میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

ویب ڈیسک
هفته, ۲۸ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے دہلی کی ایک خصوصی عدالت کی جانب سے سینئر حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اورناہیدہ نسرین کو 30،30سال قید کی سزا سنائے جانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسوسناک اور آزادی پسند کشمیری رہنماؤں کے خلاف مودی حکومت کی سیاسی انتقام کی کارروائیوں کا حصہ ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا کہ یہ فیصلہ کشمیری آزادی پسند قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے بھارت کی طرف سے عدلیہ اور تحقیقاتی اداروں کے غلط استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) طویل عرصے سے آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کے لیے جو دہلی کی تہاڑ جیل میں آٹھ سال سے زیادہ عرصے سے نظربند ہیں، عمر قید کی سزا کا مطالبہ کررہا تھا۔ آسیہ اندرابی کے شوہر محمد قاسم فکتو کو بھی 2003 میں ایک من گھڑت مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ 25 سال سے زیادہ عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی پھانسی اور محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور ڈاکٹر فکتو جیسے رہنماؤں کی عمر قید کو عدالتی تاریخ کا ایک سیاہ باب قراردیتے ہوئے کہاکہ کشمیری رہنماؤں سے متعلق مقدمات میں بھارتی عدلیہ کا کردار ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ افضل گورو کے کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے شواہد نہ ہونے کا اعتراف بھی کیا لیکن بھارتی معاشرے کے نام نہاداجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے موت کی سزا کو جائز قرار دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کشمیریوں کو پھانسیوں، عمر قید کی سزاؤں یا طویل نظر بندیوں کے ذریعے خاموش نہیں کر اسکتا۔ اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں اوروہ اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کے لئے پرعزم ہیں اور اس کے منطقی انجام تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔یہ فیصلہ ایک بدعنوان عدالتی نظام کو بے نقاب کرتا ہے جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے معیارات کو نظر انداز کرتا ہے جن میں منصفانہ ٹرائل کا حق، مناسب عدالتی کارروائی اور بلاجواز نظربندی کے خلاف تحفظ شامل ہے۔ متاثرہ خواتین کو مناسب دفاع کا موقع فراہم نہ کرنے سے پورا قانونی عمل ناقص اور غیر منصفانہ بن جاتا ہے۔ سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے معروف کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو بھارتی حکومت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائے جانے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ آسیہ اندرابی کو دی جانے والی سزا بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے عالمی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت کو دبانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اختیار کرنا قابل مذمت اور قابل تشویش ہیں۔کشمیری عوام کی جائز جدوجہد آزادی کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوششیں نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہیں۔ آسیہ اندرابی سمیت دیگر حریت رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور سزائیں سیاسی انتقام کی واضح مثال ہیں۔
آسیہ اندرابی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ایک خاتون سیاسی رہنما اور دختران ملت کی بانی لیڈر ہیں ۔ وہ کشمیر ی علیحدگی پسند ہیں۔ وہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی ہیں۔ زندگی کا کافی حصہ وہ بھارتی جیلوں میں گزار چکی ہیں۔ آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی بانی ہیں۔ دختران ملت کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کے لیے کام کرنے والی آل پارٹیز حریت کانفرنس کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد کشمیر کی بھارت سے علیحدگی ہے۔ آسیہ اندرابی کشمیر علیحدگی پسند خواتین میں سب سے اہم ہیں۔ اْن کے حمایت کرنے والے انھیں آئرن لیڈی کہتے ہیں۔
آسیہ اندرابی 1962ء میں پیدا ہوئیں۔ آسیہ اندرابی نے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کیا۔ اور کشمیر یونیورسٹی سے عربی میں پوسٹ گریجویٹ کیا۔ بعد ازاں اس نے کشمیر میں بھارتی قبضہ کے خلاف مزاحمت کو اپنا مقصد بنا لیا، وہ کشمیر میں علیحدگی پسند خواتین میں سب سے نمایاں اور اہم ہیں۔ آسیہ اندرابی کی شادی 1990ء میں کشمیری حریت پسند تنظیم حزب المجاھدین کے بانی رکن قاسم فاکتو سے ہوئی۔ ان کے خاوند 1992ء سے جیل میں قید ہیں۔ آسیہ اندرابی پہلے سے ہی کشمیر میں ایک بڑی خواتین جہادی تنظیم کی سربراہ کے طور پر مشہور تھیں۔ وہ اس تنظیم میں شامل خواتین کو ‘دختران ملت کی سپاہ’ کے نام سے تعبیر کرتی ہیں۔آسیہ اندرابی نے کشمیر کی وادی میں کئی مظاہروں میں حصہ لیا۔ وہ 2010ء میں "مسرت عالم” کی ریلی حمایت کرنے کے لیے زیادہ مشہور ہے جس کے لیے اس نے اپنا دختران ملت کا نیٹ ورک کشمیر بھر میں ریلیاں نکالنے کے لیے استعمال کیا ۔25 مارچ 2015ء کو آسیہ نے کشمیر میں پاکستان کا قومی ترانہ گاتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرایا۔ بعد ازاں انھوں نے پاکستان کے قومی دن پر سرینگر میں بھی پاکستانی پرچم لہرایا۔ آسیہ اندرابی نے وادی کشمیر کی سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔12 ستمبر 2015ء کو حریت پسند رہنما سیدہ آسیہ اندرابی نے ایک گائے ذبح کرکے اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا۔ 28 اگست 2010ء کو جموں و کشمیر کی پولیس نے ان کو مبینہ طور پر انڈیا کے خلاف تحریک چلانے اور تشدد پر ابھارنے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ۔ 17 ستمبر 2015 کو اس کے خلاف مختلف مقدمات درج کر کے دوبارہ اسے گرفتار کر لیا گیا جن میں پاکستانی پرچم لہرانے اور پاکستان سے ٹیلیفونک رابطے رکھنے کا الزام بھی شامل تھا۔ آسیہ اندرابی کو خراب حالت میں سرینگر رام باغ وومین پولیس اسٹیشن بھیجا گیا۔ عدالت نے اس کی ضمانت منظور کر لی لیکن اس کے باوجود اسے پھر سے گرفتار کر لیا گیا اور کشمیریوں نے اس کی گرفتاری پر احتجاج کیا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں