آٹھ ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالرسے بڑھ گیا
شیئر کریں
پاکستان کے معاشی منتظمین بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اہم معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، جن میں بڑھتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر، مستحکم کرنسی، قابو میں مہنگائی اور گزشتہ سال حاصل ہونے والا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس شامل ہیں۔
تاہم اعداد و شمار اور عوامی رائے کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو ایک زیادہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ معاشی منتظمین کی جانب سے معاشی بہتری کے دعوؤں کی حقیقت برآمدات اور درآمدت سے متعلق سرکاری طورپر فراہم کئے جانے والے اعدادوشمار سے عیاں ہوتی ہے۔
بیرونی تجارت سے متعلق حکومت کے فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ جولائی تا فروری کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر کی دہلیز پار کر چکا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے کے دوران ہماری برآمدات 20.46 ارب ڈالر تک محدود رہیں اور درآمدات 45.50 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔
اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں ہمارا تجارتی خسارہ25 فی صد زیادہ ہے۔ یہ قرض محض ہندسوں کا نہیں، یہ ابھی ابتدا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے جو پیغام آ رہا ہے، اس کی روک تھام کیلئے فوری اقدام نہ کئے گئے تو 25 ارب ڈالر سے بڑا سرخ طوفان آ سکتا ہے کیونکہ خلیجی ممالک پاکستان کے لیے صرف تیل کے کنویں نہیں بلکہ برآمدات کے دروازے بھی ہیں۔ پاکستان پٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ اگرچہ متبادل سمندری راستے سے درآمد کرتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی سطح پرخام تیل کی قیمت میں چند ڈالر کا بھی اضافہ ہمارے لیے اربوں ڈالر کے برابر ہوگا۔ اس کے علاوہ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھتی ہے اور پھر کرایہ بڑھ جاتا ہے جس کے ساتھ ہی ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہو ناناگزیر ہے، اس طرح آبنائے ہرمز کی لہروں کی بلندی سے متاثر ہو کر پاکستان میں مہنگائی کی لہر آسمان سے باتیں کرتی نظر آسکتی ہے۔
پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی بھی اسی سمندری راستے سے جڑی ہوئی ہے۔ وہاں اوور ٹائم کم ہونے کی صورت میں نوکری ختم ہو جانے کی صورت میں وطن بھیجے جانے والی رقوم میں کمی آ سکتی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس رقم میں 10 فی صد کمی بھی 3 سے 4 ارب ڈالر کی کمی لا سکتی ہے۔ اسی طرح ان ملکوں سے جو آرڈرز آنے ہیں یا آ چکے ہیں ان کی منسوخی کا پیغام بھی برآمدات کو سخت ترین دھچکا پہنچا سکتا ہے۔بعض اندازوں کے مطابق خلیجی ریاستوں کو بھیجی جانے والی برآمدات میں 10 فی صد کمی آئے تو بھی ڈھائی سے 3 ارب ڈالر کا دھچکا لگ سکتا ہے اور برآمدات مزید سکڑ سکتی ہیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدات کی مالیت برآمدات کی مالیت سے دگنی یا تگنی کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔ یہ سب مل کر 25 ارب 4 کروڑ ڈالر کے تجارتی خسارے کو ایک عدد سے بڑھا کر معاشی طوفان کی شدت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس قسم کے معاشی بحرانوں سے پاکستان اس لیے زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ ملک کی برآمدی صورتحال انتہائی نازک ہے۔
آبنائے ہرمز کے راستوں کے علاوہ دیگر بہت سے ممالک بہت سی سمندری گزرگاہیں ایسی ہوں گی جہاں سے پاکستان کے برآمدی جہازوں کا گزر نہ ہوا ہوگا، انھیں تلاش کرنا ہوگا اور ہمیں اپنی برآمدات پر بہت زیاد توجہ دیتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔حکومت کو چاہیے کہ برآمدات میں اضافے کے لیے فوری طور پر تاجروں کی میٹنگ بلائے کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی ریاستوں کی مجموعی صورت حال فی الوقت پاکستان کے تجارتی خسارے اور کم ہوتی ہوئی برآمدات کو مستقبل قریب میں خراب کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ تاجروں اور حکومت کی ایک دن کی بھرپور میٹنگ کراچی میں بلائے کیونکہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے۔ مقصد واضح ہے ہرمز کے علاوہ دیگر تجارتی راستوں کی تلاش۔ ہرمز کا دباؤ ختم نہیں ہو سکتا لیکن اثرات بہت حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ آئندہ کے لیے 25 ارب ڈالر کے خسارے کو کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کی ایک کوشش ہوگی۔حکومت کو چاہیے کہ تاجروں کو اس حوالے سے درست معلومات فراہم کرے۔ برآمدات کے نئے راستے نئے ممالک میں برآمدات بڑھانے کی خاطر وہاں کے سفارتخانوں کو کیسے فعال کرنا ہے، ان ملکوں میں تاجروں کو جا کر کیسے کام کرنا ہے، مالی تحفظ کے لیے حکومتی کارکردگی کیا ہوگی، تاجروں کا کام ہے کہ وہ حکومت کو بتائیں کہ اس صورت حال میں انھیں حکومت سے کس طرح کا تعاون درکار ہے اور حکومت کو اس کیلئے کیا اقدام کرناہوں گے۔نئے راستے، نئی سوچ، نئی برآمدات اس قسم کی تقریب ایک دن والی نہیں بلکہ پاکستان کی برآمدات کی نئی صبح کی امید ہوگی۔ موجودہ صورت حال ہمارے معاشی ماہرین کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہونی چاہئے ،اور انھیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اب ہمیں فرضی اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں اور برآمدی خسارے کی گونج سے نکلنا ہوگا۔ نئی راہیں تلاش کرکے برآمدی خسارے کو ہرحال میں بدلنا ہوگا۔ ہرمز کی لہریں ہمیں آگاہ کر رہی ہیں کہ وہاں کا ہلکا سا ارتعاش کراچی کی بندرگاہ تک پہنچ رہا ہے اور یہ تجارتی خسارہ اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ہرمز دور کی محنت، ہر تاجر کی فکر، ہر صنعتی کارخانے کی دھڑکن میں محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان کو زبردست طریقے سے مضبوط ترین معیشت بنانا ہوگا تاکہ کسی قسم کے خدشات سے چھٹکارا ممکن ہو۔
امریکہ ایران کشیدگی ہمارے لیے ایک چھپا ہوا پیغام ہے جس سے ہم نظریں نہیں چرا سکتے لہٰذا پاکستان کی برآمدات کو ہر ممکن طریقے سے دگنا سے تین گنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہرمز کی لہروں سے اٹھتا ہوا 25 ارب ڈالر کا سرخ طوفان سمندر میں ہی رک جائے۔ اس کا رخ موڑنے کیلیے حکومت اور تاجروں کو مل کر ایسا لائحہ عمل بنانا ہوگا کہ ہم خسارے سے نکل آئیں۔
ہمارے ماہرین معاشیات کو سمجھ لینا چاہئے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتا ہوا تنازعہ ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹس) کی کمزوریوں کو مزید آزمائش میں ڈال سکتا ہے، کیونکہ پاکستان درآمدی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کے باعث معیشت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے انتہائی حساس ہے۔ اگر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے تو ہمارے ماہانہ درآمدی بل میں تقریباً 30 کروڑ ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح کا اضافہ فوری طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھا دے گا اور زرِ مبادلہ کے ذخائر اور شرحِ تبادلہ پر دوبارہ دباؤ ڈالے گا۔یہ بات توقع کے عین مطابق ہے کہ سخت معاشی حالات سرمایہ کاروں اور عوام کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایک نئے سروے کے مطابق صرف ہر 4 میں سے ایک یعنی صرف 25 فیصد پاکستانی حکومت کے ان دعووں پر یقین رکھتے ہیں کہ معیشت مضبوط ہے، جبکہ اکثریت اسے کمزور قرار دیتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات مستقبل کے بارے میں اعتماد کی کمی ہے۔ بمشکل ایک تہائی افراد کو امید ہے کہ اگلے 6ماہ میں معاشی حالات بہتر ہوں گے، جبکہ صرف 16 فیصد نے سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا۔لوگوں کی یہ مایوسی قابلِ فہم ہے۔ بہت سے گھرانوں کے لیے پالیسی سازوں کی جانب سے بیان کی جانے والی معاشی ‘‘استحکام’’ کی صورتحال ابھی تک کسی حقیقی ریلیف میں تبدیل نہیں ہوئی۔ غربت کی سطح میں اضافہ ہوا ہے، روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں اور معاشی بحالی کے فوائد یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔اس وقت ہمارے پالیسی سازوں کو دوہرا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف انہیں بیرونی شعبے کے خطرات کا انتظام جاری رکھنا ہوگا، جن میں غیر مستحکم توانائی کی قیمتیں اور کمزور زرِ مبادلہ کے ذخائر شامل ہیں۔ دوسری طرف انہیں ایسے بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ دینی ہوگی جو سرمایہ کاری کو راغب کریں، برآمدات میں اضافہ کریں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔ جیسے جیسے ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگا یہ محاذ آرائی پورے مشرق وسطیٰ میں میں شدت اختیار کر تی جائے گی ، اس خطے میں بڑھتا ہوا عدم استحکام اب پاکستان کے لیے صرف ایک جغرافیائی سیاسی تشویش نہیں رہا؛ بلکہ اس کے نازک معاشی ڈھانچے پر اس کے ٹھوس اثرات پڑنے لگے ہیں۔چونکہ تمام اشارے ایک طویل تنازع کی طرف جا رہے ہیں، اس لیے مسلسل علاقائی عدم استحکام کے امکانات اس معاشی بحالی کے تاثر کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں جسے حکومت اکثر اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے۔
اسلام آباد بظاہر توانائی کی فراہمی کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کر رہا ہے، لیکن اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو اصل امتحان مالیاتی لچک اور بیرونی کھاتوں کے استحکام کا ہوگا۔ اگرچہ بلا تعطل توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا نہایت اہم ہے، لیکن پاکستان کی کمزوری اس سے بھی زیادہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیز اضافے سے جڑی ہوئی ہے۔ معیاری برنٹ کروڈکی قیمت میں 17 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کے دوران 68 فیصد تک بڑھ گئی ہیں، جس سے درآمدی بل اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔توانائی کی قیمتوں میں اس اضافے نے گزشتہ4 سال پہلے کے اس خوفناک منظر کی یاد تازہ کر دی ہے جب روس کے یوکرائن پر حملے کے بعد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا تھا۔
تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافے سے سالانہ درآمدی اخراجات میں تقریباً 1.5 سے 2 ارب ڈالر تک اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے بیرونی مالیاتی خلا تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔ توانائی کی زیادہ قیمتیں خوراک اور دیگر اجناس کی درآمدات کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، جس سے ملک کے محدود زرِمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا، جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے ہی 7 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ ترسیلاتِ زر میں ممکنہ رکاوٹ ایک اور بڑا خطرہ ہے۔ یہ رقوم طویل عرصے سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو پورا کرنے میں مدد دیتی رہی ہیں جبکہ برآمدات جمود کا شکار ہیں، اور اگر کوئی طویل تنازع ان ترسیلات کو متاثر کرتا ہے تو پہلے ہی کمزور ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال مزید دباؤ میں آ جائے گی۔ خطے کو کی جانے والی برآمدات پر بھی اس تنازع کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر، پاکستان جیسی نازک معیشت کے لیے ایک جامع معاشی ہنگامی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اگرچہ اسلام آباد خطے میں جنگ کے معاشی اثرات کو مکمل طور پر روکنے کے قابل نہیں، لیکن ایک مؤثر ہنگامی منصوبہ خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ایران سے جڑی عدم استحکام یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی معاشی لچک اب بھی کمزور ہے۔ توانائی کی درآمدات پر انحصار، محدود برآمدی بنیاد اور ترسیلاتِ زر پر بھاری انحصار معیشت کو سرحدوں سے باہر پیدا ہونے والے جھٹکوں کے سامنے بے حد کمزور بنا دیتے ہیں۔
٭٭٭٭


