میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے!

ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے!

ویب ڈیسک
هفته, ۷ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

جاوید محمود
۔۔۔۔۔
امریکہ سے

برطانیہ نے ایران امریکہ جنگ چھڑنے کے بعد اپنے اپ کو اس سے دور رکھا ہوا تھا ،ایران نے عرب ممالک میں امریکن اڈوں کو میزائل سے نشانہ بنانا شروع کیا تو اس کو جواز بنا کر برطانیہ اس جنگ میں کود پڑا۔ برطانیہ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کے سلسلے میں امریکہ کو اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے جس پر یہ بحث چھڑ گئی کہ تہران کو اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے کیا حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ موجودہ تنازع ثابت کر دے گا کہ وہ اپنے اس اتحادی کی مدد کے لیے کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں ۔روسی حکومت نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کے باوجود صورتحال کھلی جارحیت میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ماسکو ایرانی قیادت اور اس ساری کشیدگی سے متاثرہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی مذمت کی ہے اور اسے سیاسی قتل اور خود مختار ریاستوں کے رہنماؤں کا شکار قرار دیا ہے۔
پیوٹن نے ایران کے رہبر اعلیٰ ایت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ایرانی ہم منصب کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا جس میں اسے انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی مذموم خلاف ورزی قرار دیا گیا، اس کے باوجود کریملن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید سے گریز کرتا نظر آرہا ہے اور اب بھی یوکرین کے معاملے پر ثالثی کی کوششوں کے لیے امریکہ کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ روس کی ایران کے لیے حمایت بڑی حد تک بیان بازی تک محدود کیوں ہے؟ حالانکہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے تہران ماسکو کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک بن چکا ہے ۔ ایران روس کو ڈرون سپلائی کر رہا ہے اور ماسکو کو مغربی پابندیوں سے بچنے کے طریقے اختیار کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ ایران روس کے اس عالمی منظر نامے میں بھی ٹھیک بیٹھتا ہے جس میں طاقت کے محور ایک سے زیادہ ہوں، جہاں ریاستی حقوق انسانی حقوق سے زیادہ اہم ہوتے ہوں اور حکومتیں ملک کے اندر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں ۔ایسی کسی بھی حکومت کا زوال روس کے اس عالمی منظر نامے کے لیے ایک دھچکا ہوگا لیکن کریملن پہلے ہی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے لیے زیادہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں، چاہے وہ ونیزویلا کا معاملہ ہو یا شام کا یا گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12روزہ جنگ ۔روس بہت بُرے طریقے سے یوکرین جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ سفارتی بیانات اور فوجی ٹیکنیکل تعاون سے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔ 17 جنوری 2025 کو ایران اور روس کے درمیان ہونے والا اسٹریٹیجک شراکت داری کا معاہدہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے کچھ ہی کم ہے۔ ماسکو اور تہران نے معلومات کی تبادلے مشترکہ مشقیں اورعلاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کا عہد کیا ہے۔ تاہم حملے کی صورت میں انہوں نے ایک دوسرے کا دفاع کرنے کا وعدہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی معمولی ہیں اور تجارت میں محض چار سے پانچ ارب ڈالر ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اور صنعتی روابط میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فروری میں فنانشل ٹائمز اخبار کی جانب سے شائع خبر کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑا معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت روس ایران کو 50 کروڑ یورو مالیت کے وریا مین پورٹل ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گا۔ روس اب تک ایران کو یاک 130 تربتی طیارے ایم آئی 28 حملہ آور ہیلی کاپٹرز مہیا کر چکا ہے اور تہران کو جلد پی ایس یو 35لڑاکا طیارے ملنے کی بھی توقع ہے۔ ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے استعمال نے یوکرین جنگ میں روسی افواج کی حکمت عملی کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا لیکن پچھلے سال ماسکو نے تیزی سے مقامی طور پر تیارکردہ ڈرون کی پیداوار کو بڑھایا جس سے ایرانی اداروں پر اس کا انحصار کم ہو گیا ۔ماسکو کے لیے ایران اتنا اہم ہے کہ وہ اسے گرنے نہیں دے سکتا لیکن اتنا بھی اہم نہیں کہ وہ اس کے لیے لڑائی مول لے۔ مستقبل میں یہ صورتحال بدل سکتی ہے لیکن فی الحال روس کی مداخلت محض زبانی جمع خرچ تک محدود رہنے کا امکان ہے ۔
جبکہ دوسری طرف چین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ تاریخی طور پر بیجنگ دنیا بھر میں حکومت کی تبدیلی کی امریکی حکمت عملی کی مخالفت کرتا آیا ہے چین اور ایران کے درمیان مضبوط تعلق کی سب سے بڑی وجہ باہمی فائدہ مند اقتصادی شراکت داری ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور توانائی کا سب سے اہم خریدار ہے۔ ایران پر برسوں سے امریکی پابندیوں کے باوجود بیجنگ تہران کی اقتصادی لائف لائن بنا ہوا ہے ۔بے نام بحری بیڑوں کی مدد سے چین رعایتی قیمتوں پر ایران سے خام تیل کی ایک بڑی مقدار خریدتا ہے۔ تیل کا 80فیصد سے زیادہ خریدا راور چینی خریداریوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بدولت ایران نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے بلکہ دفاعی مقاصد کے لیے اخراجات کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ 2021میں چین اور ایران نے ایک 25 سالہ اسٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کیے جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا ۔اس معاہدے کے تحت چین نے ایرانی انفراسٹرکچر اورٹیلی کمیونی کیشن میں عربوں کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔ تاریخی طور پر ایران اسرائیل اور ایران امریکہ تنازع میں چین کا ہمیشہ سے رد عمل بڑا نپا تلا رہا ہے ۔ماضی میں جب بھی ایران کے حوالے سے کوئی تنازع پیدا ہوا بشمول گزشتہ برس ہونے والی 12روزہ اسرائیل ایران جنگ کے دوران چین نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بیرونی مداخلت کا الزام لگایا جو کہ امریکی پالیسی کی جانب اشارہ ہے۔ ماضی میں ہونے والے ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے تنازعات کے دوران چین ،اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے یا اس سے استعمال کرنے کی دھمکی دے کر تہران کی سفارتی ڈھال بنتا آیا ہے اور اس کے خلاف لائی جانے والی قراردادوں کو ناکام بنایا تاہم چین نے کبھی براہ راست فوجی مداخلت کی پیشکش نہیں کی۔ بیجنگ کی حکمت عملی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ امریکہ کو مشرق میں الجھا کر رکھ دیا جائے ،ساتھ وہ اس بات کا بھی خیال رکھتا ہے کہ اس سارے عمل کے نتیجے میں خطہ مجموعی تباہی کا شکار نہ ہو جائے۔ بصورت دیگر تیل کی عالمی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ تہران میں اگر کوئی مغرب نواز حکومت برسر اقتدار آگئی تو یہ چین کے لیے ایک تباہ کن جغرافیائی سیاسی شکست ہوگی ،کیونکہ تہران نہ صرف چین کی توانائی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے بلکہ سیاسی طور پر خطے میں امریکی مقابلہ کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ایران برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے اور وسطی ایشیا قفقاراور مشرقی وسطیٰ کو جوڑنے والے ایک اہم جغرافیائی کنیکٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ ایرانی حکومت کے گرنے سے یہ کثیر الجہتی میکنزم کمزور پڑ سکتاہے جنہیں ماسکو اور بیجنگ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ایک بھرپور جنگ شروع نہیں کرتے اور ایرانی سرزمین پر اپنے فوجی نہیں بھیجتے ،جب تک وہاں کے سیاسی اور فوجی ڈھانچے کے خاتمے کا امکان کم ہے۔ بیجنگ اپنا معمول کا طویل عرصے کا کھیل، کھیلے گا جس کے تحت وہ اس شخص کے ساتھ تعاون کرے گا جوخامنہ ای کی جگہ لے گا چاہے وہ کوئی بھی ہو، دوسری جانب روس اپنے لیے مواقع تلاش کرے گا ۔موجودہ صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بحران کی صورت میں ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں