نیتن یاہو پر اندرونی و عالمی دباؤ، سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ گیا
شیئر کریں
58فیصد اسرائیلی عوام ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج اور موجودہ جنگ بندی پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں،رپورٹ
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگ بندی کے معاملے پر اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر شدید دبا ئوکا سامنا ہے جس نے ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں جاری حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق تقریباً 58فیصد اسرائیلی عوام ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج اور موجودہ جنگ بندی پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
دوسری جانب 79 فیصد افراد لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ متضاد رائے وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ ایک طرف عوام کی بڑی تعداد جنگ جاری رکھنے کی حامی ہے جبکہ دوسری جانب جنگ بندی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل پر دبائو بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر امریکا کے ساتھ ساتھ کینیڈا، جرمنی اور دیگر ممالک نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے اور کشیدگی کو مزید نہ بڑھائے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کے لیے یہ صورتحال نہایت حساس ہے،اگر اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگ بندی کے خلاف رہی تو انہیں سیاسی طور پر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے جبکہ عالمی دبا کو نظرانداز کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں نیتن یاہو کو ایک مشکل فیصلہ کرنا ہوگا، جس کا اثر نہ صرف اسرائیل کی داخلی سیاست بلکہ پورے خطے کی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔


