سندھ بلڈنگ ،ناظم آباد میں انہدامی کارروائیاں بے اثر
شیئر کریں
منہدم عمارت 2A 4/17 دوبارہ کھڑی، ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان خان ملوث
ڈائریکٹر وسطی رؤف شیخ کی چشم پوشی، ڈپٹی ڈائریکٹر کامران کی مبینہ سرپرستی
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی انہدامی کارروائیوں کی افادیت پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناظم آباد نمبر 2 میں واقع پلاٹ نمبر A-4/17 پر گزشتہ دنوں خلاف ضابطہ تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے عمارت کو منہدم کیا گیا تھا، تاہم حیران کن طور پر مذکورہ پلاٹ پر ازسرنو تعمیر تیزی سے جاری ہے اور اب تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ صورتحال محکمہ کے اندرونی نظام پر سوالیہ نشان ہے ، جہاں ایک طرف انہدامی کارروائیاں دکھاوے کے طور پر کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب انہی مقامات پر دوبارہ غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دے دی جاتی ہے ۔ ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان خان کی کارکردگی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ ان کی نگرانی میں ہونے والی کارروائیاں مستقل حل فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر وسطی رؤف شیخ کی مبینہ چشم پوشی اور ڈپٹی ڈائریکٹر کامران کی سرپرستی کے باعث تعمیراتی مافیا دوبارہ سرگرم ہو چکا ہے ، جس سے نہ صرف قوانین کی دھجیاں اڑ رہی ہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور خلاف ضابطہ تعمیرات کا مستقل خاتمہ یقینی بنایا جائے ۔


