بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
بھارت ہمیشہ سے منشیات کی اسمگلنگ کا مرکز رہا ہے مگر اسمگلنگ کے راستے اور طریقے مزید جدید ہو گئے۔اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی UNODC کے مطابق "بھارت غیر قانونی منشیات اور کیمیکل کی اسمگلنگ کا بڑا مرکز، میانمار سے وسطی امریکہ اور افریقہ تک فراہمی جاری”۔حال ہی میں بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت سے غیر قانونی افیون کی ترسیل ہزاروں زندگیاں تباہ کر کے صحت عامہ کے بحران کو بڑھا رہی ہیں، بھارت بین الاقوامی سطح پر وسطی افریقہ کو غیر قانونی منشیات فراہم کرتا ہے۔
نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی (NDLEA) نے 2023 میں بھارت سے سپلائی ہونے والی 100 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی افیون ضبط کیں، نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی نے غیر قانونی (ٹراماڈول) ضبط کر لیے جو نشہ آور ادویات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد، بھارت سے اسمگلنگ افیون استعمال کر رہے ہیں،گھانا کا شہر تمالی بھی بھارت سے اسمگل شدہ افیون کا سب سے بڑا شکار ہے۔بھارت سے آنے والی افیونی ادویات نائیجیریا میں بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، 2018 میں حکومت نے غیر قانونی افیونی ادویات کی فروخت اور بھارت سے درآمد پر پابندی بھی لگائی۔تب سے اب تک سرحد پار سے مزید افیونی ادویات کی سمگلنگ جاری ہے،بھارت سے افیون گھانا اسمگل کی جاتی ہیں اور پھر گھانا کی سرحد سے نائیجیریا پہنچتی ہیں۔صحافی یحییٰ مسعود کا کہنا تھا کہ ایسے منشیات خاندانوں اور ملک کے باصلاحیت افراد کو تباہ کر رہی ہیں، افیون سانس کے مسائل اور دوروں کا سبب جبکہ زیادہ مقدار جان لیوا ہو سکتی ہے۔ٹفرادول، "میڈ ان انڈیا” افیون منشیات، چھوٹے منشیات فروشوں کے ذریعے گھانا پہنچ رہی ہیں،افیون کی قسم "ٹفرادول” خطرناک ترین منشیات میں شامل، پہلا انجکشن ہی جان لیوا ہو سکتا ہے۔افیون ادویات "ٹائما کنگ”، "ٹفرادول” اور "ٹراماڈول” بھارت میں بھارتی دواساز کمپنی ایویو (Aveo) کے ذریعے تیار کی جا رہی ہیں، ایویو کے ڈائریکٹر ونود شرما نے بھارتی حکام کی منشیات سمگلنگ میں ملوث ہونے کی تصدیق کی۔نائجیرین صحافی کے مطابق بھارتی حکام افریقی ممالک کو بیچی جانے والی غیر قانونی ادویات پر کم توجہ دیتے ہیں کیونکہ وہ خود ملوث ہیں، بھارت میں بننے والی یہ منشیات دیگر ممالک میں کروڑوں کا منافع کما کر ہزاروں زندگیاں برباد کر رہی ہیں۔
بھارت نے عالمی منشیات کی تجارت میں بین الاقوامی اسمگلنگ کے راستوں کا استعمال کرتے ہوئے ٹرانزٹ پوائنٹ سے ایک اہم سپلائر کے طور پر تبدیلی کی ہے۔ 2014ء میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد، پالیسی کی خامیوں اور ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں منشیات کی تجارت کو فروغ ملا، اسمگلنگ کے راستوں اور گھریلو منشیات کے لیبارٹریز میں اضافے کے ساتھ ضبط کی گئی منشیات میں نمایاں اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024ء میں گجرات میں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی سے 518 کلو کوکین برآمد ہوئی، جس سے بھارت کا بین الاقوامی منشیات کے کارٹیلز کے ساتھ تعلق ظاہر ہوا۔ اقوام متحدہ کے یو این او ڈی سی کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت غیرقانونی شپمنٹس کا ایک بڑا مرکز بن گیا ہے اور بھارتی صنعتوں سے پریکرسر کیمیکلز میتھ لیبارٹریز تک پہنچ رہے ہیں۔
بھارت عالمی میتھ بحران میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور غیرقانونی لیبارٹریز وسطی امریکا، افریقا اور ایشیاء کو سپلائی کر رہی ہیں، دہلی میں نائجیریائی آپریٹرز سے منسلک ایک میتھ لیب کی دریافت بھارت کی عالمی مسئلے میں شمولیت کی مثال ہے، بھارتی ڈائسپورا یورپ اور شمالی امریکا میں منشیات کی تقسیم کیلئے نیٹ ورک کے طور پر کام کررہا ہے۔بھارت کی غیر قابو شدہ منشیات کی تجارت نے گھریلو نشے بالخصوص نوجوانوں میں وباء کو ہوا دی ہے، 2023 کی پارلیمانی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 6.6 ملین سے زیادہ منشیات استعمال کرنیوالے ہیں اور صرف پنجاب میں 0.34 ملین بچے اوپی ایڈز استعمال کرتے ہیں۔بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امریکا، آسٹریلیا اور یورپ سمیت کئی ممالک سخت ایکشن لینے پر مجبور ہو گئے۔ ان ممالک نے ویزا قوانین مزید سخت کرنے، نگرانی بڑھانے اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کے مکروہ دھندے میں بھارتی اسمگلرز ملوث نکلے، بھارتی اسمگلرز اور جرائم پیشہ افراد عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگری نیٹ ورکس اور دہشتگردی کی واضح علامت بنتے جا رہے ہیں جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی اسمگلرز کی منظم جرائم پیشہ سرگرمیوں کا پردہ چاک کر دیا۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے جرم میں ملوث ایک اور بھارتی شہری کو امریکی عدالت سے سزا سنا دی گئی۔ بھارتی اسمگلر شیوم لنو درجنوں افراد کو غیر قانونی طور پر امریکا داخل کرانے میں ملوث رہ چکا ہے۔ بھارتی اسمگلر گذشتہ برس انسانی اسمگلنگ کے کئی غیرقانونی آپریشنز کا حصہ رہا، بھارتی شہریوں کی جانب سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ دو سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہری امریکا میں غیرقانونی داخلے کے دوران گرفتار ہوئے۔ بھارتیوں کی غیرقانونی امیگریشن کا بڑھتا رجحان عالمی سیکیورٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے، نااہل مودی کی ناقص اور ناکام پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو قانون شکن راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ماہرین کا کہنا تھابھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، منشیات اسمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑے نیٹ ورکس عالمی سلامتی کیلئے خطرہ بنتے کا رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کے میزبان ممالک میں بڑھتے جرائم نے مودی کے نام نہاد ترقی اور خوشحالی کے فریب زدہ بیانیے کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔
٭٭٭


