آتی ہے ، موت آتی ہے ، ناکامیاں آتی ہیں اور کبھی انسان پوری ایمانداری سے کوشش کرنے کے باوجود ہار جاتا ہے ۔ زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ اس میں مسائل آتے ہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات مسئلے سے زیادہ تکلیف دہ انسان ہمارے ساتھ موجود ہوتا ہے ۔ صحیح انسان مسئلہ ختم نہیں کرتا، وہ مسئلے کے درمیان آپ کا ساتھ دیتا ہے ۔ آپ بیمار ہیں تو وہ دوا نہیں بن سکتا، مگر ہسپتال تک پہنچا دیتا ہے ۔ آپ ٹوٹے ہوئے ہیں تو وہ ماضی واپس نہیں لا سکتا، مگر آپ کے پاس خاموش بیٹھ جاتا ہے ۔ آپ ناکام ہیں تو وہ کامیابی آپ کی جھولی میں نہیں ڈال سکتا، مگر یہ ضرور یاد دلاتا ہے کہ ناکامی آپ کی پوری شناخت نہیں ہے ۔ اور دُنیا میں محنت کے راستے محدود نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صحیح انسان کی پہچان خوش حالی میں نہیں، آزمائش میں ہوتی ہے ۔

پرسکون انسان کا اچھا ہونا آسان ہے ۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب طاقت ہاتھ میں ہو، اختیار سامنے ہو، غصہ دل میں ہو اور دوسرا انسان کمزور ہو۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا حقیقت میں کون ہے ۔ چہرہ چند برسوں میں بدل جاتا ہے ، طاقت بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ مزاج وقت کے ساتھ کھلتا ہے ، مگر کردار آزمائش میں سامنے آتا ہے ۔انسان کی اصل شناخت اس وقت نہیں ہوتی جب وہ طاقتور ہو؛ اصل شناخت اس وقت ہوتی ہے جب اسے کسی کمزور پر اختیار حاصل ہو۔

ارسطو سے منسوب ایک خوب صورت خیال ہے کہ انسان اپنی عادتوں سے بنتا ہے ۔ یہی بات رشتوں پر بھی صادق آتی ہے ۔ کردار کوئی ایک واقعہ نہیں، ایک تسلسل ہے ۔ اس لیے کسی انسان کو اس کے خوب صورت جملوں سے نہیں، اس کے بار بار دہرائے جانے والے رویوں سے پہچانیے ۔ وہ غصے میں کیسا ہوتا ہے ؟ کمزور کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے ؟ طاقتور کے سامنے اس کا لہجہ کیسا ہوتا ہے ؟ وہ آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ وہ آپ کی غلطی پر خوشامد کرتا ہے یا سچ بولتا ہے ؟ اور سب سے بڑھ کر، جب اسے آپ سے کوئی فائدہ نہ ہو تو کیا وہ پھر بھی آپ کے ساتھ کھڑا رہتا ہے ؟ یہ سوال کسی بھی رشتے کی اصل رپورٹ بن سکتے ہیں۔

آج کا انسان عجیب تنہائی میں مبتلا ہے ۔ اس کے موبائل میں سینکڑوں contactsہیں، مگر شاید ایک بھی ایسا شخص نہیں جس کے سامنے وہ خاموش بیٹھ سکے ۔ اس کے ہزاروں فالورزہیں، مگر کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے وہ اپنی شکست تسلیم کر سکے ۔ گفتگو بہت ہے ، سمجھ بہت کم ہے ۔ تعلقات بہت ہیں، تعلق بہت کم۔

صحیح انسان وہ ہے جس کے ساتھ خاموشی بھی گفتگو بن جائے ۔ وہ آپ کو اندھیرے کا انکار نہیں کرنے دیتا، مگر اندھیرے میں رہنے بھی نہیں دیتا۔ وہ آپ کو دیکھ کر یہ نہیں کہتا کہ ‘‘تم بالکل ٹھیک ہو’’، وہ کبھی کبھی یہ بھی کہتا ہے کہ ‘‘تم غلط ہو، مگر میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا’’۔ یہی فرق ہے مخلصی اور خوشامد میں۔ غلط انسان آپ کو خوش رکھنے کے لیے آپ کی ہر غلطی کو درست قرار دیتا ہے ۔ صحیح انسان آپ کو کھونے کے خوف سے سچ بولنا نہیں چھوڑتا۔ وہ آپ کو رد نہیں کرتا، مگر آپ کی غلطی کو بھی قبول نہیں کرتا۔

