امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)
شیئر کریں
جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے
ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیادت اور قوم کے عزم اور استقامت کو سلام پیش کیا ہے اور حکومت پاکستان کی قیام امن کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ امریکہ کی اجاری داری کا نظام ختم ہوچکا، 6 ہفتوں کی جنگ میں اسے سفارتی اور فوجی شکست ہوگئی ۔منصورہ سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل نے جس طرح عالمی قوانین کو روندتے ہوئے ایران پر حملے کیے اور اسے تہس نہس کرنے، ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے وہ دھرے کے دھرے رہ گئے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ چھ ہفتوں کی جنگ کے بعد جس معاہدہ پر عارضی جنگ بندی ہوئی ہے وہ آبنائے ہزمز کے کھولنے پر ہے جو دراصل ایران کی کامیابی ہے جس پر ہم ایرانی قیادت اور قوم کی تزویراتی منصوبہ بندی کو سراہتے ہیں اور اسے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نیاس ساریعمل میں حکومت پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ حکومت نے جس طرح خلیج میں صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ برقرار رکھتے ہوئے تہران اور ریاض کے درمیان حالات کو نارمل رکھا وہ قابل تحسین ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حالیہ جنگ سے یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ میں جمہوریت محض نام کی ہے، واشنگٹن دراصل اسرائیل کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کررہا ہے، پورے ملک کی پنتیس کروڑ آبادی سرمایہ داروں، صہیونی لابی اور اسلحہ ساز فیکٹروں کے مالکان کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ اس پورے عمل میں یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ دنیا میں امریکی اجاری داری کا نظام ختم چکا اور اس نام نہاد عالمی طاقت کو اخلاقی، سفارتی اور فوجی شکست ہوگئی ہے۔پوری دنیا میں باضمیر انسان امریکہ مخالف ہوچکے ہیں اور یورپ واشنگٹن کا اتحادی نہیں رہا۔ لہذا وہ لوگ جنہوں نے سامراج کو شکست دینے میں اہم ترین کردار ادا کیا اور چھ ہفتے آگ اور بارود کے عذاب کو برداشت کیا وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئندہ حالات میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے، اسلام آباد کو کسی طرف جھکاؤ کیے بغیر سفارت کاری اور ثالثی کرنا ہوگی، اسے خلیجی ممالک سے دیرینہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران سے تیل اور گیس خریداری کے معاہدے بھی کرنا ہوں گے اور تہران سے تعلقات کو مزید مضبوط بھی کرنا ہوگا۔حکومت کو پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ کو توسیع دیتے ہوئے اس میں ایران اور ترکی اور دیگر خلیجی ریاستوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ حالیہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ ان کی حفاظت نہیں کرسکتا۔ چین اور روس کو ساتھ ملا کر خطہ میں ایک مضبوط بلاک کا قیام ناگزیر ہوگیا ہے جو انسانیت دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرسکے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کے معاہدہ کو جس طرح لبنان اور غزہ میں جنگ بندی سے مشروط کیا ہے وہ قابل اطمینان ہے۔ تاہم جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل نے لبنان پر بمباری کی ہے، امریکی صدر اس پر اسرائیل سے وضاحت لے اور بجائے صہیونی ریاست کے تہران کا ساتھ دے۔


