خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی
شیئر کریں
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے
مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل تھا اور اہم حکومتی فیصلوں میں ان کا کردار نمایاں سمجھا جاتا تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت سے بتدریج خود کو الگ کرنا شروع کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے کئی سیاسی اور داخلی عوامل کارفرما ہیں، چند ہفتے قبل اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے نہ صرف صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے بلکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم اشارہ قرار دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب عمران خان کی صحت کے حوالے سے ایک مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی شریک تھے، بیرسٹر گوہر کی شرکت پر علیمہ خان نے شدید اعتراض کیا اور اجلاس میں موجود دیگر شرکاء کے نام پوچھے، اس موقع پر بیرسٹر گوہر کی جانب سے سہیل آفریدی کا نام لیے جانے پر صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد دونوں کے درمیان فاصلے واضح طور پر بڑھتے گئے۔مزید بتایا جاتا ہے کہ ان اختلافات کی بنیاد کابینہ کی تشکیل کے مرحلے میں پڑی جب علیمہ خان کی ہدایت پر وزیراعلیٰ نے شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی اور اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ کو صوبائی کابینہ میں شامل کیا بعد ازاں مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے علیمہ خان کی ہدایات کا ذکر کیا جاتا رہا، جس سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا اور معاملہ مزید حساس ہوگیا۔سیاسی مبصرین اور ذرائع کے مطابق پارٹی ورکرز اور رہنماوں کی بڑھتی ہوئی تنقید سے بچنے اور ممکنہ حکومتی ناکامیوں کا بوجھ اپنے اوپر نہ لینے کے لیے علیمہ خان نے حکومتی معاملات سے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا ، یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں وہ صوبائی حکومت کے امور سے دور دکھائی دیتی ہیں۔


