میگزین

Magazine
تازہ ترین : فضل الرحمان کے قریبی رفقا نشانہ، مولانا کی اسلام آباد رہائش گاہ کے مالک کو بھی نوٹس جاری امریکی انتخابات، ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ  کام کرنے کا اعلان تکنیکی اور آپریشنل وجوہات،کراچی ایئرپورٹ پر 8 پروازیں منسوخ ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید الینوائے کی ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب جسٹس منصور کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا بڑا جواب، پی ٹی آئی کے انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کا پنڈورہ باکس کھل گیا ایف آئی آردرج ہونا جرم نہیں، بریت کے بعد ملازمت سے محرومی غیرقانونی قرار، آئینی عدالت امریکا کا سعودی عرب میں سیکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری، غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت ایران: شہریوں کو ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی ہدایات جاری پیٹرول کی قیمت کا کھیل، عالمی منڈی سے پاکستانی پمپ تک، اربوں روپے کس کی جیب میں جاتے ہیں؟ محکمہ اطلاعات، اشتہارات میں من پسند اور کم ریٹنگ والے چینلز پر نوازشیں

ای پیج

e-Paper
اینٹی کرپشن ، حیدرآباد ڈائریکٹوریٹ میں معطل انسپکٹر کا سسٹم رائج

اینٹی کرپشن ، حیدرآباد ڈائریکٹوریٹ میں معطل انسپکٹر کا سسٹم رائج

ویب ڈیسک
جمعرات, ۶ جون ۲۰۲۴

شیئر کریں

(رپورٹ :علی نواز)) اینٹی کرپشن ڈپٹی ڈائریکٹوریٹ حیدرآباد کے تمام معاملات معطل انسپکٹر کے حوالے، چیئرمین نے 22 مئی کو آغا حسین کو محکمہ خوراک کے سینیئر افسر کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرنے پر معطل کیا گیا تھا، آغا حسین کا سسٹم ڈائریکٹوریٹ پر قابض، تفصیلات کے مطابق 22 مئی کو چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ نے ڈپٹی ڈائریکٹر آفیس حیدرآباد میں تعینات گریڈ 16 کے انسپکٹر آغا حسین کو محکمہ خوراک کے سینیئر افسر کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرنے پر معطل کرکے ڈائریکٹر انکوائریز ون عبدالشکور ابڑو کو 14 دن میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، دوران معطلی آغا حسین کو چیئرمین آفیس میں رپورٹ کروایا گیا تاہم ڈپٹی ڈائریکٹوریٹ حیدرآباد کے تمام معاملات آغا حسین کے حوالے ہیں، ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن آفیس پر گزشتہ کافی عرصے سے آغا حسین کا سسٹم کا قابض ہے اور حیدرآباد کی اکثر تحقیقات سینیئر اسسٹنٹ ڈائریکٹرز و انسپکٹرز کو سونپنے کی بجائے آغا حسین کو دی جاتی ہیں، ذرائع کے مطابق آغا حسین معطل کے باوجود کام چلا رہا ہے اور تمام تحقیقات بھی کر رہا ہے، ذرائع کے مطابق معطل انسپکٹر نے محکمہ خوراک کے افسران سے بھاری رقم مانگی تھی جس پر مامرہ تلخ کلامی تک پہنچا، ذرائع کے مطابق آغا حسین کی پرائیویٹ بیوٹرز پر مشتمل ٹیم ہے جو کہ جعلی و بے نامی درخواستیں دائر کرتے ہیں جن سے بعد میں ڈیل کی جاتی ہے، ذرائع کے مطابق آغا حسین اینٹی کرپشن آفیس حیدرآباد کے سسٹم کا سرغنہ ہے اور اس کے خلاف ملازمین کی متعدد شکایات بھی موجود ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں