سندھ پولیس میں ایک بار پھر بی کمپنی کا کھیل زور پکڑ گیا
شیئر کریں
اہلکار منشیات فروشوں، گٹکا ماوا ڈیلرز اور جرائم پیشہ عناصر کے سہولت کار بن چکے ہیں
کچھ کمائو پوت اہلکاروں کو بچانے کیلئے عارضی طور پر معطل کر کے سائیڈ پر کر دیا گیا، ذرائع
(رپورٹ؍ ایم جے کے)سندھ پولیس میں ایک بار پھر “بی کمپنی” کا کھیل زور پکڑ گیا ہے، مگر سوال وہی پرانا ہے کیا یہ واقعی احتساب ہے یا صرف دکھاوا؟ ذرائع کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیس کے اندر ایک ایسا نظام جڑ پکڑ چکا ہے جہاں خود اہلکار منشیات فروشوں، گٹکا ماوا ڈیلرز اور جرائم پیشہ عناصر کے سہولت کار بن چکے ہیں، یہاں تک کہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں بھی ملوث ہیں، کئی علاقوں میں تو یہ بھی الزامات سامنے آئے ہیں کہ تھانوں کی حدود میں منشیات کی فروخت بغیر اوپر کی اجازت کے ممکن ہی نہیں، اب اچانک “بی کمپنی” کے نام پر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، اہلکاروں کو معطل کیا جارہا ہے، لسٹیں تیار ہو رہی ہیں اور نئے نام شامل کیے جا رہے ہیں، اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ “بی کمپنی” میں دوبارہ بھرتیاں شروع ہو چکی ہیں یعنی وہی پرانا کھیل، نئے انداز میں، حقیقت یہ ہے کہ سالوں سے منشیات فروشوں، چوروں، ڈکیتوں، گٹکا ماوا مافیا اور زمینوں پر قبضہ کرنے والوں سے کروڑوں روپے کی مبینہ وصولیاں ہوتی رہی ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف نچلے درجے کے اہلکار اکیلے کر رہے تھے یا اس کے پیچھے ایک مکمل سسٹم کام کر رہی ہے؟ ہر بار کی طرح اس بار بھی کارروائیوں کا رخ صرف سپاہی سے انسپکٹر تک محدود دکھائی دیتا ہے، جبکہ بڑے افسران بدستور محفوظ ہیں، عوام اور خود پولیس کے اندر بھی یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اصل احتساب نہیں بلکہ قربانی کے بکرے تیار کیے جارہے ہیں، ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ کچھ “کماو پوت” اہلکاروں کو بچانے کے لیے انہیں عارضی طور پر معطل کر کے سائیڈ پر کر دیا جاتا ہے تاکہ وقت آنے پر دوبارہ سیٹ کیا جا سکے یعنی سسٹم وہی، چہرے وقتی بدل دیے جاتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ اگر منشیات و گٹکا ماوا کا دھندہ چل رہا ہے تو کیا اعلیٰ افسران لاعلم ہیں؟ کیا تھانوں میں منشیات و گٹکا ماوا کی مد میں لاکھوں کی بیٹ نہیں جاتی؟ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ سندھ پولیس محکمے میں کون کر رہا ہے اور کرنے والے ڈرامائی سزا پاکر بحال نہیں ہوئے؟ بھتہ اور وصولی کی رقم کہاں تک جاتی ہے؟ اور کیوں ہر بار صرف چھوٹے اہلکار و ایس ایچ او ہی نشانے پر آتے ہیں؟ عوام کا کہنا ہے کہ یہ سب وقتی ایکشن ہوتے ہیں جو ہر کچھ سال بعد دیکھنے کو ملتے ہیں، چند دن شور، پھر سب کچھ پہلے جیسا جو اہلکار آج بی کمپنی میں بھیجے جاتے ہیں کل پھر کسی اہم پوسٹ پر نظر آتے ہیں اگر واقعی احتساب کرنا ہے تو کارروائی کا دائرہ اوپر تک لے جایا جائے ہر کیس کی شفاف انکوائری کی جائے واپسی اور تقرری کو سخت میرٹ پر رکھا جائے ورنہ “بی کمپنی” صرف ایک ڈرامہ بن کر رہ جائے گی، جہاں شور تو بہت ہوگا مگر نظام جوں کا توں رہے گا۔