رومی کی صوفیانہ فکر میں زخم صرف درد نہیں، تبدیلی اور معرفت کا دروازہ بھی بن سکتا ہے ۔ ہر ٹوٹنا تباہی نہیں ہوتا۔ بعض شکستیں ہمیں ان لوگوں سے جدا کرتی ہیں جنہیں ہم اپنی نجات سمجھ بیٹھے تھے ۔ بعض جدائیاں دراصل زندگی کی صفائی ہوتی ہیں۔کچھ لوگ ہماری زندگی میں سبق بن کر آتے ہیں، کچھ دعا بن کر، کچھ امتحان بن کر، اور بہت کم لوگ سکون بن کر۔
دریا پتھر سے بحث نہیں کرتا۔ وہ اس سے ٹکراتا ہے ، راستہ بدلتا ہے اور آگے نکل جاتا ہے ۔ درخت ہوا سے جنگ نہیں کرتا؛ جھکتا ہے ، مگر جڑوں سے نہیں اکھڑتا۔ صحیح انسان بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ وہ ہر اختلاف کو جنگ نہیں بناتا، ہر خاموشی کو بغاوت نہیں سمجھتا، ہر فاصلے کو بے وفائی نہیں کہتا۔ وہ جانتا ہے کہ رشتے مٹھی میں بند کرنے سے محفوظ نہیں ہوتے ، اعتماد میں رکھنے سے محفوظ ہوتے ہیں۔

محبت اگر آزادی چھین لے تو وہ محبت نہیں، قبضہ بن جاتی ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ صحیح انسان آپ کو اپنے ساتھ باندھنے کے بجائے آپ کو اپنے پاؤں پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہے ۔

کنفیوشس سے منسوب ایک خیال ہے کہ کردار الفاظ سے بڑا ہوتا ہے ۔ واقعی، کوئی شخص محبت پر ہزار کتابیں پڑھ سکتا ہے اور پھر بھی ایک انسان کو توڑ سکتا ہے ، جبکہ کوئی شخص محبت کی تعریف بھی نہ جانتا ہو مگر بیمار عزیز کے بستر کے پاس پوری رات بیٹھا رہتا ہے ۔کردار وہ سچ ہے جسے الفاظ کی ضرورت نہیں۔ ہم بعض لوگوں سے جدا ہو جاتے ہیں، مگر وہ ہمارے اندر رہ جاتے ہیں۔ ایک خوشبو، ایک گانا، ایک سڑک، ایک موسم یا ایک جملہ ہمیں برسوں پیچھے لے جاتا ہے ۔ یادداشت کا بھی اپنا عجیب مزاج ہے ، انسان چلا جاتا ہے مگر اس کی موجودگی بعض اوقات
دُنیا کی چیزوں میں باقی رہتی ہے ۔ لیکن یہاں ایک راز سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ کسی کو یاد کرنا اور کسی کے پاس واپس جانا ایک ہی چیز نہیں۔ یاد مقدس ہو سکتی ہے ، واپسی ضروری نہیں۔ ماضی کو عزت دینا اور ماضی میں واپس چلے جانا دو مختلف فیصلے ہیں۔

کبھی کبھی انسان کو کسی شخص کو معاف کرکے بھی اس سے دور رہنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ معافی دل کا بوجھ کم کرتی ہے ، لیکن ہر معافی رشتہ بحال کرنے کا حکم نہیں دیتی۔ہم نے آج تعلقات کو بھی سماجی رتبے کے پیمانے پر ناپنا شروع کر دیا ہے ۔ کون کتنا مشہور ہے ، کس کے کتنے فالورز ہیں، کس کے پاس کتنے وسائل ہیں، کون کتنا طاقتور ہے ۔ مگر فطرت کا قانون مختلف ہے ۔ کائنات ہمیں توازن سکھاتی ہے ۔ زندگی صرف زندہ رہنے کا نام نہیں؛ توازن کے ساتھ زندہ رہنے کا نام ہے ۔انسان کو محبت بھی چاہیے اور حدود بھی، تعلق بھی چاہیے اور آزادی بھی، قربت بھی چاہیے اور اپنی ذات کے لیے جگہ بھی۔

غلط انسان آپ کے سکون سے محبت کرتا ہے کیونکہ اس سکون میں آپ اس کے لیے آسان ہوتے ہیں۔ صحیح انسان آپ کے سکون سے زیادہ آپ کی حقیقت سے محبت کرتا ہے ۔ اسی لیے جب آپ ٹوٹتے ہیں تو وہ صرف یہ نہیں کہتا۔ ‘‘پریشان نہ ہو’’۔وہ پوچھتا ہے ۔ ‘‘میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں’’؟ جب آپ غلط ہوتے ہیں تو وہ خوش رکھنے کے لیے خاموش نہیں رہتا۔ وہ کہتا ہے ۔ ‘‘یہ راستہ تمہیں نقصان دے گا’’۔ جب آپ ہارتے ہیں تو وہ آپ کی شکست کو آپ کی شناخت نہیں بننے دیتا۔ جب آپ خود کو کم سمجھتے ہیں تو وہ آپ کو یاد دلاتا ہے کہ انسان کی قیمت کسی ایک ناکامی، ایک رشتے ، ایک شخص یا ایک ماضی سے طے نہیں ہوتی۔

تو پھر صحیح انسان کون ہے ؟ صحیح انسان وہ نہیں جو آپ کی زندگی میں کبھی مسئلہ نہ آنے دے ، صحیح انسان وہ ہے جو مسئلہ آنے پر خود مسئلہ نہ بن جائے ۔ وہ آپ کو کبھی رونے نہ دے ، یہ ضروری نہیں، بلکہ وہ ایسا شخص ہو جس کے سامنے روتے ہوئے آپ کو شرمندگی محسوس نہ ہو۔ وہ آپ کی ہر خواہش پوری کرے ، یہ بھی ضروری نہیں، بلکہ وہ آپ کو اپنی ہر خواہش کا غلام بننے سے بچائے ۔ وہ آپ کو ہر وقت اپنے ساتھ باندھ کر رکھے ، یہ محبت نہیں، صحیح انسان وہ ہے جو آپ کو آزاد دیکھ کر بھی آپ کے ساتھ رہنا چاہے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ صحیح انسان آپ کو اپنے پاس نہیں، اپنے آپ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ محبت کی شاید سب سے اعلیٰ شکل ہے ۔ کیونکہ زندگی کا مقصد یہ نہیں کہ کوئی ہمیں ہمیشہ سہارا دیتا رہے ۔ زندگی کا مقصد یہ ہے کہ کوئی ہمیں اتنا مضبوط کر دے کہ ایک دن ہم خود بھی کھڑے ہو سکیں۔ غلط انسان کہتا ہے ۔ ‘‘میرے بغیر تم کچھ نہیں’’۔ صحیح انسان کہتا ہے ۔ ‘‘اپنے آپ کو مت کھونا۔ اگر میں تمہارے ساتھ ہوں تو اس لیے کہ تم، تم ہو’’۔فرق صرف دو جملوں کا ہے ، مگر ان دونوں کے درمیان پوری دنیا کا فرق موجود ہے ۔ پہلا انسان آپ کو اپنی ضرورت بنا دیتا ہے ، دوسرا آپ کو اپنی ذات سے دوبارہ متعارف کراتا ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ہماری زندگی میں محبت بن کر آتے ہیں، بعض امتحان بن کر، بعض سبق بن کر اور بہت کم لوگ دعا کا جواب بن کر۔

ایک دن انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے اسے توڑا تھا، وہ شاید اس کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ تھا، مگر جس شخص نے اسے ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اٹھنا سکھایا، وہ اس کی زندگی کا سب سے خوب صورت سبق بن چکا تھا۔پھر انسان سمجھتا ہے کہ ہر تعلق کا مقصد ہمیشہ ساتھ رہنا نہیں ہوتا۔ کچھ تعلقات ہمیں اپنے آپ سے ملانے کے لیے آتے ہیں۔ کچھ ہمیں یہ سکھانے آتے ہیں کہ ہماری حدود کہاں ہیں۔ کچھ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ محبت کیا ہے ۔ اور کچھ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ محبت کیا نہیں ہے ۔

آخرکار صحیح انسان وہی ہے جو آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو اپنے پیچھے نہیں چلاتا، بلکہ آپ کے ساتھ چلتا ہے ۔ آپ کے فیصلے چھینتا نہیں، انہیں بہتر بناتا ہے ۔ آپ کی کمزوری کا فائدہ نہیں اٹھاتا، اسے طاقت میں بدلنے میں مدد دیتا ہے ۔ وہ تعلق نبھاتا ہے ، مگر آپ کا وقار بھی بچاتا ہے ۔ وہ انسان سے محبت کرتا ہے ، مگر دل کا آخری سہارا انسان کو نہیں، اللہ کو بناتا ہے ۔ کیونکہ جب انسان اپنے سکون کا مکمل اختیار کسی دوسرے انسان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو وہ محبت نہیں کرتا، اپنی زندگی کی چابی کسی اور کو دے دیتا ہے ۔ صحیح تعلق ہمیں اللہ سے دور، اپنے آپ سے بے خبر اور دنیا سے بے نیاز نہیں کرتا، بلکہ ہمیں زیادہ متوازن، زیادہ باوقار، زیادہ خود شناس اور زیادہ مضبوط بناتا ہے ۔ تب انسان واقعی بکھرنے کے بعد سکون کی طرف واپس آتا ہے ۔ اور شاید زندگی کا سب سے خوب صورت سبق یہی ہے ۔ کہ غلط انسان آپ کو اپنے آپ سے دور کر دیتا ہے ، صحیح انسان آپ کو دوبارہ آپ سے ملا دیتا ہے ۔

کچھ لوگ آپ کی زندگی میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کچھ جاتے ہوئے زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ جاتے ہوئے دعائیں اور اچھی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔اور بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو یہ سکھا کر جاتے ہیں کہ انسان کو کسی دوسرے انسان میں مکمل نہیں ہونا چاہیے ۔ محبت کی آخری منزل کسی انسان کا محتاج ہونا نہیں، بلکہ کسی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اپنی ذات، اپنا وقار، اپنی آزادی اور اپنے رب کو نہ کھونا ہے ۔ شاید یہی صحیح انسان کی اصل پہچان ہے ۔ وہ آپ کو اپنا نہیں بناتا۔ وہ آپ کو آپ کا اپنا بنا دیتا ہے ۔ وہ آپ کو رب کا بنا دیتا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں