سندھ بلڈنگ،پی ای سی ایچ ایس میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات بے قابو
شیئر کریں
رہائشی علاقے تجارتی مراکز میں تبدیل،آصف شیخ کے گھناؤنے سسٹم میں قانون مفلوج
بلاک 2پلاٹ 26B,27Bپرتعمیراتی لاقانونیت، امتیاز شیخ ، اورنگزیب علی کی ملی بھگت
شہر قائد کے ضلع شرقی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی خلاف ضابطہ تعمیرات نے شہری نظم و ضبط پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ باوثوق ذرائع اور جرأت سروے کے مطابق مبینہ طور پر بلاک 2 کے پلاٹ نمبر 26B, 27Bپر آصف شیخ کے قائم کردہ سسٹم کے تحت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران امتیاز شیخ اور بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی کی ملی بھگت سے تعمیراتی مافیا بلاخوف و خطر سرگرم ہے ۔رپورٹس کے مطابق رہائشی نقشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پلاٹوں کو کمرشل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، جہاں دکانیں، دفاتر اور دیگر کاروباری یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس غیر قانونی کمرشلائزیشن کے باعث ٹریفک کا دباؤ، پارکنگ کا بحران، اور سیوریج و دیگر شہری سہولیات پر اضافی بوجھ بڑھ چکا ہے ، جس پر علاقہ مکین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس سے مبینہ طور پر افسران اور مافیا کے گٹھ جوڑ کے تاثر کو تقویت مل رہی ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور رہائشی علاقوں کی اصل حیثیت کی بحالی یقینی بنائیں۔


