میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ویب ڈیسک
اتوار, ۵ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی
پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز کرنے کی یقین دہانی، توانائی کی بچت کیلئے سخت اقدامات زیرِ غور

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں توانائی شعبے کو 830 ارب روپے سے زائد سبسڈی نہ دی جائے، آئی ایم ایف نے مالی سال 2031ء تک پاور سیکٹر گردشی قرض کو مکمل ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا، اس کے علاوہ توانائی شعبے کو دی جانے والی سبسڈی میں سالانہ بنیادوں پر بتدریج کمی کی ہدایت کی گئی۔سرکاری دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026؍27ء میں بجلی کے شعبے میں گردشی قرض بہاؤ کو صفر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، حکومت نے آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، اصلاحاتی پیکج کے تحت بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی، پاور سیکٹر میں نجکاری اور گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات شامل ہیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا نجی انتظام میں منتقلی 2027ء کے اوائل تک متوقع ہے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے ملک میں جاری توانائی کے بحران اور اس کے بجلی کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کا حالیہ بحران صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ اس نے گیس اور فرنس آئل کی فراہمی کو بھی متاثر کیا، ایندھن کی فراہمی میں درپیش ان مسائل کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت بڑھ سکتی ہے جس کا براہِ راست اثر بجلی کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت بجلی کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور عوام کو اضافی بوجھ سے بچانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، توانائی کی بچت کے لیے سخت اقدامات زیرِ غور ہیں جن میں مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں تبدیلی بھی شامل ہے، اس سلسلے میں وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور بچت کے دیگر اقدامات پر جامع مشاورت جاری ہے تاکہ قومی سطح پر ایک متفقہ لائحہ عمل اپنایا جا سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں