میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

ویب ڈیسک
پیر, ۱۶ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ
229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان

آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کی گئی کارروائیوں میں 684 دہشتگرد ہلاک جبکہ 912 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں کی 252 پوسٹیں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 پوسٹوں پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائیوں کے دوران 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کی گئیں۔ بیان کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے 73 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ وزارت اطلاعات نے بتایا کہ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں سمیت فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایک تکنیکی معاونت کا مرکز اور اسلحہ و سازوسامان کے ذخیرے کی تنصیب بھی تباہ کر دی گئی، جسے افغان طالبان اور دہشتگرد پاکستان کے معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ اسی کارروائی کے دوران قندھار میں ایک سرنگ کو بھی تباہ کر دیا گیا جس میں افغان طالبان اور دہشتگردوں کے تکنیکی آلات اور دیگر سامان رکھا گیا تھا۔ مزید برآں چترال سیکٹر میں زمینی افواج نے افغانستان کی بدینی پوسٹ پر قائم دہشتگردوں کے لانچ پوائنٹ کو بھی تباہ کردیا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف ان تنصیبات اور دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا جو افغانستان کی سرزمین سے دہشتگردی کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت کر رہے تھے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ کارروائیوں کے دوران کسی شہری آبادی یا سول انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا جبکہ افغان عبوری حکومت کے بعض عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے اس حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں