میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، گلستان جوہر میں انسانی زندگیاں تعمیراتی مافیا کے ہاتھوںداؤ پر

سندھ بلڈنگ، گلستان جوہر میں انسانی زندگیاں تعمیراتی مافیا کے ہاتھوںداؤ پر

ویب ڈیسک
هفته, ۲۴ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسد خان کے زیر سایہ تعمیراتی دھندا
بلاک 3 پلاٹ نمبر SB 8 پر بینک اور 12 میں خطرناک عمارتوں کی تعمیرات

شہر قائد کے رہائشی علاقے گلستان جوہر میں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دو افسران بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسد خان پر تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ اور ہزاروں شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے سنگین الزامات عائد ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ان افسران کی سرپرستی میں علاقے کے بلاک 3 میں پلاٹ نمبر SB 8 پر کمرشل بینک کی تعمیر اور بلاک 12 میں متعدد غیر قانونی، بلند اور حفاظتی ضوابط سے عاری عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہیں۔مقامی رہائشیوں، سماجی کارکنوں اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایس بی سی اے کے افسر تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت کر رہے ہیں۔ گلستان جوہر میں کئی منزلہ عمارتیں بغیر کسی منظور شدہ نقشے کے تیزی سے بن رہی ہیں۔ان تعمیرات میں بنیادی حفاظتی سہولیات کا فقدان ہے ۔ہنگامی اخراج کے راستوں کی مکمل غیر موجودگی، فائر سیفٹی سسٹم نہ ہونا، پارکنگ اور اوپن اسپیس کی ضابطہ خلاف ورزیاں شامل ہیں ،بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف ان خلاف ورزیوں کو نظرانداز کر رہے ہیں، بلکہ ان غیر قانونی تعمیرات کو جاری رکھنے کے لیے انہی کی سرپرستی حاصل ہے ۔نام ظاہر نہ کرنے والے ایک مقامی ٹھیکیدار کے مطابق، "پیسے کا لین دین ہوتا ہے اور عمارت ایک منزل اور اونچی ہو جاتی ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ اورنگزیب صاحب کو ’حفاظت‘ حاصل ہے۔ یہ ان کا پہلا اسکینڈل نہیں، ان پر ناظم آباد میں پچھلی تعیناتی کے دوران بھی اسی طرح کے تعمیراتی اسکینڈلز میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے بلاک 12 کے رہائشی آصف رضا کا کہنا ہے ، "ہم روزانہ اپنی آنکھوں کے سامنے موت کی بلند ہوتی دیواریں دیکھ رہے ہیں۔کیا ہمیں ایک اور آگ کے حادثے کا انتظار کرنا ہوگا؟رہائشی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ زلزلے یا آگ کی صورت میں انہیں بچانے والا کون ہوگا۔شہری منصوبہ بندی کے ماہر ڈاکٹر عبدالقدوس اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "گل پلازہ سانحہ ہمارے لیے ایک سبق تھا جو ہم نے پڑھا ہی نہیں،ان کی خلاف ورزی محض انتظامی غلطی نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے "۔ان کا مؤقف ہے کہ اگر ادارے کے افسران ہی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالیں گے ، تو نظام کیسے درست ہوگا.گلستان جوہر کے باشعور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ:اورنگزیب علی خان اور اسد خان سمیت ملوث افسران کو فوری معطل کر کے سخت تادیبی کارروائی کی جائے .ان کی تمام مشکوک سرگرمیوں اور اثاثوں کی شفاف تحقیقات ہوں۔گلستان جوہر بلاک 3، 12اور دیگر علاقوں میں جاری تمام غیر قانونی تعمیرات فوری روکی اور منہدم کی جائیں۔ان تعمیرات کے پیچھے موجود تعمیراتی مافیا کے خلاف
سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں