میگزین

Magazine
تازہ ترین : فضل الرحمان کے قریبی رفقا نشانہ، مولانا کی اسلام آباد رہائش گاہ کے مالک کو بھی نوٹس جاری امریکی انتخابات، ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ  کام کرنے کا اعلان تکنیکی اور آپریشنل وجوہات،کراچی ایئرپورٹ پر 8 پروازیں منسوخ ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید الینوائے کی ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب جسٹس منصور کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا بڑا جواب، پی ٹی آئی کے انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کا پنڈورہ باکس کھل گیا ایف آئی آردرج ہونا جرم نہیں، بریت کے بعد ملازمت سے محرومی غیرقانونی قرار، آئینی عدالت امریکا کا سعودی عرب میں سیکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری، غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت ایران: شہریوں کو ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی ہدایات جاری پیٹرول کی قیمت کا کھیل، عالمی منڈی سے پاکستانی پمپ تک، اربوں روپے کس کی جیب میں جاتے ہیں؟ محکمہ اطلاعات، اشتہارات میں من پسند اور کم ریٹنگ والے چینلز پر نوازشیں

ای پیج

e-Paper
جسٹس منصور علی شاہ کی آئینی بینچ کی مدت میں توسیع کی مخالفت

جسٹس منصور علی شاہ کی آئینی بینچ کی مدت میں توسیع کی مخالفت

ویب ڈیسک
اتوار, ۲۲ جون ۲۰۲۵

شیئر کریں

آئینی بنچ میں توسیع سے عدلیہ کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، سینئر جج کاجوڈیشل کمیشن کو خط
26ویں ترمیم سے متعلق فیصلہ کئے بغیر بنچ کی مدت میں توسیع عدلیہ کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے، خط کا متن

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے آئینی بینچ کی مدت میں توسیع کی مخالفت کردی۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں توسیع کے معاملے پر سینئر ترین جج جسٹس منصور کا خط سامنے آگیا۔جسٹس منصور کی جانب سے یہ خط 19 جون کے اجلاس سے پہلے لکھا گیا تھا جس میں انہوں نے آئینی بینچ میں توسیع کی مخالفت کی جب کہ ان کا خط جوڈیشل کمیشن ممبران کو پہنچایا گیا۔ خط کے متن میں کہا گیا کہ 26 ویں ترمیم کے کیس میں فیصلے تک توسیع نہ کی جائے، پیشگی بتا دیا تھا کہ 19 جون کے اجلاس کیلئے پاکستان میں دستیاب نہیں، توقع تھی عدم دستیابی پر اجلاس موخر کیا جائے گا کیونکہ ماضی میں ایگزیکٹو ممبران کی عدم موجودگی پر اجلاس موخر ہوچکا ہے، عدلیہ ممبران اقلیت میں ہیں اس لیے شاید موخر نہیں کر پائے۔خط میں مزید کہا گیاکہ 26 ویں ترمیم فیصلے سے پہلے توسیع اس بحران کو مزید گہراکرے گی، یہ تنازع ادارے کی ساکھ اور اس پر عوامی اعتبار کو تباہ کررہا ہے۔خط کے مطابق 26 ویں ترمیم کے فیصلے تک تمام ججز کو آئینی بینچ ڈیکلیٔر کیا جائے اور آئینی بینچ میں شمولیت کا معیار اور پیمانہ بھی طے کیا جائے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں