مولانا ادریس کی شہادت ،جے یو آئی کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
شیئر کریں
کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے؟حکومت تحفظ نہیں دے سکتی تو عوام پر مسلط کیوں ؟
صوبے میں دہشتگردوں کی چلتی ہے حکومت کی نہیں،سینیٹر عطاء الرحمن کی پریس کانفرنس میں تنقید
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عطا ء الرحمن نے مولانا محمد ادریس کی شہادت کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ نقصان ناقابل برداشت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا۔جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیراور سینیٹر مولانا عطاء االرحمن نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی سرپرست مولانا محمد ادریس کے قتل پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس واقعے کو ناقابل برداشت نقصان قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آج مولانا محمد ادریس کو شہید کر دیا گیا جس سے پوری جماعت میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے؟ ۔ سینیٹر عطاء الرحمن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر وہ عوام پر مسلط کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ علماء ریاست کے خیر خواہ ہیں لیکن انہیں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ کیا ملک اور ریاست کے حق میں بات کرنا جرم ہے؟ ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کئی علماء شہید کیے جا چکے ہیں لیکن اب تک قاتلوں کا تعین نہ ہو سکا۔ ریاست عوام کو بتائے کہ ان واقعات میں کون ملوث ہے۔ سینیٹر عطاء الرحمن نے صوبائی حکومت کو بھی خوب نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ”فارم 47 کی حکومت”13 سال سے مسلط ہے جو خود امن قائم نہیں کر سکتی مگر وفاق کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔مولانا عطائالرحمن نے مزید کہا کہ اس ناحق قتل کے خلاف آج ملک بھر میں احتجاج کریں گے اور تمام اضلاع میں بدامنی کے خلاف مظاہرے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردوں کی چلتی ہے۔ حکومت کی نہیں۔ حکومت کا ایک ہی ہدف ہے کہ قائد کو جیل سے رہا کروایا جائے۔ صوبائی حکومت قوم کی دشمن بن چکی ہے۔آج کا احتجاج صوبائی اور وفاقی حکومت کے خلاف ہوگا۔


