میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
2 ہزار پیٹرول سبسڈی کے وعدے نے عوام کو رُلا دیا

2 ہزار پیٹرول سبسڈی کے وعدے نے عوام کو رُلا دیا

ویب ڈیسک
منگل, ۵ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایپ بنا کر ہماری غریبی کا مذاق اڑاتے ہیں، ریلیف دینا ہی ہے تو پٹرول سستا کر دیں
ایپ کس چڑیا کا نام ہے اور آج بھی مہنگاپیٹرول خریدنے پر مجبور ہیں،شہریوں کی گفتگو
حکومتی وعدے کے تحت پیٹرول سبسڈی کی رقم اگر نہ مِلے تو یہ قصور کس کا ہے، عوام کا یا حکومت کا جبکہ شہریوں کا سوال ہے کہ پٹرول سبسڈی کی مد میں ملنے والی دو ہزار روپے کی رقم آخر کس چڑیا کا نام ہے۔تفصیلات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کچھ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حکومت کی طرف سے ملنے والی دو ہزار روپے کی رقم خوشی کی بات ہے تو بہت سے ایسے بھی ہیں جن کو ابھی تک رقم نہیں ملی جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی جس کو معلوم ہی نہیں کہ حکومت دو ہزار روپے ماہانہ دے رہی ہے۔وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتوں نے پٹرول سبسیڈی کی مد میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے دو ہزار روپے ماہانہ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس حوالے سے ایک مخصوص ایپ بھی تیار کی گئی جس میں موٹر سائیکل سواروں نے رجسٹریشن کرانا تھی۔ رجسٹریشن کے بعد ان کو دو ہزار روپے ملنے تھے۔نجی ٹی وی چینل نے جب اس سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپس پر جاکر موٹر سائیکل سواروں سے بات چیت کی تو سینکڑوں کی تعداد ایسے موٹر سائیکل سواروں کی نکلی جن کو ایپ کے بارے میں معلومات ہی نہیں تھی کہ ایپ کس چڑیا کا نام ہے اور وہ آج بھی مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں۔ثاقب اویس بشیر ساجد نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کس نے ایپ بنائی، کب بنی اور دو ہزار روپے سے کتنا پٹرول ملنا تھا، ایپ بنا کر ہماری غریبی کا مذاق اڑاتے ہیں۔شہری نے کہا کہ ریلیف دینا ہی ہے تو پٹرول سستا کر دیں غریب کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ دو وقت کی روٹی پوری نہیں ہو رہی۔ ہمارے پاس تو سمارٹ فون ہی نہیں تو ایپ کہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں۔ جن موٹر سائیکل سواروں کو ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دو ہزار نہیں ملے ان کا کہنا تھا ایک ماہ گزر گیا ابھی تک کوئی پیغام نہیں ملا۔ ایپ پر دوبارہ لوگ اون ہوتے ہیں تو وہ کوئی جواب نہیں ملتا۔ انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں شائد باری ہی نہ آئے۔عامر بشیر ساجد نے بتایا کہ ان کو دو ہزار روپے مل گئے اور وہ بہت خوش ہیں۔ دیکھتے ہیں اس ماہ بھی ملتے ہیں کہ نہیں۔ دو ہزار رقم تھوڑی ہے لیکن چلو کچھ تو حکومت کو خیال آیا۔ اگر پٹرول سستا کر دیں تو اچھا ہے دو ہزار روپے میں چار پانچ لیٹر مل جاتا ہے مگر خرچ دس پندرہ لیٹر ہوتا ہے جبکہ ایزی پیسہ شاپس کے مالک کا کہنا تھا کہ جن لوگوں
کو ایپ ڈاؤن لوڈ نہیں کرنی آتی ان کو یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں اور جو پٹرول سبسڈی کی رقم لینے آتے ہیں ان کو رقم بھی دے رہے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں