کیا پاکستانی ریاست واقعی صرف اشرافیہ کے لیے ہے؟
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
پاکستان کے بارے میں یہ جملہ کہ ”یہ ملک صرف اشرافیہ کے لیے بنایا گیا”بظاہر ایک تلخ سیاسی نعرہ محسوس ہوتا ہے، مگر جب انسان
پاکستان کی معاشی، سماجی، تعلیمی، سیاسی اور نفسیاتی حقیقتوں کا مطالعہ کرتا ہے تو یہ جملہ ایک جذباتی الزام کم اور ایک اجتماعی سوال زیادہ بن جاتا
ہے۔ ایک ایسا سوال جو صرف غریب آدمی کی چیخ نہیں بلکہ تحقیق، اعداد و شمار، عالمی رپورٹس، اور دہائیوں کے سماجی تجربات سے جنم لیتا
ہے۔یہ محض اتفاق نہیں کہ پاکستان میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی گئی، زمین مخصوص خاندانوں کے پاس رہی، سیاست نسل در نسل
منتقل ہوتی رہی، بیوروکریسی ایک محدود اشرافیہ کے گرد گھومتی رہی، اور معیاری تعلیم و صحت صرف ان طبقات تک محدود رہی جو پہلے ہی
طاقت رکھتے تھے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ غریب کیوں غریب ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پورا نظام ہی اس طرح تشکیل پا چکا ہے کہ
غریب نسل در نسل غریب رہے اور طاقت نسل در نسل طاقتور ہاتھوں میں منتقل ہوتی رہے؟دنیا بھر میں عدم مساوات پر تحقیق کرنے والے
ادارے مسلسل پاکستان کو ایک ایسی ریاست قرار دیتے رہے ہیں جہاں inequalityصرف آمدنی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورا سماجی ڈھانچہ
طبقاتی تقسیم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آکسفیم، ورلڈ بینک، اقوامِ متحدہ،لمز،پی آئی ڈی آئی،ایس ڈی پی آئی، اور دیگر اداروں کی رپورٹس بار
بار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان میں inequality ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک institutional reality بن چکی
ہے۔
پاکستان میں پیدا ہونے والا بچہ دراصل دو الگ دنیاؤں میں سے کسی ایک میں جنم لیتا ہے۔ اگر وہ کسی پوش علاقے، طاقتور خاندان، نجی
اسکول، انگریزی ماحول، یا سرمایہ دار گھرانے میں پیدا ہوا تو اس کے لیے ریاست ایک ”موقع” ہے۔ مگر اگر وہ کسی کچی آبادی، دور افتادہ
گاؤں، یا غربت زدہ خاندان میں پیدا ہوا تو ریاست اکثر اس کے لیے ایک ”دیوار”بن جاتی ہے۔ وہی قانون، وہی ملک، وہی آئین مگر دو
مختلف تجربات۔پاکستان میں ایک امیر بچہ بچپن سے confidence inheritکرتا ہے جبکہ ایک غریب بچہ insecurity inherit کرتا ہے۔ امیر بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ دنیا اس کے لیے کھلی ہوئی ہے، جبکہ غریب بچے کو بہت جلد یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اس
کی زندگی کی حدیں پہلے ہی متعین کی جا چکی ہیں۔ پاکستان میں تعلیم شاید سب سے بڑی طبقاتی لکیر بن چکی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان
ہے جہاں بچے ہزاروں ڈالر فیس والے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں، انگریزی میں سوچتے
ہیں، اور دنیا کو global perspective سے دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف وہ پاکستان ہے جہاں بچے ٹوٹی ہوئی سرکاری عمارتوں، بغیر
اساتذہ کے اسکولوں، یا مکمل طور پر تعلیم سے محرومی میں پروان چڑھتے ہیں۔یونیسف، یونیسکو، اور مختلف پاکستانی سرویز مسلسل یہ بتاتے رہے
ہیں کہ پاکستان میں کروڑوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ مگر اصل المیہ صرف اسکول سے باہر بچے نہیں بلکہ وہ بچے بھی ہیں جو اسکول جاتے
ہوئے بھی کچھ نہیں سیکھ پاتے۔ یہ learning poverty دراصل پورے سماج کی فکری شکست ہے۔سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب،
اندرونِ سندھ، تھر، اور دور افتادہ علاقوں میں صورتحال اور زیادہ تلخ ہے۔ وہاں ایک غریب بچی کے لیے تعلیم صرف مشکل نہیں بلکہ کئی جگہوں
پر تقریباً ناممکن خواب بن چکی ہے۔ جب ایک بچی تعلیم سے محروم رہتی ہے تو دراصل ایک پوری نسل محروم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
غربت صرف معاشی نہیں بلکہ تہذیبی وراثت بن جاتی ہے۔
پاکستان میں صحت کا نظام بھی طبقاتی تقسیم کی ایک ہولناک مثال ہے۔ ایک پاکستان وہ ہے جہاں نجی اسپتالوں میں کروڑوں روپے کے
علاج موجود ہیں، جہاںوی آئی پی وارڈز ہیں، جہاں بیرونِ ملک ڈاکٹر موجود ہیں۔ دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں سرکاری اسپتالوں کے باہر
لوگ دوائی نہ ملنے پر مر جاتے ہیں، جہاں غریب باپ اپنے بچے کے علاج کے لیے قرض لیتا ہے، زیور بیچتا ہے، یا خاموشی سے موت کا
انتظار کرتا ہے۔یہاں انسان کی زندگی کی قیمت بھی طبقے کے حساب سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ طاقتور کے لیے پورا نظام حرکت میں آ جاتا
ہے، جبکہ غریب آدمی اکثر صرف ایک خبر بن کر رہ جاتا ہے۔پاکستان کی معیشت کا ایک اور خوفناک پہلو informal economy
ہے۔ کروڑوں لوگ بغیر کسی سوشل سیکیورٹی، پنشن، یا مستقل تحفظ کے کام کرتے ہیں۔ ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار، یا چھوٹا
دکاندار پورا دن محنت کرتا ہے مگر پھر بھی مستقبل سے محفوظ نہیں ہوتا۔ ایک بیماری، ایک حادثہ، یا مہنگائی کی ایک نئی لہر پوری زندگی تباہ کر دیتی
ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غربت صرف معاشی stress نہیں بلکہ مسلسل psychological trauma بن چکی ہے۔
جب انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، جب وہ اپنے بچوں کی خواہشات پوری نہ کر سکے، جب وہ بیماری میں دوائی نہ خرید سکے،
جب وہ مسلسل humiliationمحسوس کرے، تو پھر اس کے اندر anxiety، depression، hopelessness، اور social alienationپیدا ہونے لگتا ہے۔پاکستانی نوجوان آج صرف بے روزگار نہیں بلکہ existential crisis کا شکار ہوتا
جا رہا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے نظام میں زندہ ہے جہاں راستے پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ brain drain بڑھ رہا ہے۔ نوجوان صرف نوکری کے لیے ملک نہیں چھوڑ رہے بلکہ dignityکی تلاش میں جا رہے ہیں۔پاکستان کا ٹیکس نظام
بھی شدید طبقاتی تضاد کی مثال بن چکا ہے۔ غریب آدمی آٹا خریدے تو ٹیکس، موبائل ریچارج کرے تو ٹیکس، بجلی استعمال کرے تو ٹیکس،
پیٹرول خریدے تو ٹیکس۔ مگر دوسری طرف بڑے طاقتور طبقات اکثر قانونی چھوٹ، زرعی استثنا، اور مالیاتی رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے
رہتے ہیں۔ یوں ریاست کا مالی بوجھ نسبتاً کمزور طبقوں پر منتقل ہوتا جاتا ہے۔
پاکستان میں جاگیرداری صرف زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ذہنیت ہے۔ ایک ایسا سماجی ڈھانچہ جہاں طاقتور انسان خود کو قانون سے بڑا
محسوس کرنے لگتا ہے اور غریب انسان اپنی انسانیت تک بھولنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی علاقوں میں آج بھی خوف، خاموشی، اور d
ependency کی ثقافت موجود ہے۔فرانسیسی مفکر Pierre Bourdieuنے”cultural capital”کا تصور پیش کیا تھا۔
پاکستان میں یہ تصور انتہائی واضح نظر آتا ہے۔ اشرافیہ صرف دولت inherit نہیں کرتی بلکہ زبان، اعتماد، تعلقات، اداروں تک رسائی،
اور سماجی شناخت بھی inherit کرتی ہے۔ اسی لیے یہاں merit بھی اکثر طبقاتی privilege میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ایک
غریب نوجوان جب کسی eliteیونیورسٹی یا بڑے ادارے میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف تعلیمی فرق کا سامنا نہیں کرتا بلکہ cultural inferiorityکا بھی شکار ہوتا ہے۔ اس کی زبان، لباس، لہجہ، اعتماد، حتیٰ کہ خواب بھی مختلف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طبقاتی تقسیم صرف
جیبوں میں نہیں بلکہ نفسیات میں بھی اتر چکی ہے۔ دوسری طرف کچی آبادیاں، گندا پانی، بے روزگاری، اور ٹوٹے ہوئے اسکول۔ یہ صرف
دو معاشی طبقات نہیں بلکہ دو مختلف حقیقتیں ہیں۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں غربت آہستہ آہستہ معمول ہوتی جا رہی
ہے۔ بھوک، بے روزگاری، بچوں کی مشقت، تعلیم سے محرومی، اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ اب حیران نہیں کرتی۔ جب ایک سماج ظلم کو معمول
سمجھنے لگے تو اس کا اخلاقی زوال شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اس پوری تاریکی میں ایک حقیقت پھر بھی زندہ ہے۔ پاکستان صرف اشرافیہ کی
کہانی نہیں۔ یہ مزدور کے پسینے، کسان کے ہاتھوں، استاد کی خاموش جدوجہد، صحافی کی مزاحمت، نرس کی راتوں، اور عام نوجوان کی
امیدوں سے بھی بنا ہے۔یہ ملک آج بھی ان لوگوں کے کندھوں پر کھڑا ہے جن کے پاس اقتدار نہیں مگر محنت ہے۔ جن کے پاس وسائل
نہیں مگر زندگی کو آگے بڑھانے کی ضد ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کبھی ایک ایسا سماج بن سکے گا جہاں ایک غریب بچے کی زندگی کی قیمت بھی اتنی ہی ہو جتنی کسی طاقتور
خاندان کے بچے کی؟ کیا یہاں کبھی قانون، تعلیم، علاج، انصاف اور عزت طبقے سے آزاد ہو سکیں گے؟کیونکہ کوئی بھی ریاست صرف اسلحے،
عمارتوں، یا نعروں سے نہیں چلتی۔ ریاستیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب ان کے عام لوگ خود کو انسان محسوس کریں۔ جب ایک مزدور، ایک
کسان، ایک طالب علم، ایک غریب ماں، اور ایک بے روزگار نوجوان یہ یقین رکھے کہ یہ ملک بھی اس کا ہے۔اور شاید پاکستان کا سب سے
بڑا بحران یہی ہے ۔ یہاں کروڑوں لوگ اب بھی زندہ ہیں، محنت کر رہے ہیں، خواب دیکھ رہے ہیں، مگر انہیں اب تک یقین نہیں آیا کہ یہ
ریاست واقعی ان کی بھی ہے۔
٭٭٭


