آواز کی ملکہ کو موت نے خاموش کردیا،آشا بھوسلے چل بسیں
شیئر کریں
آشا بھوسلے نے اپنی بڑی بہن معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کی مقبولیت کے باوجود اپنی منفرد شناخت قائم کی
بھارت کی لیجنڈری گلوکارہ آ شا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق لیجنڈ گلوکارہ کافی دنوں سے بیمار تھیں اور ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں داخل تھیں، جہاں وہ اتوار کے روز انتقال کر گئیں۔
آشا بھوسلے کو سینے میں انفیکشن کے سبب اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، آشا بھوسلےکا انتقال متعدد اعضا کےکام چھوڑ جانے کے سبب ہوا۔
لیجنڈ گلوکارہ کے بیٹے آنند بھوسلے کا کہنا ہے کہ آشا بھوسلےکی آخری رسومات کل شام کوادا کی جائیں گی۔ لوگ کل صبح 11 بجے کاسا گرانڈے، لوئر پریل میں ان کے گھر آ کر ان کی آخری دیدار کر سکتے ہیں۔ ان کی آخری رسومات کل شام چار بجے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے مغربی علاقے کے ایک گاؤں سانگلی میں پیدا ہونے والی آشا بھوسلے بھارتی فلمی صنعت کی مقبول ترین پلے بیک گلوکاراؤں میں شمار ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنے موسیقی کے سفر کا آغاز 1950 کی دہائی کے اواخر میں کیا اور 1980 کی دہائی تک اپنے فن کا جادو جگاتی رہیں۔
2011ء میں آشا بھوسلے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں موسیقی کی تاریخ کی سب سے زیادہ ریکارڈنگز کرانے والی فنکارہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
ان کے مقبول ترین گانوں میں ”ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر”، ”چرا لیا ہے تم نے جو دل کو”، ”دم مارو دم”، ”جوان جانِ من” اور ”جھمکا گرا رے” شامل ہیں، تاہم ان کے طویل کیریئر کے باعث ان کے ہٹ گانوں کی مکمل فہرست مرتب کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
وہ بھارتی فلموں میں کیبرے طرز کے جاندار گانوں کے لیے بھی جانی جاتی تھیں اور انہوں نے خواتین گلوکاراؤں کے روایتی رومانوی انداز سے ہٹ کر اپنی منفرد پہچان بنائی۔
آشا بھوسلے نے بالی وڈ میں درجنوں ہٹ گانے گائے ہیں جبکہ گلوکارہ کو 2000 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 2008 میں پدم وبھوشن جو بھارت کا دوسرا سب سے بڑا شہری ایوارڈ ہے سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
آشا بھوسلے، معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں، لیکن اپنی بڑی بہن کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود انہوں نے بھارتی موسیقی کی دنیا میں اپنی الگ شناخت قائم کی اور انہیں تاریخ کی سب سے ہمہ جہت گلوکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔


