میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایس بی سی اے افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ،44بدعنوان افسران کی فہرست تیار

ایس بی سی اے افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ،44بدعنوان افسران کی فہرست تیار

ویب ڈیسک
جمعه, ۷ جولائی ۲۰۲۳

شیئر کریں

(رپورٹ: آصف سعود) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی سرپرستی میں چلنے والے غیر قانونی تعمیرات کے پٹہ سسٹم کے ایس بی سی اے افسران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، سرکاری اداروں نے پٹہ سسٹم مافیا کا حصہ بننے والے 44 ایس بی سی اے افسران کی فہرست تیار کرلی ہے جبکہ مذکورہ افسران کا 2 سال کے دوران تعیناتی کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انتہائی باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تحقیقاتی اداروں نے عبوری حکومت کے قیام سے قبل سندھ کے تمام سرکاری اداروں میں پیپلز پارٹی حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے تمام پٹہ سسٹموں کے خلاف بھرپور کارروائی کی حکمت عملی تیار کرلی ہے اس حوالے سے سب سے پہلی کارروائی محکمہ ریونیو میں کی گئی ہے جہاں تیمور ڈومکی کے اہم کارندے مرتضیٰ کھوسو کو محکمہ ریونیو کے باہر سے حراست میں لیا گیا ہے اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں چلنے والے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے غیر قانونی تعمیرات کے پٹہ سسٹم کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ذریعے کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ ایک نام نہاد بلڈر فیصل میمن کے ذریعے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں غیر قانونی تعمیرات کا پٹہ سسٹم چلارہے ہیں اور اس پٹہ سسٹم کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی مدد سے چلایا جارہا ہے اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقاتی اداروں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں پٹہ سسٹم چلانے والے ایس بی سی اے افسران کی فہرست تیار کرلی ہے ذریعے کا کہنا ہے کہ مذکورہ فہرست میں پٹہ سسٹم کا مہرہ بننے والے ایس بی سی اے کے 44 افسران کے نام شامل ہیں جن میں حال ہی میں اے ڈی جی بننے والے عبدالحمید زرداری، بنش شبیر، علی غفران، محمد رقیب، علی مہدی کاظمی، آصف رضوی، سمیع جلبانی، نیاز لغاری، عابد شاہ، شہزاد آرائیں، آصف شیخ، سمیع شیخ عرف ڈانسر، ذوالفقار شاہ عرف ڈبل شاہ، نجم قریشی، امیر علی، اخلاق اوڈھو، شہریار شیری، راشد ناریجو، احسن خشک، عمیر ڈایو، شہزاد کھوکھر، فرحان ایوب، سید اویس حسین، اورنگزیب خان، ضیاء کالا، دلیپ کمار، عدیل قریشی، سجاد خسن عرف کوچی، ریاض ملا، آغا جہانگیر، عمران تالپر، کمال احمد عرف موٹا، اسد کالا، طلال مگسی، افتخار، کاشف خان، احسن ادریس، ذوالفقار بلیدی، رضوان آرائیں، خالد آرائیں، محمد امین، ذیشان، مقصود قریشی، ریحان الائچی شامل ہیں۔ اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی اداروں نے مذکورہ ایس بی سی اے افسران کی 2 سال کی تعیناتی کا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے معلوم ہوا ہے کہ ایس بی سی اے کے مذکورہ افسران عرصہ دو سال سے پٹہ سسٹم کا حصہ رہے ہیں اور انہوں نے غیر قانونی تعمیرات کراکے ناصرف قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ شہر کا انفرااسٹرکچر بری طرح تباہ کیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں