سندھ بلڈنگ، فلک ناز پراجیکٹ،فائر سیفٹی کی سنگین خلاف ورزیاں
شیئر کریں
عدیل قریشی کی ملی بھگت ، انہدامی کارروائی روکنے کا انکشاف ،مکین خطرے میں
بلڈنگ قوانین و قواعد پامال ، کرپشن کے الزامات، اعلیٰ حکام سے نوٹس کا مطالبہ
گلستان جوہر بلاک 33، سیکٹر 30میں واقع 12 منزلہ فلک ناز میں فائر سیفٹی اور ہنگامی اخراج کے انتظامات میں سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی کی مبینہ ملی بھگت سے عمارت کو انہدامی کارروائی سے تحفظ دیا گیا۔عمارت میں فائر الارم غیر فعال، خود کار آگ بجھانے کا سسٹم بے کار، ایمرجنسی ایگزٹ تنگ اور مسدود ہیں۔ منظور شدہ نقشے سے تین اضافی منزلیں غیر قانونی تعمیر کی گئیں، جبکہ فائر فائٹنگ کے لیے مطلوبہ 20ہزار گیلن کا ٹینک موجود نہیں۔ ایس بی سی اے کی انفورسمنٹ ٹیم نے 2025تا 2026متعدد رپورٹس میں عمارت کو ’’انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیا، تاہم عدیل قریشی نے اعلیٰ حکام کو گمراہ کن رپورٹس دے کر کارروائی روک دی۔ الزام ہے کہ انہوں نے مالکان کو قبل از وقت انہدامی کارروائیوں کی اطلاع بھی فراہم کی۔متاثرہ مکینوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست (نمبر 2026/123) دائر کر کے عمارت کو فوری طور پر سیل کرنے اور ذمہ دار افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے ۔ماہرین کے مطابق خلاف ورزیوں کی موجودہ صورت میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی نقصان کا خطرہ 90 فیصد سے زائد ہے ۔ عمارت کو شہریوں کے لیے ’’ٹائم بم‘‘ قرار دیا جا رہا ہے ۔اتھارٹی کے ایک افسر کے مطابق عدیل قریشی کے خلاف پہلے بھی شکایات موصول ہوئیں مگر سیاسی و بیرونی دباؤ کی وجہ سے کارروائی نہ ہو سکی۔عدالت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ازخود نوٹس لے کر مکینوں کی جان بچانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظیر قائم کرے ۔


